رانا محمد یوسف ہمدمیؔ

14 اکتوبر 2016

ranausuf@yahoo.com

پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مہر محمد خاں ہمدم 1916ء میں ریاست پٹیالہ (ہندوستان ) کے معروف شہر سنور میںایک صوفی منش شخصیت الٰہی بخش خاں کے ہاں پیدا ہوئے ۔حفظ قران کی تکمیل اور تجوید و قرات کی تعلیم کے لئے استاذ القرا ء جناب قاری حفیظ الدین پانی پتی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کئے ۔ علوم اسلامیہ و دینیہ کی تحصیل کے لئے مفتی اعظم ریاست پٹیالہ حضرت علامہ مولانا محبوب علی خاں کی خدمت میںحاضر ہوئے۔بعد ازاں آپ نے مولانا عبدالجلیل خاںسے شرح جامی، ہدایہ، مشکوٰۃ شریف اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ کی تعلیم حاصل کی۔
حضرت علامہ مہر محمد خاں ہمدم ؒنے حضور مفتی اعظم شیخ العرفاء والسلکاء حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد شاہ رضوی مشہدی قادری اشرفی کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کی۔ آپ کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مرتضائیہ میں حضرت پیر طریقت شیخ کامل خواجہ مہر محمد صوبہ رحمۃاللہ نے اجازت و خلافت سے نوازا۔
1953 ء میں مقام مصطفی ؐ کے تحفظ کی خاطر شروع ہونے والی تحریک ختم نبوت میں بھی آپؒ کا کردار سے کسی سے کم نہ تھا ۔
محبت رسول ؐ اورامت مسلمہ کی خیر خواہی کے جذبۂ صادق کے تحت حضرت ہمدم نے تبلیغ دین کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور ساری زندگی اسی پر کار بند رہے۔ آپ کے معاصرین علماء و مشائخ نے آپ کی متعدد تصنیفات پر تقریظات لکھ کر کیا۔ جن میں جلیل القدر اسماء غزالی زماں رازی دوراں علامہ احمد سعید کاظمی، حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی ،فقیہہ اعظم علامہ نوراللہ نعیمی ،شیخ القرآن علامہ عبد الغفورہزاروی ،علامہ عبدالمصطفی الازہری ، ابوالکلام صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ ،بیہقی دوراں علامہ سید محمود احمد رضوی ،سلطان الواعظین ابو النور مولانا محمد بشیر کوٹلوی ،پیر طریقت میاں جمیل احمد شرقپوری، الحاج مولانا ابو دائود محمد صادق ،رومی زماں الحاج مولانا محمد یعقوب حسین شاہ ضیاء القادری، علامہ شاہ عارف اللہ قادری اور شاعر پاکستا ن مولانا عزیز حاصل پوری سمیت ہندو پاکستان کے متعدد علماء کرام و مشائخ عظام اور شعراء کرام نے حضرت علامہ ہمدم رحمۃ اللہ کی دینی خدمات کو زبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے
شان حسین المعروف بہ شہید کربلا سمیت کتب کثیرہ کے مصنف حضرت علامہ مہر محمد خاں ہمدم رحمۃ اللہ عشق رسالت مآب ؐ اور خدمت اسلام میں اپنی زندگی کے مصروف ترین شب و روز گزار کر 14اور 15 رجب المرجب کی درمیانی شب بمطابق 28اپریل 1983ء بروز جمعرات آپ رحمۃ اللہ اپنے مرید خا ص پیر رانا محمد ذکاء ا لدین خاں ہمدمیؔکے گھر پر منعقدہ میلاد مصطفی ؐکی ماہانہ محفل میں یا رسول یا نبی۔ یا رسول یا نبی۔ یارسول یا نبی۔ؐکا نعرئہ مستانہ بلند کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ آپ رحمۃ اللہ ؒ کاسلانہ عرس مبارک ہر سال بکرمی تقویم کے اعتبار سے اسوج کے آخری ہفتہ کو آستانہ عالیہ ہمدم چھانگا مانگا تحصیل چونیاں ضلع قصو ر میں آپ رحمۃ اللہ کے مزار پر انوار پر بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوتا ہے جس میں اندرون و بیرون ملک سے کثیر تعداد میں علماء کرام ، مشائخ عظام ،حفاظ و قرا ء سمیت ہزاروں مریدین و عقیدت مند حضرات شریک ہوکر دارین کی برکتوں اور فیضان ہمدم رحمۃ اللہ سے مستفید ہوتے ہیں ۔ امسال بھی 15 اکتوبر بروزہفتہ2016 کو33واںسلانہ عرس مبارک منعقدہورہا ہے
آپ کے جانشین حضرت علامہ مولانا ا لحاج صاحبزادہ پیر محمد اقبال خاں رباّنی ہمدمیؔ نہ صرف آپ کے فیوض و برکات کی تقسیم اور سلاسل خیر کی ترویج و اشاعت میںمصروف ہیں بلکہ ان میں خوبصورت اضافہ بھی کر رہے ہیں ۔ جن میں فیضان ہمدم ٹرسٹ کا قیام آپ کا اہم کارنامہ ہے جس کے تحت آپ کی نگرانی میں بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم کے ادارے شب و روز سینکڑوں تشنگان علم کی پیاس بجھانے میں مصروف ہیں۔ جس کا عملی ثبوت ہر سال تنظیم المدارس کے سالانہ امتحانات میں درجنوں طلباء و طالبات شرکت کر کے نہ صرف اعلی پوزیشنوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں بلکہ پورے ضلع بھر میں ایک شاندار ریکارڈ بھی رکھتے ہیں ۔آپ نے انہیں طلباء و طالبات کی ضرورتوں کے پیش نظر 22 کنال پر محیط فیضان ہمدم یونیورسٹی کے و سیع و عریض کیمپس کی بنیاد رکھ کر وابستگان حضور سلطان العاشقین کی آنے والی نسلوں پر احسان فرمایا ہے ۔ آپ حضرت ہمدم رحمۃ اللہ ؒ کی علمی و روحانی وراثت کی ترسیل اور مزار پر ُاَنوار کی تعمیر و ترقی اور عالیشان مسجد کی تعمیر اس انداز سے جاری رکھے ہوئے ہیں کہ وہاں پر حاضری دینے والے ہر مرید و زائر کو روحانی فیوض و برکات کے حصول کے ساتھ ساتھ تاریخ اسلام اور خانقاہی نظام سے بھی کما حقہ واقفیت حاصل ہو۔