شکریہ ڈیئر وِنی

14 اکتوبر 2016

سفید چھڑی کے عالمی دن کے موقع پر دوسری جنگ عظیم کے امریکی سپاہی ’’ہیری بُش مین‘‘ کی کتاب سے ایک خصوصی کالم تحریر ہے۔ جیفرسن میموریل ہسپتال کی اوپر کی منزل کے ایک مختصر سے اداس کمرے میں دو مریض ونسنٹ اور پارکر لیٹے تھے۔ اِس کمرے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس کے ساتھ ونسنٹ کا بیڈ تھا۔ اُس کا ایک ناکارہ پھیپھڑا نکال دیا گیا تھا۔ روزانہ شام تین بجے نرس ونسنٹ کو اٹھا کر بستر کے ساتھ ٹیک لگاکر ایک گھنٹے کیلئے بٹھا دیتی۔ وہ سانس کی شدید تکلیف کے باوجود کھڑکی کی طرف منہ کرلیتا اور اپنے روم میٹ مریض پارکر کے سامنے باہر کی منظر کشی شروع کردیتا۔ پارکر کی ریڑھ کی ہڈی ایک حادثے میں شدید زخمی ہوگئی تھی۔ ڈاکٹروں نے اُسے مکمل آرام آنے تک بستر پر بالکل سیدھے لیٹے رہنے کی سخت ہدایت کی تھی۔ اسی لئے وہ صرف چھت کا پنکھا یا تھرمامیٹر لگانے والی نرس کا چہرہ ہی دیکھ سکتا تھا۔ پارکر ہسپتال کے کمرے میں مسلسل لیٹے رہنے کے باعث بے چینی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگیا تھا۔ اُس کا رابطہ باہر کی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اسی لئے ونسنٹ کے بتائے ہوئے کھڑکی کے باہر کے مناظر اُس کیلئے زندگی سے رابطے کا باعث تھے۔ جب بھی نرس ونسنٹ کو کھڑکی کے ساتھ بٹھاتی تو پارکر لیٹے لیٹے پوچھتا ’’وِنی تم باہر کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ ونسنٹ بہت زیادہ درد کے باعث ٹھہر ٹھہر کر بولتا کہ ’’آج بہت خوبصورت دن ہے۔ بچے سکول کی چھٹی کے بعد پارک میں اکٹھے ہیں‘‘۔ ونسنٹ رک کر کہتا ’’مجھے یاد آیا، نرس نے بتایا تھا کہ آج سکول کے بورڈ کا الیکشن ہے۔ نرس کو یہ بات اس لئے معلوم ہے کہ اُس کا بیٹا اُسی سکول میں پڑھتا ہے۔ وہ دیکھو! وہ رہا اُس کا بیٹا‘‘۔ ونسنٹ انگلی سے کھڑکی کے باہر کی طرف اشارہ کرتا۔ ’’میں شرط لگا سکتا ہوں کہ وہ پیارا سا لڑکا جو جھیل کے پانی میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہے نرس کا ہی بیٹا ہے۔ دیکھو اب وہی لڑکا ایک چھوٹی سی رنگین کشتی میں بیٹھ کر بطخوں کے پاس جارہا ہے‘‘۔ پارکر دلچسپی سے پوچھتا ’’کیا کہا؟‘‘ ونسنٹ جواب دیتا ’’ہاں! بالکل چھوٹی سی خوبصورت کشتی سیدھی رنگ برنگی بطخوں کے درمیان پہنچ گئی ہے اور اب وہ جھیل کی دوسری طرف جارہی ہے‘‘۔ ونسنٹ لڑکے کیلئے پیار بھری ہنسی ہنستے ہوئے کہتا ’’چھوٹا لڑکا بہت تیزی سے اپنی کشتی چلا رہا ہے تاکہ جلد سے جلد دوسری طرف تک پہنچ جائے‘‘۔ پارکر آہ بھرکر کہتا ’’کاش میں بھی یہ منظر دیکھ سکتا‘‘۔ ونسنٹ افسردہ پارکر کو حوصلہ دیتے ہوئے کہتا ’’تم یہ سب منظر ضرور دیکھو گے جب ڈاکٹر تمہیں اٹھنے کی اجازت دے دینگے۔ جب تک تم اِس قابل نہیں ہو جاتے میں تمہیں باہر کے نظارے دکھاتا رہوں گا‘‘۔ ہرروز ونسنٹ کھڑکی سے باہر کے خوبصورت ماحول کے بارے میں پارکر کو بتاتا۔ مثلاً ’’آج بادلوں میں گھرا رنگین موسم ہے۔ شفاف جھیل میں مست لہریں اٹھ رہی ہیں‘‘۔ پارکر پوچھتا ’’پارک میں بچے ہیں؟‘‘ ونسنٹ کہتا ’’کل سے کم ہیں‘‘۔ پارکر بولتا ’’وِنی جب بھی کوئی چیز دیکھو مجھے ضرور بتائو‘‘۔ ونسنٹ کبھی بتاتا ’’نوجوان جوڑے تتلیوں اور بھنوروں کی طرح پھولوں کے درمیان گھوم رہے ہیں‘‘۔ پھر ونسنٹ کہتا ’’میں نے آج کے اخبار میں پڑھا ہے کہ سکول کے بچے پریڈ کرتے ہوئے بائیں گلی سے پارک میں اِسی وقت داخل ہونگے۔ انکے آگے آگے سکول کا بینڈ بھی ہوگا‘‘۔ ونسنٹ جوشیلے انداز میں کہتا ’’وہ دیکھو! بینڈ پارک میں نمودار ہوگیا ہے‘‘۔ پارکر جذباتی ہوکر بولتا کہ ’’میرا نواسہ بھی اسی سکول کے بینڈ میں باجا بجاتا ہے۔ اُس نے نیلی نیکر، سفید شرٹ اور لال ٹائی پہنی ہوتی ہے۔ پلیز اُسے دیکھو‘‘۔ ونسنٹ پارکر سے رعب دار آواز میں بولتا ’’صبر کرو، بچے ابھی دور ہیں اس لئے صاف نظر نہیں آرہے‘‘۔ پارکر پوچھتا ’’کیا میں اپنے نواسے کے باجے کی آواز سن سکتا ہوں؟‘‘ ونسنٹ نرم لہجے میں جواب دیتا ’’اس کھڑکی کے شیشے سائونڈ پروف ہیں۔ اسی لئے ٹریفک کی آواز بھی نہیں آتی۔ حالانکہ وہ سامنے سڑک پر بیشمار چھوٹی بڑی گاڑیاں دوڑ رہی ہیں‘‘۔ ونسنٹ کا روزانہ ایک گھنٹے تک کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر منظرکشی کرنا پارکر کیلئے اگلے تئیس گھنٹوں تک امید بھری زندگی کا سہارا تھا۔ ونسنٹ سوچتا کہ میں ایسے شخص کو باہر کی زندگی دکھا رہا ہوں جو بستر سے اٹھ نہ سکنے کے باعث باہر دیکھ نہیں سکتا۔ اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔ اگلے دن نرس اپنے وقت کیمطابق شام تین بجے آئی اور کہنے لگی ’’چلو اٹھو ونسنٹ میں تمہیں بیڈ سے ٹیک لگاکر بٹھا دیتی ہوں‘‘۔ جواب نہ پاکر نرس نے اپنا جملہ ذرا اونچی آواز میں دہرایا۔ جواب پھر بھی نہ ملاتو نرس فکر مند ہوکر ونسنٹ پر جھکی اور آہستہ سے اُسے پکارنے لگی۔ اچانک وہ تیزی سے مڑی اور کمرے سے نکل گئی۔ چند ہی لمحوں میں اُسکے ساتھ طبی آلات اٹھائے ایک ڈاکٹر بھی تھا۔ ڈاکٹر نے جلدی جلدی ونسنٹ کا معائنہ کیا اور نرس کی طرف مڑکر کہا ’’سوری، یہ چلا گیا‘‘۔ پارکر نے صرف کمرے سے جاتی نرس کے ہلکے ہلکے رونے کی آواز سنی۔ اُس نے سوچا کہ ونسنٹ میری آنکھیں تھا جو مجھے باہر کے نظارے دکھاتا رہا لیکن میں نے اُس کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ کاش وہ ایک لمحے کو واپس آجائے اور میں اُسے کہہ سکوں ’’شکریہ ڈیئر وِنی‘‘۔ ونسنٹ کی موت کے بعد پارکر پہلے سے زیادہ چڑچڑا ہوگیا۔ اُس نے نرس کو کہا کہ ’’وہ کھڑکی کے ساتھ والے بیڈ پر شفٹ ہونا چاہتا ہے‘‘۔ جب نرس اُسے کھڑکی کے ساتھ والے ونسنٹ کے خالی بیڈ پر شفٹ کرکے چلی گئی تو پارکر نے ہمت کرکے اپنی گردن اوپر اٹھائی تاکہ باہر کے مناظر خود دیکھ سکے۔ اُسے شدید تکلیف ہورہی تھی لیکن اُس نے اپنا سر کھڑکی تک اٹھا ہی لیا۔ اُس نے دیکھا کہ کھڑکی کے باہر دوسری بلڈنگ کی اونچی دیوار ہے جس کے باعث باہر کچھ نہیں دیکھا جاسکتا۔ پارکر نے بوکھلاہٹ میں نرس کو بلایا اور پوچھا ’’یہ دیوار کب بنی؟‘‘ نرس نے حیرانگی سے جواب دیا ’’یہ تو بہت پرانی ہے‘‘۔ پارکر نے حیرت سے نرس کے چہرے کو دیکھا اور کہا کہ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ وِنی مجھے روزانہ باہر کے نظارے اسی کھڑکی سے دیکھ کر بتاتا تھا۔ تم جھوٹ بول رہی ہو، یہ دیوار اُسکی موت کے بعد بنی ہے‘‘۔ نرس نے سسکی لیتے ہوئے کہا ’’میں سچ کہہ رہی ہوں یہ دیوار بہت پرانی ہے اور پارکر کیا تمہیں معلوم ہے ونسنٹ نابینا بھی تھا؟‘‘ پارکر نے چیخ کر پوچھا ’’کیا کہا؟‘‘ نرس کچھ نہ بولی البتہ اُس کی آنکھوں سے نکلنے والے دو آنسوئوں نے مسکرا کر پارکر کو جواب دیا کہ ’’دیکھ نہ سکنے والا دیکھنے والے کو زندگی دکھاتا رہا‘‘۔