عرس مبارک پیر آف گھمکول شریف ؒ

14 اکتوبر 2016

ملک مظہر حسین اعوان
اسلام کی تاریخ علم و حکمت اور طریقت و معرفت کے درخشندہ چہروں سے بھری پڑی ہے ۔روحانیت اور علم و عرفان کے نور سے اولیا کرام ؒ نے ایک دنیا کو منور کیا ۔ انہی نیک ہستیوں میں سے ایک ہستی بانی گھمکول شریف پیرحضرت شاہ المعروف خواجہ زندہ پیر سرکار ہیںآپ رحمۃ کی سوانح حیات کنز العرفان فی شانِ خواجہ زندہ پیر کے مطابق آپ 1912ء میں حضرت پیر غلام رسول کے ہاں کوہاٹ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدِ ماجد پیر غلام رسول شاہ سلسلہ قادریہ کے مقتدر اولیاء اللہ میں سے ہیں ۔ آپ کا سلسلہ طریقت حضرت اخوند صاحب سوات اڈے شریف سے ملتا ہے ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مبارک اجمیر شریف انڈیا میں ہے ۔حضور قبلہ اوائل ہی سے دن کو روزہ اور رات کو قیام و عبادت و ریاضت کے پابند تھے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو رشد و ہدایت کا زریعہ بنا کر بھیجا۔بلا شک حضور قبلہ عالم رحمۃ اللہ علیہ کمسنی ہی سے کامل انسان تھے ۔حضور قبلہ عالم کسی درس گاہ سے فارغ التحصیل نہ تھے ۔ مگرمشکل سے مشکل مسائل آپ اس طرح حل فرماتے تھے ۔جیسے کسی پہاڑ کو پانی کر دیا ۔آپ کمسنی ہی سے شب بیداری اور کثرتِ ذکر کے سرمایہ سے سرفراز تھے ۔اسی وجہ سے آپ نسبت روحانی کے لئے بے قرار رہتے اور اسی ارادہ پر اُس عہد کے فقراء و صالحین سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔چنانچہ آپ دربارعالیہ حضرت امام علی الحق شہید المعروف امام صاحب پر جا کر اس مقصد کی تکمیل کے لئے مراقب ہوئے تو ادھر سے فرمان ہوا کہ دربار عالیہ موہڑہ شریف (مری) میں سوسال سے آپ کا انتظار ہو رہا ہے ۔1938ء میں جب حضور قبلہ عالم شرفِ بیعت سے مشرف ہوئے ۔آپ کو موذوںپا کرحضور باواجی سرکار خلوت نشین ہوگئے ۔آپ نے فرمایا جن کے لئے سوسال بیٹھا تھا سب کچھ اُن کے سپرد کر دیا ہے ۔ وقتِ رخصت باواجی سرکار نے حضور قبلہ عالم کو فوج کے ساتھ سول ملازمت اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔1938ء سے1949ء تک بارہ سال کا عرصہ حضور قبلہ عالم نے فوج کے ساتھ منسلک رہ کر مقام قطبیت پر فائز ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پوشیدہ رکھا ۔ بالآخر آپ امر ربی کے مطابق1949ء میں گیارہ بلوچ رجمنٹ ایبٹ آباد چھائونی میں پردۂ حالتِ راز سے بے نقاب ہوئے۔1949ء سے1952ء تک یونٹ کے کوارٹر میں مقیم رہ کر رشد و ہدایت اور زائرین سے ملاقات کرتے رہے ۔ایبٹ آباد کے نزدیک گائوں لساں نواب کے نام سے مشہور تھا۔ وہاں آپکے پیر بھائی محمد شاہ المعروف طوری بابا کے نام سے مشہور تھے ۔حضور قبلہ عالم کا ان کے ساتھ الفت اور محبت کا رشتہ تھا ۔ آپ کے فقیری کمال دیکھتے ہوئے انہوں نے پانچ سو کنال زمین آپ کو رشد و ہدایت اور فیض یابی کے لئے تفویض کی۔ 1952ء میں آپ نے بذریعہ بحری جہاز پہلی بارحج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ آپ نے حج بیت اللہ کے دوران پہاڑوں کی طرف دیکھا اللہ تعالیٰ نے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا دیا کہ ایک حجرہ پر زندہ پیر دربار عالیہ گھمکول شریف لکھا ہوا تھا۔ حضور قبلہ نے پہلا حج مبارک بذریعہ بحری جہاز1952ء میں ،دوسرا بذریعہ ہوائی جہاز1968ء ، تیسراحج مبارک1971ء میں اور اس کے بعد26حج بلا ناغہ ادا کرنے کا شرف حاصل کیا ۔ آپ کے عقیدت مند دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں ۔جن میں دبئی ،قطر ،مسقط،سعودی عرب،امریکہ ، انڈیا،اٹلی،کویت، برمنگم، لندن،سائوتھ افریقہ،یونان،فرانس ان تمام جگہوں پر آپ کا عرس منایا جاتا ہے ۔آپ نے اپنے سر چشمہ باطنی سے لاکھوں کو فیضیاب کیا ۔طریقت معرفت کا یہ نئیر تابان لاکھوں افراد کو روشنی دے کر3ذوالحج1419ھ بمطابق22مارچ1999ء بروز سوموار87سال کی عمر مبارکہ میں غروب ہوا۔
آپ کا69واں عرس21-22-23 ۔ اکتوبر2016 بروز جمعتہ المبارک ،ہفتہ اور اتوار کو دربار عالیہ نقشبندیہ گھمکول شریف کوہاٹ میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔

عرس مبارک

کلیام اعوان(نیوز ڈیسک) سجادہ نشین دربار عالیہ کلیام شریف الحاج سائیں پیراں ...