آئینی جدوجہد میں حضرت مو لا نا مفتی محمودؒ کردار

14 اکتوبر 2016

آئینی جدوجہد میں حضرت مو لا نا مفتی محمودؒ کردار 

تحریر :مو لا نا عبد الغفور حیدری
ڈپٹی چیئر مین سینٹ پاکستان
حضر ت مولانا مفتی محمودکو اللہ نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا وہ نامور عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ قابل احترام نامور سیاسی شخصیت تھے، قدرت نے آپ کو بڑی بصیر ت سے نوازا تھا سیاسی میدا ن میں آپ کے فیصلے اس پر شاہد ہیں جن کی اپنو ں نے تعریف تو کی ہی ہے لیکن دیگر بھی حضرت مفتی محمودکو خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے حضر ت مفتی محمود نے اپنی سیاسی زندگی کا آعا ز 1942ء میں جمعیت علماء ہند کے پلیٹ فارم سے کیا اور اپنے اکابر کے حکم پر مشہور تحر یک، ہندوستان چھوڑ دو، میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا پھر آپ تھوڑے ہی عرصہ میں جمعیت علماء ہند کی مجلس عاملہ کے رکن بنے جو اس دور میں کسی شخصیت کیلئے بڑے اعزا ز کی با ت تھی اس کے بعد 1947ء میں جب اپا کستا ن کا قیام عمل میں آیا تو حضر ت مفتی نے پا کستا ن کی سیاست میں جمعیت علماء اسلا م کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا اورمختلف ادوار میں جمعیت علماء اسلام کے مختلف مناصب پر فائز رہے یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی بنیادوں اور تعمیر وترقی میں حضرت مفتی محمود کی خدمات کسی سے مخفی نہیں، شیح التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے جب جمعیت علماء اسلام کے احیاء کی ضرورت محسوس کی جس کی بنیاد پا کستان کے بننے کے بعد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے رکھی تو حضرت لا ہوری کے ساتھ جن شخصیات نے جمعیت علماء اسلام کو ملک گیر جماعت بنانے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا ان میں حضرت مولانا مفتی محمود،حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا مفتی عبدالواحدؒ، حضرت مولانا محمد اجمل خان کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے درج کیا جائے گا۔
1956ء کا آئین ملک پا کستا ن کا پہلا آئین تھا چا ئیے تو یہ تھا کہ اس آئین کے اندر اسلا می قو انین کا مکمل نفا ذ ہو تا لیکن اس کے با لکل بر عکس اس آئین میں اسلا م کو صر ف دیبا چہ تک محدود رکھا گیا ،حضر ت مفتی نے اس پر لکھا کہ مسلما نو ں کو 1956ء کے اس آئین کے با رے میں کسی خو ش فہمی میں مبتلا ء نہیں رہنا چا ہیے کیو نکہ اس آئین میں اسلا م کو بطور تمہید ذکر کیا گیا ہے جو قا نو نا دستو ر کا حصہ نہیں بنتا۔ ،1956ء میں حکو مت نے تحفظ حقو ق نسو ا ں کے نا م سے ایک مسو دہ تیا ر کیا جو بعض وجو ہا ت کی بنا پر التو ا ء کا شکا ر رہا 1958ء میں ایو ب خا ن کی فو جی حکو مت نے اس مسودہ کے کچھ مند رجا ت کا آرڈ ینس کے ذریعہ نفا ذ کردیا جو سر اسر اسلا می تعلیما ت کے متضا د تھے ۔ آپ نے اس پر فرمایا دین کے خلا ف کو ئی کا رروائی کو ئی قا نو ن سا زی مکمل نہیں ہو سکے گی۔ میں سید نا صد یق اکبرؓ کے اس تا ریخ سا ز خطبہ سے را ہ نما ئی حا صل کر تا ہو ں کہ آپ نے ابتداء خلافت میں دین اسلام کے بارے میں نر می اختیار کر نے کے مشورے کے جواب میں فر ما یا تھا کہ حضور پاکؐ جو دین چھوڑ کر گئے ہیں وہ کسی کمی کا شکا ر ہو جا ئے اور میں زندہ رہو ں یہ نہیں ہو سکتا پھر آپ نے اپنے مدبر انہ اور عالما نہ اندا ز میں قر آن وسنت اور مذاہب خمسہ کے ذریعے ان قو انین کی دھجیا ں بکھیر دیں اور حقیقت کو واضح کر کے رکھ دیا ۔ جب فو جی آمر ایو ب خا ن نے 21۔اپر یل 1962ء کو انتخا با ت کا اعلا ن کیا تو حضر ت مفتی نے سیا سی جما عتو ں پر پابندی کی وجہ سے انفر دی طو ر پر الیکشن میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسما عیل خا ن کی سیٹ پر پہلی مر تبہ بھا ری اکثر یت سے کا میا ب ہو گے کو ئی امید وار بھی مقا بلہ نہ کر سکا ۔جب اسمبلی میں حلف لینے کی رسم ادا کی گئی تو حضر ت مفتی صا حب نے حلف کے ان الفا ظ کہ دستور کو با قی رکھوں گا کے متعلق واشگا ف الفا ظ میں فر ما یا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دستور کو جو ں کا تو ں با قی رہنے دیں گئے بلکہ اس دستور کے ذریعے دئیے ہو ئے اختیا را ت کو برو ئے کا ر لا تے ہو ئے ان جملہ خر ابیو ں اور خا میوں کو جو قر آن وسنت کے متصا دم ہو ں گی ان میں تر میم کر یں گے۔
یکم مئی 1972ء کو حضر ت مفتی محمود نے صو بہ سر حد خیبر پی کے وزارت اعلی کا قلمدا ن سنبھا لا اور نو ما ہ کی قلیل مدت میں جو دینی اور سیا سی کا رہائے نما یا ں سر انجا م دیئے مخا لفین بھی اس کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے صو بہ سر حد کی فضا ء کو اسلا می بنا نے کے لیے انہو ں نے وہ تما م اقدا ما ت کیے جو قا نون نے وزیر اعلی کو دئیے تھے ۔مثلا ً شر اپ پر پابندی ،مسا جد کو زیا دہ سے زیا دہ آبا د کر نا ،صو بے میں دینی تعلیم کے فرو غ کے لیئے اقدا ما ت، جمعۃ المبا رک کے اجتما عا ت کو عو ام کے لیے تر غیبی اندا ز میں ڈھا لنا او ر اسکی تدابیر ،اوقا ف کی مسا جد کے علماء کو با وقا ر مقام عطاء کر نا ،سنیما گھروں کی غیر اسلامی حرکات کی مو ثر روک تھا م ،سکول اور کا لج میں اسلا می تعلیمات کو فر وغ دینے کے لیے مختلف تدابیر کا استعما ل، پا کستا ن کے جید علما ء سے مشا ورت کا اہتمام تا کہ اسکی روشنی میں وفا قی حکو مت کو اسلا می نظا م قا ئم کرنے کے لیے راہ نمائی دی جا ئے ۔
حضر ت مفتی مرحو م کی مذہبی اور سیا سی خدما ت میں سب سے قا بل قدر اور عظیم کا رنامہ اسمبلی میں مر زائیت کے خلا ف آواز حق بلند کر نا ہے دیگر مذہبی وسیا سی راہنما وں کی معاونت سے مولانامفتی محمودنے اسمبلی میں مرزائیت کے خلا ف مر زا نا صر کے سے گیا رہ دن اور لا ہو ری فرقہ کے خلا ف سا ت گھنٹہ اسمبلی کے فلور پر منا ظرہ کیا اور ان زعما ء قوم کی محنت رنگ لا ئی اور 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قر ار دیا گیا ۔
1977ء میں بھٹو حکو مت نے جب قو م کو سیا سی طو ر پر منتشر دیکھا تو اچا نک انتخا با ت کا اعلا ن کر دیا حضر ت مفتی اس وقت قو می اسمبلی میں قا ئد حزب اختلا ف تھے چنا نچہ آپ نے تمام قو می سیا سی جما عتو ں کو اتحا د کی دعوت دی اور نو جما عتی اتحا د وجو د میں آیا جس کا نا م پا کستا ن قو می اتحا د تھا آپ اسی اتحا د کے صدر تھے ۔انتخا با ت میں خو ب دھا ندلی ہو ئی تو پو ری قو م شعلہ جوالہ بن گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے تحر یک نظام مصطفی کا رخ اختیا ر کر لیا اور پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا با لآخر بھٹو حکو مت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مذاکرات کی میز پر آنا پڑا حضر ت مفتی صا حب اپنے 32 نکا ت میں سے 31 نکا ت مسٹر بھٹو سے منو انے میں کا میا ب ہو گے جنرل ضیا ء الحق کے دور حکو مت میں حضر ت مو لا نا مفتی محمو د نے اسلا می نظام کے نفا ذ کے لیے ہر ممکن راستہ اختیا ر کیا اور جو کچھ اسلا می نظا م کے لیے ہو سکا ایک مدرسے کے پڑھے ہو ئے اور مدرسے میں پڑھانے والے ایک عالم اور شرعی مسائل پر فتوے دینے والے ایک مفتی نے سیاست میں اس طرح حصہ لیا کہ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے ہجوم میں نہ صرف نمایاں ہوا بلکہ بہت سوں کو سیاست کاسبق پڑھایااور اسلامی سیا ست سے روشناس کرویا آپ کی سیا سی مسائل پر رائے فتوی کی طرح محترم سمجھی جاتی تھی گو یا ملکی تاریخ کو پہلی بار دین وسیاست کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا مفتی صا حب کی شخصیت اس قدر بلند ہے کے ان پر جس قدر لکھا جا ئے اتنا ہی کم ہے تحریر وتقریر کی دنیا سے مفتی صاحب کا قد وکاٹھ بلند ہے ملکی تاریخ میں خود ایک تاریخ بن کر یہ عظیم شخصیت 1980ء میں کراچی میں سفر حج کی تیاری میں خالق حقیقی سے جا ملی۔
فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،