پانامہ پیپر تحقیقات‘ اپوزیشن کا بل اعتزاز احسن کی درخواست پر م¶خر

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے حوالے سے اپوزیشن کا بل قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی درخواست پر موخر کردیا گیا، کمیٹی میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد اور ارکان کمیٹی کے بیرونی دورں کی وجہ سے اپوزیشن کے ''پانامہ پیپرز انکوائری بل"2016"پر آئندہ ماہ غور کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔کمیٹی نے وفاقی ادارہ شماریات سے ادارے کو خود مختار بنانے ،گورننگ کونسل میں صوبوں کی نمائندگی اور ادارے کے سروسز رولز بنانے کے حوالے سے سفارشات مانگ لیں۔سینیٹ میں وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے خزانہ کمیٹی کی رپورٹ پرحکومت کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا گیا،کمیٹی نے وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے خزانہ کمیٹی کے اجلاسوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا،جس میں کمیٹی ارکان سینیٹر سلیم ضیائ،عائشہ رضا فاروق اور نہال ہاشمی کے علاوہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد، وفاقی ادارہ شماریات اور وزارت قانون کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں چیئر مین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے بل ایک دن کیلئے موخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے ، مگر جمعہ کے روز ممبران نے اپنے علاقوں کو واپس جانا ہوتا ہے اسلئے اس روز اجلاس نہیں بلا سکتے،اس موقع پر وفاقی ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے کہا کہ سینیٹ خزانہ کمیٹی میں ہم نے ایسی کوئی سفارش یا اس حوالے سے کوئی بریفنگ نہیں دی،آج کے کمیٹی اجلاس میں جو ایجنڈہ رکھا گیا ہے اس بارے میں بھی ہمیں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ خزانہ کمیٹی میں جس بات پر غور ہی نہیں کیا گیا اس بارے کمیٹی نے کیسے ازخود سفارشات دے دیں،خزانہ کمیٹی اس سے قبل بھی ایسا کر چکی ہے جو تشویشناک بات ہے۔ اس موقع پر کمیٹی نے وفاقی ادارہ شماریات سے ادارے کو خود مختار بنانے ،گورننگ کونسل میں صوبوں کی نمائندگی اور ادارے کے سروسز رولز بنانے کے حوالے سے سفارشات مانگ لیں اور وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے خزانہ کمیٹی کے اجلاسوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔کمیٹی کے اجلاس کے بعد پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے حوالے سے اپوزیشن کے بل کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اپوزیشن کا پانامہ انکوائری بل امتیازی اور جانبدارانہ ہے،بل میں اکثر شقیں وزیراعظم اور انکے خاندان کو ٹارگٹ کرنے کےلئے ڈالی گئی ہیں، اپوزیشن کسی طرح وزیراعظم کو پانامہ معاملہ میں ملوث کرانا چاہتی ہے،پانامہ پیپرز میں جن کے نام ہیں ان کی انکوائری پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، پانامہ انکشافات میں وزیراعظم کا نام نہیں، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے نہ آنے سے آج کی میٹنگ بے نتیجہ رہی، ہم اپوزیشن کے بل کا جواب دینے کےلئے تیار ہوکر آئے تھے، اپوزیشن کے بل کے مقابلے میں ہمارا انکوائری کمیشن بل زیادہ واضح اور جامع ہے، حکومتی بل میں پانامہ کے علاوہ تمام آف شور کمپنیوں،قرضہ معاف کرانے اور غیر قانونی فنڈز دینے کی تحقیقات بھی شامل ہیں، پاکستان انکوائری کمیشن بل 2016 غیر متنازعہ ہے جس میں درکار تمام اختیارات دیئے گئے ہیں، ہم چاہتے ہیں جہانگیر ترین،علیم خان ،عمران خان اور جن کی آف شور کمپنیاں ہیں انکی تحقیقات ہوں۔
قائمہ کمیٹی