بابو عمران قریشی

14 اکتوبر 2016

صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر حج ایک فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر اُن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور حضور پاک نے حاجیوں کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے حج کیا ، لغو کلام اور فسق یعنی ہر قسم کے گناہ کے کاموں سے محفوظ رہا تو وہ حج سے ایسا پاک ہو کر واپس ہوتا ہے جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تھا۔ حج میں توحیداور اطاعت خالقِ کائنات، اظہارِ عبدیت اور مقصودِ اطاعت رب ایست ہوتی ہے۔ حج کا سفر عام سفر سے مختلف ہوتا ہے اس میں نہ صرف دینی بلکہ دنیوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اقوام عالم کے اخلاق و عادات کا پتہ چلتا ہے اور حج تزکیہ نفس اور یہ تہذیب، اخلاق کے لئے بہترین ذریعہ بھی ہے۔ حضور کا فرمان ہے کہ حرم کی ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر اور ہر عبادت کا ثواب بھی لاکھوں کے برابر ملتا ہے۔
پوری دنیا سے ہر سال لاکھوںفرزندانِ توحید مکہ معظمہ جا کر حج کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں جن میں پاکستانی حجاج کی کثیر تعداد بھی شامل ہوتی ہے۔خوش نصیب حجاج اس سال بھی فریضہ حج کی ادائیگی اور روضہ اطہر کی زیارت کے بعد بخریت اپنے گھروں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ بعض حجاج کے مقدر میں ارضِ مقدس کی مٹی لکھی تھی وہ حج کے دوران وفات پا گئے لاکھوں فرزندانِ توحید نے حرمین شریفین میں اُن کی نمازِ جنازہ پڑھی اور صحابہ کرامؓ اور صالحین کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔ایسے خوش نصیب مرحومین کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص حج یا عمرہ کے لئے نکلے اور راستہ میں فوت ہو جائے تو اس کی قیامت کے روزپیشی ہو گی نہ حساب کتاب ہو گا اور وہ جنت میں داخل ہو جا ئے گا۔ حضرت بصریؒ نے فرمایا "جو شخص رمضان المبارک ، جہاد یا حج کے بعد فوت ہوا تو وہ شہید ہو کر مرا © "۔ یہ تینوں حالتیں ایسی ہیں کہ ان میں وہ گناہوں سے پاک ہو چکا ہو گا۔ایک حاجی ضیوف الرحمان یعنی اللہ کا مہمان ہوتا ہے ۔ ایک عام مہمان کی بھی بڑی قدرومنزلت ہوتی ہے جبکہ اللہ کا مہمان بننا تو ایک ایسی سعادت ہے جس کا بیان کرنا ہی ناممکن ہے۔ حضور نے اللہ کے مہمانوں کے لئے خصوصی دعا فرماتے ہوئے فرمایا" یا اللہ تو حاجی کی بھی مغفرت فرما اور حاجی جس کے لئے مغفرت کی دعا کرے اُس کی بھی مغفرت فرما"۔ آپ کا ایک دوسرا فرمان ہے کہ "حاجی کی دعا رد نہیں کی جاتی یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کو لوٹے"۔ایک روایت میں ہے کہ جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اُسکو سلام کرو اور اُس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو اُس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کی درخواست کرو۔ کیونکہ وہ بخشا ہوا ہے یعنی اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو کر آیا ہے۔ مذکورہ اقوال اور فرمودات سے ایک حاجی کی نہ صرف قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے بلکہ اُس کی ذمہ داریاں بھی پہلے کی نسبت بڑھ جاتی ہیں۔ جس طرح کہ کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کی دھلی ہوئی صاف شفاف چادر پر کوئی دھبہ لگے اسی طرح حاجی کو یہ گوارہ نہیں ہوتا کہ حج کے بعد وہ کسی گناہ کے قریب بھی جائے۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ "حج مبرور یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد دنیا سے بے توجہی اور آخرت کی طرف رغبت ہو"۔ حج مقبول ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اُن خامیوں کی اصلاح ہو جو پہلے موجود تھیں۔ دنیاوی معاملا ت اور دلچسپیوں سے رغبت کم اور آخرت کی فکر زیادہ ہو۔اعمال اور اخلاق کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ حج ایک ایسا فریضہ ہے کہ جس کے ادا کرنے کے دوران یا اس کے بعد ایک حاجی کے اندر کوئی نمایاں تبدیلی ضرور ہونی چاہئیے۔ اُس کا دامن گناہوں سے آلودہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کو توبہ استغفار کر کے راضی کر چکنے کے بعد اُن گناہوں کا اعادہ نہ کیا جائے۔ دینی اور دنیوی معاملات میں ایک مثالی کردار ادا کر کے عام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ بنے۔ دل میں انقلاب برپا کر کے اس کا اظہار کرے۔ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں اگر کوئی کوتاہی ہو رہی ہو تو اس کا بلا تاخیر سدِ باب کیا جائے۔ نماز، روزہ اور ادائیگی زکوٰة میں باقاعدگی پیدا کی جائے۔ گو کہ حج مبرور سے گناہوں کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے تاہم حقوق العباد میں کوتاہی ایک ایسا گناہ ہے جس کو دنیا میں ادا کرنا یا صاحبِ حق سے معاف کرا لینا ضروری ہے۔ ورنہ وہ معاف نہیں ہوں گے۔ ہر شخص کو یہ بخوبی علم ہوتا ہے کہ اُس نے کس کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ کس کا مال غصب کیا ہے۔ کس کا قرض واپس نہیں کیا۔ کم تولا ہے یا کسی اور طریقے سے دوسرے کی حق تلفی کی ہے۔ جب تک حج کے بعدقادر ہونے کے باوجود ان حقوق کو ادا نہ کرے گا اُس وقت تک اُس کے بندوں کے حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ چنانچہ ایک حاجی کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کا فرض ادا کرنے کے بعد بندوں کے حقوق کو اولیت دے کر ان سے عہدہ برآ ہو۔حجاج کرام کا استقبال کر کے اُن سے مصافحہ یا معانقہ کرنا، اپنے حق میں دعائیں کرانا حضور نبی اکرم کے فرمان عالی شان کے عین مطابق ہے ۔ لیکن آج کل کے استقبال میں بہت سی خرابیاں پیدا کر کے اس کی اصلی اور حقیقی شکل کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مثلاً بے جا شان و شوکت، فخر اور تکبر کا اظہار ، چراغاں کرنا، پھولوں سے گاڑیوں کو سجا کر جلوس کی شکل اختیار کرنا اور خاص طور پر ایسے موقعوں پر خواتین کا بے پردگی کا مظاہرہ کرنا ایسے رواج ہیں جن کا تدارک کرنا بے حد ضروری ہے۔ بعض حجاج کرام جلی حروف میں اپنے سامان پر حاجی لکھواتے ہیں اور خود کو حاجی کہلوانا شروع کر دیتے ہیں۔ گو کہ اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ حج کرنے والا حاجی ہی ہوتا ہے لیکن نام و نمود کے لئے اگر حاجی کہلوایا جائے تو ثواب میں کمی ہو جائے گی۔حج اور سفرِ حج کا تذکرہ بیٹھے اُٹھتے ہر ایک کے سامنے تفصیل سے بیان کرنا تا کہ دوسروں کو معلوم ہو کہ فلاح حج کر کے آیا ہے بھی نمائش اور مشتہری میں شمار ہو گا۔ ہاں اگر کوئی شخص حج اور سفرِ حج کے بارے میں کچھ دریافت کرے تو اُس کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے تفصیلاً بتانا کوئی بری بات نہیں مگر پوچھے بغیر اور بلا ضرورت ہر ایک سے تذکرہ کرنا فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ یعنی ثواب میں اتنی ہی کمی ہوتی جائے گی۔ ایسے لوگوں کے سامنے جن پر حج فرض ہو چکا ہو اور اس کی ادائیگی میں کوتاہی کر رہے ہوں وہاں کے محاسن اور فضائل بیان کرنا تا کہ ان کے دل میں شوق پیدا ہو، اس مقصد کے تحت یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ بہت ضروری بھی ہے۔ اور ایسا کرنے والا اجروثواب کا حقدار بھی ہو گا۔ حج میں تکالیف بھی ہوتی ہیں بلکہ حج نام ہی تکالیف کا ہے۔ بعض حجاج اکرام الف سے لے کر ی تک تفصیل سے اپنی تکالیف اور پریشانیوں کا خوب مرچ مصالحہ لگا کر تذکرہ کرنے میں خوبی تصور کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں اور دوسرے ممالک کے حاجیوں کے بارے میں شکایات کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ ڈرائیوروں، سپاہیوں، محافظوں اور دوکانداروں کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ گرمی کی شدت ، طویل انتظار اور روکھا پن وغیرہ کا تذکرہ کئی کئی گھنٹے کرتے رہتے ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ حضور پاک کے اس حکم کی نافرمانی ہے کہ ارضِ مقدس کے لوگوں کو حقارت سے نہ دیکھو۔ دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسے عازمینِ حج جو اگلے سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے متمنی ہوتے ہیں وہ ڈر کر ارادہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اور سارا گناہ ڈرانے والے کے کندھوں پر پڑتا ہے۔ ایسے لوگ قرآن پاک کے احکامات کے مطابق اس زمرے میں بھی آ جاتے ہیں۔ ترجمہ "روکتے ہیں اللہ کے راستے اور مسجد الحرام سے "۔ البتہ اگر کوئی حاجی ذمہ داری کے ساتھ ایسے ذمہ دار افراد مثلاً وزارتِ مذہبی امور کے افسران کے سامنے تکالیف کے ازالے کے لئے زبانی یا لکھ کر تذکرہ کرے اور اُس کی نیت یہ ہو کہ آئندہ کے لئے ان کی اصلاح ہو جائے تو ایسی صورت میں ذکر کرنے یا بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بہتری ہے حضور نے صحابہ اکرامؓ سے فرمایا کہ "مناسکِ حج وغیرہ مجھ سے سیکھو"۔ پاکستانی عازمینِ حج کی اکثریت جذبہ اور عقیدت سے تو لبریز ہو تی ہے مگر مناسکِ حج نہ سیکھنے کے باعث اُن سے دورانِ حج و عمرہ بہت سی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں۔ حجاج اکرام کو چاہئیے کہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھنے والوں کی نہ صرف مناسکِ حج و عمرہ کے سلسلہ میں رہنمائی کریں بلکہ موسمی حالات و انتظامی اُمور سے بھی اُن کو باخبر کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خواتین حقیقی محرموں کی بجائے فرضی محرموں کے ساتھ چلی جاتی ہیںجس کی وجہ سے پریشانیاں اُٹھانی پڑتی ہیں اور عمر رسیدہ حضرات بھی حج کی تکالیف برداشت نہیں کر سکتے۔ جس کی وجہ سے ان کے بیشتر ارکانِ حج ادا نہیں ہو سکتے۔ حجاج اکرا م کو چاہئیے کہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں صحیح صحیح رہنمائی کریں اور واضح کردیں کہ حج کے افعال مشقت طلب ہیں جن کے لئے صحت مند ہونا بے حد ضروری ہے۔ حج کے حکم میں اللہ رب العزت کی اتنی حکمتیں ہیں کہ ان تک ہماری عقل کی رسائی ممکن نہیں۔ جتنا غوروفکر کیا جائے اس کے فوائد روز بروز بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اصل مقصد اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق کا بڑھانا ہے اور دنیا اور اس کی محبت سے بے رغبتی پیدا کرنا ہے۔

فنش،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...