وہ بھی کیا دن تھے…

14 اکتوبر 2016
وہ بھی کیا دن تھے…

مکرمی! یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ ’’کل پاکستان مشاعرہ‘‘ بہاولپور میں تھا۔ لاہور سے کافی تعداد میں شاعر حضرات بذریعہ ریل بہاولپور پہنچے۔ جن میں احمد ندیم قاسمی‘ حفیظ جالندھری‘ قتیل شفائی‘ کلیم عثمانی اور میرے سسر صوفی تبسم شامل تھے۔ گاڑی جب بہاولپور کے ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو بقول صوفی صاحب ’’پلیٹ فارم پر کچھ اس طرح کا اشتہار لگا ہوا تھا۔ ’’میلہ مویشیاں و شاعراں‘‘ صوفی صاحب کہتے کہ اب ہم آگے جا سکتے تھے نہ پیچھے۔ بہرحال اس طرح کے مشاعروں میں جب کشور ناہید اپنا کلام سناتیں تو ان کے ہر اچھے شعر پر سامعین کی طرف سے داد کچھ اس طرح آتی ’’واہ صوفی صاحب واہ‘‘عمران خاں جب بھی کوئی دھرنا دیتے ہیں یا ابھی پروگرام بتاتے ہیں تو حکمران پٹرول سستا کر دیتے ہیں۔ عوام بھی اس کی داد اس طرح دیتے ہیں ’’واہ عمران واہ‘‘ (ماجد علی شاہ - 302 اقبال ایونیو جوہر ٹاؤن لاہور 0300-4688221)