مسلم لیگ کے مرکزی عہدیداروں کا انتخاب پارٹی قیادت کیلئے مشکلات کا باعث بن گیا

14 اکتوبر 2016

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) مسلم لیگ ن کے مرکزی عہدیداروں کا انتخاب پارٹی قیادت کے لئے مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ پارٹی عہدوں کے امیدواروں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے ہیں اور اپنے حق میں لابی کر رہے ہیں۔ پنجاب ہا¶س‘ بلوچستان ہا¶س اور دیگر سرکاری رہائش گاہیں مسلم لیگی رہنما¶ں کی سرگرمیوں کے مراکز بن گئے ہیں۔ وزیراعظم ہا¶س میں بھی مسلم لیگی رہنما¶ں کے اجلاس ہو رہے ہیں جن میں پارٹی کے مرکزی عہدیداروں کے لئے مناسب امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان مسلم لیگ نے پارٹی کی سیکرٹری جنرل شپ مانگ لی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خصوصی معاون برائے سیاسی امور سیدال خان نے سیکرٹری جنرل کا انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف بلوچستان سے ملک رفیق اعوان سینئر نائب صدر کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرا رہے ہیں۔ بلوچستان سے مسلم لیگ کے رہنما¶ں کا مطالبہ ہے کہ اگر بلوچستان کو سیکرٹری جنرل شپ نہیں دی جاتی تو اسے سینئر نائب صدر اول کا منصب دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سردار مہتاب احمد خان کو سیکرٹری جنرل شپ کی پیشکش کی لیکن انہوں نے پارٹی کا کوئی عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی۔ اس وقت متعدد مسلم لیگی رہنما¶ں کی نظریں پارٹی کی سیکرٹری جنرل شپ پر لگی ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا سے امیر مقام‘ پیر صابر شاہ‘ اسلام آباد سے سید ظفر علی شاہ اور سینیٹر مشاہد اللہ خان کے نام بھی سیکرٹری جنرل شپ کےلئے لئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے صدر کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف اور چیئرمین کے لئے راجہ محمد ظفر الحق کے ناموں پر پارٹی میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے اگر 17 اکتوبر تک پارٹی کے تمام مرکزی عہدیداروں کے لئے اتفاق رائے نہ ہو سکا تو مرکزی جنرل کونسل صدر اور چیئرمین کے سوا دیگر تمام عہدوں کے لئے صدر کو نامزدگی کا اختیار دے سکتی ہے۔
مسلم لیگ/ مشکلات