”آ گئے ہیں سینکڑوں حلوائی مسلم لیگ میں“

14 اکتوبر 2016

18 اکتوبر کو حکمران پارٹی مسلم لیگ (ن) میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ دوسری جمہوری پارٹیوں کی طرح مسلم لیگ (ن) بھی جمہوری پارٹی کہلاتی ہے۔ مجھے بچپن سے ہی مسلم لیگ کے نام سے لگاﺅ ہے۔ پاکستان قائم کرنے والی، قائد اعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ تو ہندوستان کے مسلمانوں کی نجات دہندہ تھی۔ میرے والد صاحب رانا فضل اس مسلم لیگ کے کارکن تھے۔ ان دنوں مسلمانوں کو مسلم لیگ کی طرف راغب کرنے کیلئے یہ نعرہ لگایا جاتا تھا کہ
”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“
اور اس کے ساتھ متعصب ہندوﺅں کی ”انڈین نیشنل کانگریس“ کے ہم نوا ”کانگریسی مولویوں“ کی طرف سے یہ فتویٰ بھی دیا گیا تھا کہ جو مسلمان مسلم لیگ میں شامل ہو گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان قائم ہوا تو میں گیارہ سال کا تھا۔ میں مشرقی پنجاب کی سکھ ریاست ”نابھہ“ میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے محلے میں ایک مسلم لیگی کارکن لطیف خان پہلوان رہتے تھے۔ میں نے کئی بار انہیں کسی کانگریس مولوی کو راستے میں روک کر دل لگی کرتے دیکھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ
”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“
”نئیں تے جا خصماں نوں کھا“
میں اگر ان دنوں بڑی عمر کا ہوتا تو مسلم لیگ میں شامل ہونے والے مسلمانوں کے نکاح ٹوٹنے کا فتویٰ دینے پر کسی کانگرسی میں مولوی سے ضرور پوچھتا کہ ”کسی کنوارے مسلمان کا مسلم لیگ میں شامل ہونے پر اس کا نکاح کیسے ٹوٹے گا؟ عین ہی ممکن ہے کہ وہ کانگرسی مولوی کچھ یہ جواب دیتا کہ ”جب کسی کنوارے مسلمان کا نکاح ہو گا تو فوراً ہی ٹوٹ جائے گا“۔ فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان کو بھی ”مسلم لیگ“ کے نام سے محبت تھی۔ تحریک پاکستان کے کچھ کارکنوں نے ”آل پاکستان کنونشن مسلم لیگ“ بنائی اور اس کی صدارت طشتری میں رکھ کر صدر ایوب خان کی خدمت میں پیش کر دی۔ ہر تحصیل، شہر اور ضلع میں سرکار پرست لوگ اپنے اہل خانہ اور برادری سمیت کنونشن مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ میرے دوست ”شاعر سیاست“ اس دور میں ہوتے تو یہ کہتے کہ
بیٹا ہے، داماد بھی اور بھائی مسلم لیگ میں
چاچا، چاچی، تایا ہے اور تائی مسلم لیگ میں
میری بیوی، بیٹی اور ماں بھائی مسلم لیگ میں
سالا سالی اور ہے بھر جائی مسلم لیگ میں
کئی سال بعد ”قائد عوام“ اور ”شہید“ کہلانے والے ذوالفقار علی بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کے ”BLUE EYED BOY تھے اور آل پاکستان کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل۔ ایک دن اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ”بھٹو صاحب نے صدر ایوب خان کو مشورہ دیا ہے کہ ”ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ضلعی کنونشن مسلم لیگ کا صدر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو سیکرٹری نامزد کر دیا جائے لیکن صدر ایوب خان نے بھٹو صاحب کا یہ مشورہ مسترد کر دیا۔ ان دنوں تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن اور اسلامیہ کالج لاہور کے سابق پرنسپل سید محمد علی جعفری المعروف ”بابا جعفری“ کے فرزند معروف شاعر سید جعفری، فیلڈ مارشل ایوب خان اور ان کی مسلم لیگ کے بجتے ڈھول کا پول کھولنے کے ماہر تھے.... میں نے جعفری صاحب کو کئی مشاعروں میں سنا اور ان کا انداز اپنانے کی کوشش بھی کی لیکن ”جائے استاد خالی است“ والا معاملہ تھا۔
1994ءمیں میرے لہوری دوست (سید یوسف جعفری نے مجھے کلیات سید محمد جعفری تحفہ میں دی اس میں سے ”کنونشن مسلم لیگ“....
”آج کل ہیں، حضرت ابلیس، مسلم لیگ میں
دے رہے ہیں مشورے، بے فیس مسلم لیگ میں
ہے علی بابا الگ، چالیس مسلم لیگ میں
تو سن چالاک کے، سایئس، مسلم لیگ میں
لیگ کے گھوڑے کو پشتک اور دولتی سے کام
بعد مرگ قائد اعظمؒ، ہوا ہے بدلگام“
2 جنوری 1965ءکو ہونے والے صدارتی انتخاب میں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان امیدوار تھے۔ ڈاکٹر مجید نظامی صاحب نے قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو ”مادر ملت“ کا خطاب دیا اور انہیں صدر ایوب خان کے مقابلے میں انتخاب لڑنے پر رضا مند کر لیا۔ ”مادر ملت“ کونسل مسلم لیگ کی امیدوار تھیں۔ اس دور میں صدر ایوب خان کے چھوٹے بھائی کونسل مسلم لیگ کے سردار بہادر خان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے۔ ایک دن انہوں نے ایوان میں یہ شعر پڑھا....
”یہ راز تو کوئی راز نہیں، سب اہل گلستاں جانتے ہیں
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہو گا؟“
صدر ایوب خان نے اپنی والدہ صاحبہ سے شکایت کی اور سردار بہادر خان سیاست چھوڑ گئے۔ جنرل ضیاءالحق نے 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات کے بعد کنونشن مسلم لیگ کے سابق وزیر ریلوے محمد خان جونیجو کی صدارت میں نئی مسلم لیگ بنوائی۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے قومی اخبارات کے ایڈیٹرز کے ایک اجلاس میں ان سے کہا کہ.... ”جنرل صاحب! تسیں ساڈی جان کدوں چھڈو گے؟“ میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے۔ ڈاکٹر مجید نظامی سے میاں صاحب کے والد میاں محمد شریف کے تعلقات تھے۔ جنرل ضیاءالحق اور ڈاکٹر مجید نظامی دونوں ہی میاں نواز شریف پر مہربان تھے۔ میاں صاحب وزیر اعظم تھے اور ایٹمی دھماکا کرنے سے گھبرا رہے تھے تو ڈاکٹر مجید نظامی نے انہیں بھی قومی اخبارات کے ایڈیٹرز کے اجلاس میں کہا تھا کہ ”وزیر اعظم صاحب!“ ایٹمی دھماکا نہیں کرو گے تاں قوم تہاڈا دھماکا کر دوے گی“.... پھر وزیراعظم صاحب نے دھماکا کر دیا۔
25 مئی 2013ءکو میاں نواز شریف نے ایوان کارکنان، تحریک پاکستان میں جناب مجید نظامی کی صدارت میں ”یوم تکبیر“ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ ”میں نے اپنی وزارت عظمی کے دوسرے دور میں ایٹمی دھماکا کیا تھا۔ اب میں معاشی دھماکا کروں گا۔ ڈاکٹر مجید نظامی اب عالم جادوانی میں ہیں ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ ”مسلم لیگ“ کے نام سے سیاست کرنیوالے سارے دھڑے ایک ہو کر متحدہ مسلم لیگ میں ڈھل جائیں لیکن ہر کوئی ”اپنا اپنا مسلم اور اپنی اپنی لیگ“ لئے پھرتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کو بھی مسلم لیگ کے نام سے محبت تھی۔ انہوں نے بھی مسلم لیگ بنوائی اور میاں نواز شریف کے ”جگری دوست“ سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کو صدر منتخب کرا دیا۔ پھر چودھری شجاعت حسین کو ”حلالہ وزیر اعظم بھی بنایا تھا“۔ جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کے بعد چودھری صاحبان کو اپنی مسلم لیگ (قائد اعظم) اپنے محسن کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے تھی؟ ان کی مرضی
جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے اپنی پارٹی بنانے کی خبریں پھیل رہی تھیں چودھری صاحبان نے انہیں کسی صوفی کے ذریعے یہ پیغام بھی نہیں بھجوایا کہ
”تم کوئی اچھا سا رکھ لو، اپنے دیوانے کا نام“
جناب پرویز مشرف نے اپنی پارٹی کا نام ”آل پاکستان مسلم لیگ“ رکھ لیا۔ اب کر لو جو کرنا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ”سارے فیصلے راولپنڈی میں کئے جاتے ہیں“ شیخ رشید احمد پہلے ”فرزند راولپنڈی“ کہلاتے تھے۔ پھر ”فرزند پاکستان“ کہلائے۔ انہوں نے اپنی قیادت میں عوامی ”مسلم لیگ“ بنا لی شیخ صاحب وزیراعظم نواز شریف اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات رہ چکے ہیں.... اور اگر مناسب سمجھتے تو مسلم لیگ (ن) اور آل پاکستان مسلم لیگ کے درمیان ”پل“ کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن میاں نواز شریف اور جنرل (ر) پرویز مشرف نے انہیں شاید انگریزی کا ”PULL“ سمجھ لیا تو بات نہیں بنی.... میاں نواز شریف اپنے کئی مخالف سیاستدانوں کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ ”وہ میری“ Leg Pulling کر رہے ہیں۔ (یعنی ٹانگ کھینچ رہے ہیں)۔ مرزا غالب نے نہ جانے کس موڈ میں کہا تھا کہ....
تیری طرف ہے یہ حسرت، نظارہ نرگس
بگوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
مسلم لیگ نام کی.... کوئی پارٹی اپنے انتخابات کرائے یا نہ کرائے؟ میرے دوست، ”شاعر سیاست“ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں مسلم لیگ ن کے انتخابات کی تعریف کروں۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
اتنی ہے اخلاص کی گرمائی مسلم لیگ میں
پی نہیں سکتا کوئی سردائی مسلم لیگ میں
بج رہی ہے پیار کی شہنائی مسلم لیگ میں
اب کوئی کیسے رہے ہر جائی مسلم لیگ میں
لکشمی دیوی کو دیکھو آئی مسلم لیگ میں
ہر کس و ناکس نے عزت پائی مسلم لیگ میں
بٹ رہی ہے جابجا مٹھائی مسلم لیگ میں
آگئے ہیں سینکڑوں حلوائی مسلم لیگ میں