وزیراعلیٰ سندھ صوبے بھر میں قائم 100کچی آبادیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

14 اکتوبر 2016

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں قائم 100کچی آبادیوں کو بنیادی سہولیات بشمول روڈانفرا اسٹریکچر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ انکا معیاری زندگی بھی بلند ہو سکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ جمعرات کووزیراعلیٰ ہاو¿س میں کچی آبادیوں کے مسائل سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ،سینئر میمبر بورڈ آف روینیو رضوان میمن،سیکریٹری سندھ کچی آبادی اتھارٹیز(ایس کے اے اے)ڈاکٹر نواز شیخ،ڈائریکٹر جنرل کچی آبادی اختر بگٹی و دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو پریزنٹیشن دیتے ہوئے ڈاکٹر نواز شیخ نے کہا کہ صوبے میں 25944ایکڑ رقبہ پر پھیلی ہوئی 1409کچی آبادیاں ہیں جن میں سے 948نوٹیفائی ہیں اور 344بغیر نوٹیفائی کے ہیں،ان میں سے 117وفاقی حکومت کی زمین پر قائم ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے فیصلہ لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ سینئر میمبر بورڈ آف روینیو رضوان میمن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیں جس کے سیکریٹری کچی آبادی ڈاکٹر نوازشیخ اور سیکریٹری بلدیات ممبر ہونگے،کمیٹی 30دن کے اندر ڈیمارکیشن کے کیسز کا جائزہ لیگی اور اسکی حتمی رپورٹ بھی پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پالیسی فیصلہ لیتے ہوئے سندھ کچی آبادی اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ تمام ڈویڑنوں میں واقعہ ایک سو¿ کچی آبادیوں کو اپ گریڈ کرنے کیلئے پلان تیار کریں جس میں انہیں تمام بنیادی سہولیات اور روڈ اسٹریکچر فراہم کیا جائے،کچی آبادیاں جنہیں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، کے معیار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انکی واضح حد بندی ہونی چاہیں اور ہر قسم کی مقدمے بازی سے کلیئر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ انہیں بہترین سہولیات فراہم کرکے انکے معیار زندگی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایک اور فیصلہ کرتے ہوئے ایم پی اے مرتضیٰ بلوچ کو سندھ کچی آبادی اتھارٹیز کی گورننگ باڈی میں ایم پی اے ارم خالد کی جگہہ پر رکن بھی تعینات کیا۔انہوں نے سینئر ممبر بورڈ آف روینیو رضوان میمن کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری زمینوں کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کریں۔انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ سرکاری زمینوں پر نئی آبادیوں کو تجاوزات تصور کیا جائیگا اور متعلقہ ایس ایچ او اسکا ذمہ دار ہوگا۔
کچی آبادی فیصلہ