منشیات متعدی مگر قابلِ علاج مرض

14 اکتوبر 2016
منشیات متعدی مگر قابلِ علاج مرض

مکرمی! پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس کی پیداوار اور عادی افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دیہاتوں کی نسبت شہروں میں نشے کے عادی افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافہ، گھریلو ناچاقی، ٹیلی وژن اور کمپیوٹر سے ہمہ وقت لگائو، بیروزگاری اور غلط سوسائٹی کی وجہ عام طور پر نوجوان لڑکے راہ راست سے بھٹک کر اس فعل بد میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ بچے عام طور پر عدم توجہی، صحیح تعلیم و تربیت نہ ہونے سے اپنے احساس محرومی کی کمی کو نشہ کی صورت میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کل لڑکے لڑکیاں، طلباء اور طالبات آزاد خیال بننے کی بنا پر بطور فیشن اسے اپنا رہے ہیں۔ ٹیلی وژن کی تشہیری مہم اسے بڑھاوا دیتی ہے اور نشہ آور اشیاء کی سستی اور آسانی سے دستیابی بھی عوام کو گمراہی میں دھکیلنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے بیروزگاری اور جہالت کا خاتمہ، عوامی شعور کی آگاہی اور بیداری منشیات فروشوں کا قلع قمع ضروری ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ایک علیحدہ شعبہ نشے کے عادی مریضوں کیلئے مختص کیا جائے جس میں ادویات اور دیگر متعلقہ سامان اور ہمہ وقت ڈاکٹر موجود ہو نہایت ضروری ہے تاکہ اپنے مستقبل کو یوں گلیوں، محلوں میں ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔(رب نواز صدیقی۔ پاکپتن شریف)

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...