آرمی چیف نے 10 دہشت گرد کو سزائے موت کی توثیق کر دی

14 اکتوبر 2016

راولپنڈی (ایجنسیاں)آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث مزید 10 دہشتگردوں کو فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے، یہ دہشتگرد بے گناہ شہریوں، خواتین پولیو ورکرز، این جی او کے کارکنوں، پولیس اور مسلح افواج کے اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے انکے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ تمام 10 دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف کی توثیق کے بعد دہشتگردوں کو کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے۔ جن دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کی گئی ہے ان میں محمد شاہد عمر ولد زمان خان پولیو ویکسین ٹیم کی 2 خواتین ارکان ایک این جی او کے 11 کارکنوں اور متعدد شہریوں کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ وہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں پر حملے میں بھی ملوث تھا جس کے نتیجہ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی زخمی ہوئے۔ حسین شاہ ولد فضل ہادی مسلح افواج پر حملے میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں پاک فوج کے میجر مصطفیٰ، کیپٹن وسیم اور متعدد فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ ظفر اقبال ولد محمد خان قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں پر حملے میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں صوبیدار اول خان، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے نائیک عظمت اللہ کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ پولیس کے اے ایس آئی چنار گل اور ایف سی کے سپاہی شفیق زخمی ہوا۔ انور زیب ولد توتکے بھی لیفٹیننٹ کرنل (ر) خاقان افضل کے اغوا، سب انسپکٹر (ر) عمر غنی اور ایک شہری کے قتل میں ملوث تھا۔ عبید الرحمان ولد فضل ہادی بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ دہشتگرد شیر عالم قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملوں اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ عطاءاللہ ولد محمد سلطان، مشتاق ولد سعید گل اور اصغر خان ولد نادر خان قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھے جس کے نتیجہ میں متعدد فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور کیپٹن آصف زخمی ہوئے۔ شمس القمر ولد شاہ گل بار قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں پولیس اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں عام شہری زخمی ہوئے۔

آرمی چیف / توثیق