پاکستان قومی اداروں کی تنظیم نو نجکاری‘ ٹیکس وصولی بڑھائے : آئی ایم ایف

14 اکتوبر 2016
پاکستان قومی اداروں کی تنظیم نو نجکاری‘ ٹیکس وصولی بڑھائے : آئی ایم ایف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پروگرام مکمل ہو گیا۔ معاہدے کے مطابق 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی آخری قسط پاکستان کو دے دی۔ پاکستان نے مزید قرضہ لینے کی درخواست نہیں کی۔ تعاون جاری رہے گا۔ سربراہ آئی ایم ایف مشن ہیرلڈ فنگر نے کہا ہے پاکستانی معیشت خطرے سے باہر ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کی ضرورت نہیں۔ زرمبادلہ کی صورتحال مستحکم ہے۔ سی پیک منصوبوں میں شفافیت اور مسابقت کو مدنظر رکھا جائے۔ آئی ایم ایف نے اعلامیہ میں مزید کہا پاکستان کو قومی اداروں کی تنظیم نو یا نج کاری کی ضرورت ہے، پاکستان نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں۔ اس شعبے میں مزید اصلاحات کی جائیں۔ پاکستان میں کاروبار کا ماحول بہتر ہوا۔ مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ قرضوں کا حجم جون 2016ءتک جی ڈی پی کا 65 فیصد تھا۔ قرضوں کا حجم ٹیکس محصولات کا 430 فیصد ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کا حصہ خطے میں سب سے کم ہے۔ پاکستان کو بجٹ سپورٹ کے لئے اضافی وسائل چاہئیں۔ پاکستان کو محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنا چاہئے۔آئی ایم ایف نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے سے پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ پڑے گا، آئی ایم ایف مشن چیف بیرلڈ فنگر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی تاہم ان منصوبوں کو احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ حکومت رواں مالی سال اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گی اور جی ڈی پی کی شرح 5فیصد رہے گی۔ اسحاق ڈار کو جنوبی ایشیاءکے بہترین وزیر خزانہ کے ایوارڈ کے حوالے سے بیرلڈ فنگر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ایسا کوئی ایوارڈ نہیں دیا اور جس میگزین نے یہ بھی ایوارڈ دیا اس کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں۔
آئی ایم ایف