تیری یاد نے قائم رکھی اشکوں کی تاثیر حسینؓ

14 اکتوبر 2016

پیپلز پارٹی کے رہنما عامر حسن نے 10 محرم کو جناح پارک سمن آباد میں نیاز حسینؓ کے لئے ایک اکٹھ کیا۔ جس میں شعبہ سنی سب مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس کا گھر امن گھر کے نام سے موسوم ہے۔ اماموں کے امام حسین نے امن عالم کے لئے جان قربان کی۔ میرے خیال میں یہ جنگ نہ تھی۔ یہ ایک پیغام انسانیت کے لئے تھا کہ ہم امن عالم کے لئے جان بھی قربان کر سکتے ہیں۔ عامر نے نیازِ حسین تقسیم کی۔ جو گیا اس کی خاطر مدارات کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے لوگ زیادہ تھے۔ معروف لوگوں میں سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ تھے۔ اعتزاز احسن کے لئے بھی سنا ہے کہ وہ تشریف لائے۔ ہم بھی گئے جس کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ تھا۔
ہم سوشلسٹ نہیں ہیں مگر بھٹواسٹ ضرور ہیں۔ بینظیر بھٹو میرے ساتھ بہت تعلق خاطر رکھتی تھیں۔ جب وہ اقتدار میں نہ تھیں تو میں نے ان کے لئے خوب لکھا۔ جب آصف زرداری جیل میں تھے تو ہم نے بہت کالم لکھے۔ ان پر مقدمہ کرو۔ اگر قصوروار ہیں تو جیل بھیجو ورنہ رہا کرو۔ قصور ثابت ہونے سے پہلے جیل کاٹنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ان صاحب نے بہت خوشدلی اور بے خوفی سے جیل کاٹی۔ میرے مرشد اور بزرگ مولانا عبدالستار خان نیازی کہتے تھے۔ جیل میرا سسرال ہے۔ سسرال میں بہت خدمت ہوتی ہے۔
میں نے کالم لکھے کہ فیصلہ کرو۔ اس کی بہت قدر زرداری صاحب کے دل میں تھی۔ جب وہ جیل سے ایوان صدر پہنچے تو ان کے ساتھ میرا رابطہ تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ وہ کامیاب صدر ہیں کہ انہوں نے اپنی مدت اقتدار پوری کی۔ اب بلاول بھٹو زرداری کو اپنے نام کی لاج رکھنی چاہئے۔ بھٹو صاحب اور زرداری صاحب کی سوچ کو ساتھ لے کے آگے جانا چاہئے۔ لگتا ہے وہ بہت آگے جائیں گا۔
جب ضمانت پر رہا ہو کر عدالت سے زرداری صاحب نکل رہے تھے تو ان کے ہاتھ میں ’’نوائے وقت‘‘ تھا۔ جس میں ان کے لئے میرا کالم شائع ہوا تھا۔ میرے مرشد و محبوب مجید نظامی نے زرداری صاحب کو مرد حُر کہا تھا۔ یہ بہت بڑا انعام تھا جسے زرداری صاحب نے صدر زرداری ہو کر بھی اپنے دل میں رکھا۔ مجھے یاد ہے کہ زرداری صاحب کی صدر کی حیثیت سے حلف وفاداری میں مجید نظامی شریک ہوئے تھے۔ زرداری صاحب نے صرف ایک شخص کا ذاتی طور پر خیرمقدم کیا تھا۔ وہ عظیم ترین صحافی اخبار نویسوں کے لیڈر مجید نظامی تھے۔ میں ان کے ساتھ تھا۔ ان کے بعد ’’صدر‘‘ زرداری نے بڑے وقار اور اعتبار کے ساتھ پانچ سال ایوان صدر میں گزارے۔
مجھے دس محرم کو شہید ڈاکٹر شبیہ الحسن ہاشمی یاد آتے ہیں۔ وہ بہت دوست تھے۔ کسی کے دشمن نہیں تھے۔ انہیں جس نے مارا کاش اسے ہوتا کہ وہ کس کو مار رہا ہے۔ میرے خیال میں اچھا آدمی وہی ہے جس کیلئے عمر بھر پتہ نہ ملے کہ وہ شیعہ ہے یا سنی۔
قائداعظم کے بارے میں بہت خبریں اڑائی گئیں کہ وہ شیعہ ہیں۔ ان سے پوچھا گیا تو ان کا جواب یقین و ایمان، عشق اور عشق رسولؐ سے بھرا ہوا تھا۔ قائداعظم نے اپنے جواب کو ایسا سوال بنا دیا جس نے سوال کرنے والے کو لاجواب کر دیا ’’آپ بتائیں کہ رسول کریم حضرت محمدؐ شیعہ تھے یا سنی تھے۔ کیا مسلمان ہونا کافی نہیں ہے ہم کیا ہیں ہم مسلمان ہونے کے علاوہ بہت کچھ ہیں۔ ڈاکٹر شبہیہ الحسن ہاشمی مجھے یاد آتے ہیں۔ 10 محرم کو تو خاص طور پر یاد آتے ہیں۔ وہ صبح سویرے دروازے پر کھڑے ہوتے تھے ۔ ساتھ حلیم کا بہت بڑا برتن ہوتا۔ ہم کیسے لوگ ہیں کہ حلیم کھانے کے بعد بھی حلیم و بطع نہیں ہوتے۔ وہ غم حسین کی حقیقتوں کو جاننے والے سچے اور اچھے آدمی تھے۔ دوستیوں کو نبھانے والا ایسا آدمی اب کب آئے گا۔
اس دوران 10 محرم کو مجھے ایک کتاب ملی ’’کتاب شہداء کربلا‘‘ حضرت علامہ الحاج پیر محمد عبدالصبور بیگ منشور ہزاروی نے لکھی ہے یہ ایک آدمی کا نام ہے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں ہے مگر کتاب پر اگر صرف پیر محمد عبدالصبور بیگ ہوتا تو کافی تھا۔ کتاب لکھتے ہوئے انہوں نے بہت محنت سے کام لیا ہے اور بڑی دلسوزی کے ساتھ تمام کہانی کو بیان کیا ہے۔ یہ لازوال قربانی کی کہانی ہے اس کا عنوان ہر زمانے میں بدلتا رہا ہے
عجیب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
ہم ذکر حسین سے اپنی روحوں کو بے قرار اور سرشار کرتے ہیں اور ہم اسماعیل کی قربانی کا دن بھی مناتے ہیں اور اسے بقر عید کہتے ہیں۔ غم میں غیر محسوس طریقے سے ایک لطف بھی ہوتا ہے۔ جسے ہم لذت گریز کہتے ہیں۔ جو رونے کا مزا نہیں لے سکتا وہ جینے کا لطف بھی نہیں اٹھا سکتا۔ میرا ایک شعر ہے
کب کی بھول چکے ہوتے ہم عادت مل کر رونے کی
تیری یاد نے قائم رکھی اشکوں کی تاثیر حسینؓ
رونا ضروری ہے۔ بے سبب بھی رونا چاہئے۔ حضور کریمؐ نے فرمایا۔ لوگو رویا کرو رو نہیں سکتے تو روتے ہوئے لوگوں جیسی شکل بنا لو۔ رونے سے دل میں گداز پیدا ہوتا ہے۔ رسول کریمؐ رویا کرتے تھے کہ آپؐ کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگ جاتی تھی۔