امریکہ:7 سالہ پاکستانی نژاد کو حرام کھانے سے انکار پر ساتھیوں نے پیٹ ڈالا ٹرمپ کا امریکہ مسلمانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا، تنگ آکر پاکستان آ گئے: والدین

14 اکتوبر 2016
امریکہ:7 سالہ پاکستانی نژاد کو حرام کھانے سے انکار پر ساتھیوں نے پیٹ ڈالا ٹرمپ کا امریکہ مسلمانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا، تنگ آکر پاکستان آ گئے: والدین

واشنگٹن (نیٹ نیوز+ آئی این پی) امریکی ریاست فلوریڈا میں رہائش پذیر 7 سالہ پاکستان نژاد بچے عبدالعزیز عثمانی کو ساتھیوں نے زبردستی حرام کھانا کھلانے کی کوشش کی اور انکار کرنے پر اس کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا، عثمانی کے والدین مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات سے تنگ آکر امریکہ چھوڑ کر پاکستان آ گئے، اس سے پہلے عبدالعزیز کے بڑے بھائی کو ساتھی سے جھگڑا کرنے پر سکول سے نکال دیا گیا تھا۔ عبدالعزیز عثمانی کے والدین کا کہنا ہے ٹرمپ کا امریکہ مسلمانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا اس لئے انہوں نے پاکستان میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق ذیشان الحسن عثمانی نے بتایا سکول سے گھر واپسی پر وین میں ان کے بیٹے کو دوسرے بچوں نے تشدد کا نشانا بنایا، سکول بس میں موجود 6 سے 7 بچوں نے اس کے چہرے پر مکے مارے اور ہاتھ بھی مروڑ دیا جس کے باعث ان کے بچے کے ہاتھ میں موچ آگئی۔ سکول انتظامیہ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے جبکہ پرنسپل کا کہنا ہے وین میں موجود تمام بچوں کا انٹرویو کیا لیکن بس ڈرائیور سمیت کسی نے واقعہ کی تصدیق نہیں کی۔ بچے کے والد ذیشان الحسن پاکستانی ہیں اور امریکہ میں سافٹ وئیر کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، ذیشان الحسن نے کہا اس سے قبل بھی ان کی فیملی کو پڑوسیوں کی جانب سے مسلمان ہونے پر ہراساں کیا گیا تھا جبکہ ان کے ایک بیٹے کو دہشت گرد بھی کہا جاتا رہا۔
امریکہ / بچہ تشدد