مولانا سیدنا ابوالاعلی مودودیؒ

14 اکتوبر 2016
مولانا سیدنا ابوالاعلی مودودیؒ

مکرمی! 22 ستمبر 2016ء کے اخبار میں شائع ہونے والے مضمون بعنوان ’’تفہیم القرآن نئی نسل کے لئے تحفہ مصنف جناب عزت مآب سینیٹر سراج الحق صاحب سے اتفاق کرتے ہوئے چند معروضات پیش کر رہا ہوں ’’اگر مولانا تصانیف نہ ملتیں تو شاید میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود مسلمان نہ ہوتا، مولانا کی کتب کا عظیم احسان ہے کہ میں آج مسلمان ہوں کیونکہ ہر بات تحقیق کے بعد ماننے کی عادت بچپن سے ہے۔ 22,20 سال کی عمر میں تجسس ہوا کہ آخر مسلمان ہی کیوں، جواب مولانا کی کتب سے ملا، زمانہ طالب علمی میں لاہور میرے کلاس فیلو ان کے مخالف بحث کرتے، میں کہا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں: … ’’فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا‘‘ … سبھی ایک شام وہاں گزرتے ہیں اگر آپ پر ان کی نگاہ کا اثر نہ ہوا تو میں ان کو چھوڑ دوں گا اور اگر اثر ہوا تو آپ ان کے پیروکار بن جائیں گے چنانچہ تجویز منظور ہوئی گئے محفل اور نماز کے بعد باہر نکلے پوچھا تو کہنے لگے بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن عقیدہ عقیدہ ہی ہوتا ہے۔ 1970ء میں گوجر خان میں جماعت اسلامی کے متفقین بہت کم تھے۔ میں نے اپنے خرچ سے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی گوجر خان راجہ ظہیر احمد مرحوم جو 1985ء میں ایم این اے منتخب ہوئے جماعت کا دفتر بنایا۔ اس میں مولانا کی کتب رکھیں۔ 1970ء کے الیکشن کا کیمپ اپنے گھر میں بنایا، گائوں گائوں جا کر جماعت کو متعارف کرایا اور لوگوں کو یقین دلایا کہ جماعت کسی مخصوص مسلک یا فرقہ کی جماعت نہیں بلکہ فرقہ بندی کی لعنت سے آزاد ہے تو لوگ کافی تعداد میں جماعت متفقین بنے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب جماعت اسلامی کی وہ پالیسی نہیں رہی جو مولانا مودودی مرحوم کی تھی۔(عبدالوحید خان، گوجرانوالہ 0333-8170484)