الطاف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس ختم‘ اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ برقرار ہے : برطانوی ہائی کمشنر

14 اکتوبر 2016
الطاف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس ختم‘ اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ برقرار ہے : برطانوی ہائی کمشنر

لندن (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حیسن سمیت چھ افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ختم کر دیا ہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ 2012ءاور 2014ءکے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پاو¿نڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی یا اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا، اٹھائیس افراد سے انٹرویو کیا گیا، اس دوران تحقیقات کے لیے ساو¿تھ اور نارتھ لندن کی نو پراپرٹیز کی تلاشی لی گئی تھی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق انہوں نے کیس کی فائل برطانیہ کی کراو¿ن پراسیکیوشن سروس کے سپرد کی تھی تاکہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کیا اس پر کیس دائر کیے جا سکتے ہیں۔ کراو¿ن پراسیکیوشن سروس نے برطانوی پولیس کو اس کیس پر یہ مشورہ دیا کہ فراہم کردہ ثبوتوں کی روشنی میں یہ مقدمہ آگے نہیں چلایا جا سکتا۔ اس لیے اب یہ مقدمہ بند کیا جا رہا ہے، آئندہ اس مقدمے میں کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین، محمد انور اور سرفراز مرچنٹ کے خلاف کیس کراﺅن پراسیکیوشن کی ہدایت پر ختم کیا گیا، اب مزید کیس نہیں چلے گا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق ناکافی ثبوتوں کی بنا پر کیس ختم کیا گیا ہے، یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ جو پیسے پکڑے گئے تھے وہ کسی غیرقانونی طریقے سے بانی متحدہ کے گھر پہنچے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کراﺅن پراسیکیوشن سروس کی طرف سے انہیں ہدایت ملی ہے کہ یہ کیس ختم کر دیا جائے۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ جو پیسے پکڑے گئے تھے وہ کسی غیرقانذونی طریقے سے بانی متحدہ کے گھر پہنچے تھے۔ برطانیہ کے نیشنل ٹیررسٹ فنانشل انسٹی ٹیوٹ نے ثبوت کو ناکافی قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے انڈر پروسیڈ کرائم 2002ءکی شق 298 کیس کا احاطہ نہیں کرتی۔ الطاف حسین کے گھر سے نصف ملین پاﺅنڈ جو پکڑے گئے تھے ان کے بارے میں طے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ رقم کہاں سے آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے پاس جو ثبوت ہیں وہ انہیں سامنے نہیں لانا چاہتی اس لئے وہ کیس ختم کر رہی ہے۔ خبر یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے بانی کو ’را‘ سے پیسے ملے ہیں۔رہنما ایم کیو ایم لندن واسع جلیل نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن بہت بڑا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے کیس ختم کر دیا۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے منی لانڈرنگ کیس ختم ہونے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ، قتل اور دیگر کیسوں کی پیروی کرتا رہوںگا۔ بانی متحدہ کے گھر سے محض رقم نہیں ملی بلکہ کچھ دستاویزات بھی ملی تھیں جو اسلحہ سے متعلق تھیں۔ اس میں اسلحہ کی خریداری کیلئے قیمتیں بھی درج تھیں۔ کراچی میں ملنے والے اسلحہ اور لندن سے ملنے والی فہرست پر کام کر رہے ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے، مکمل ہونے پر میڈیا کو اعتماد میں لوں گا۔ برطانوی ہائی کمشنر سے کہا ہے کہ پاکستانی عوامی برطانوی قوانین پر اعتماد رتے ہیں۔ منی لانڈرنگ پر برطانوی ہائی کمشنر سے بات ہوئی ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ منی لانڈرنگ، قتل اور دیگر اہم کیسز پر بات ہوئی ہے، ان تمام کیسز کو سختی سے آگے بڑھائیں گے، جو بیان دینا چاہتا ہے وہ اپنا نام دے کر بیان دے میں جواب دوں گا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریورں کیلئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کا حصول آسان بنا رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ شہریوں کو سہولیات بغیر لائن میں لگے فراہم کر دوں۔ جو لوگ ای پاسپورٹ دس سال کیلئے لینا چاہیں گے انہیں ملے گا۔ اگلے سال جون سے پہلے اس مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں، ای پاسپورٹ نظام کیلئے 60 سے 70 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ وزیراعظم سے منظوری لے لی ہے۔ پاکستانیوں کو شفاف ترین اور قطار سے پاک سروس مہیا کرنی ہے۔ دو سال میں ای پاسپورٹ کا منصوبہ پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ بیرون ملک پاکستانی گھر بیٹھے اپنے پاسپورٹ کی تجدید کرا سکیں گے۔ ای پاسپورٹ میں دھوکہ دہی کا مسئلہ انتہائی کم ہو جائے گا۔ ایک سال میں 72 نئے پاسپورٹ آفس قائم کر رہے ہیں۔ ہر ضلع میں پاسپورٹ آفس قائم کر رہے ہیں۔ نادرا کی پبلک ڈیلنگ سے مطمئن نہیں۔ صفائی کرینگے۔ جعلی شناختی کارڈز پر بہت بڑی صفائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی متحدہ کے گھر سے پیسوں کے علاوہ جو کاغذات نکلے ان میں کچھ ہتھیاروں کے بارے میں بھی تھے۔ ایک شاپنگ لسٹ تھی جس میں ہتھیاروں کی قیمتیں درج تھیں۔ یہ کاغذات وہ تھے جو میٹروپولیٹن پولیس نے دیئے تھے۔ ابھی تفتیش جاری ہے لیکن کسی واقعے کو جوڑنا قبل از وقت ہو گا۔وزیر داخلہ چودھری نثار نے بانی ایم کیو ایم کیخلاف منی لانڈرنگ کیس ختم کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اشتعال انگیز تقریر کا کیس برقرار ہے۔ آئی این پی کے مطابق الطاف حسین سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ بھیجے گئے ریفرنس پر برطانوی حکومت کی طرف سے باضابطہ سرکاری طور پر معلومات ملی ہیں جن پر میں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں الطاف حسین سے متعلق کیسوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور میں نے کہا کہ پاکستان برطانیہ تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ایک شخص کی خاطر دونوں ملک کیوں بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان کے عوم برطانیہ سے قانون کے مطابق کارروائی چاہتے ہیں اور برطانوی ہائی کمشنر سے منی لانڈرنگ، عمران فاروق قتل کیس اور عوام کو تشدد پر اکسانے سے متعلق تفصیلی بات ہوئی۔ صباح نیوز کے مطابق برطانوی حکام سے اپنی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انکے ساتھ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کیس، تشدد پر ابھارنے اور قتل کیس کے معاملات پر بات چیت ہوئی، تشدد پر ابھارنے والے معاملے کو کسی صورت بند گلی میں نہیں جانے دیں گے۔ برطانیہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں کاروائی ہو اور پھر ہمیں برطانیہ میں الطاف حسین کے گھر سے جدید ہتھیاروں کی ملنے والی فہرست بھی ملی ہے جس میں ان ہتھیاروں کے سامنے انکی قیمتوں کا بھی اندراج تھا۔ اگرچہ نائن زیرو سے ملنے والے یہ ہتھیار اس نوعیت کے نہیں تھے مگر ان ہتھیاروں اور ملنے والی فہرست کا تعلق ضرور ہے جلد ہی برطانوی حکام سے ہونے والی بات چیت کی ہماری طرف سے بھی تفصیلات سامنے آجائیںگی۔چودھری نثار علی خان سے برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کی ملاقات میں پاکستان کی طرف سے الطاف حسین کے خلاف حکومت برطانیہ کو بھیجے گئے ریفرنس اور قانونی کارروائی پر پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان‘ برطانیہ تعلقات اور سکیورٹی سمیت مختلف امور میں جاری دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر برطانوی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سر مارک لائل گرانٹ کے متوقع دورہ پاکستان سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیرداخلہ نے جون کے مہینے سے پہلے ای پاسپورٹ سروس کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ای پاسپورٹ سروس کا اجراءاگلے 2 سال میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ای پاسپورٹ کی میعاد 10 سال کیلئے ہوگی۔ ای پاسپورٹ سروس بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی یہ سہولتیں فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے پر 60 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ نادرا میں صفائی ہو رہی ہے‘ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔

چودھری نثار