’’مٹھائی‘‘

14 اکتوبر 2016

’’عالمی مالیاتی اداروں‘‘ نے آئندہ دس سال میں پاکستانی آبادی میں متوقع ’’4 کروڑ‘‘ اضافہ کے باعث خوراک کی ضروریات میں ’’50 فیصد‘‘ اضافہ کی نشاندہی کر دی ’’گلوبل ہنگر انڈیکس‘‘ کیمطابق دنیا کی 80 کروڑ آبادی بھوک کا شکار ہے اور پاکستان کا نمبر گیارہواں ہے۔ کچھ دن پہلے ’’اوگرا‘‘ نے گیس ’’36 فیصد‘‘ مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا۔ کاروباری برادری اور ’’بزنس چیمبرز‘‘ اس اضافہ کیخلاف احتجاج کی راہ لے چکے ہیں۔ انکے بقول اس کاروبار دشمن اقدام سے پاکستان عالمی منڈی سے بالکل ہی آئوٹ ہو جائیگا جبکہ پہلے ہی حالات اچھے نہیں۔ ’’تاجر حضرات‘‘ شکوہ کناں ہیں کہ گیس سیکٹر کے گھپلے اور غلط سودے بازیوں کا ملبہ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی بھوک و ننگ کی بیماری میں مبتلا ہے۔ بجلی پوری نہیں، گیس کی رسد طلب کے مقابلہ میں کم ہے۔ فیکٹریاں بند پڑی ہیں سرمایہ آنے کی بجائے باہر منتقل ہو رہا ہے۔ مگر کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمارا آقا تو ہم سے خوش ہے۔ جس کا ثبوت ہم کو ’’جنوبی ایشیا کے بہترین وزیر خزانہ کا ایوارڈ ہے۔ پاکستانی اپنی خوشیوں کے اظہار کیلئے مٹھائی تقسیم کرتے ہیں۔ گیس قیمتوں میں اضافہ ’’ایوارڈ‘‘ ملنے کی ’’حکومتی مٹھائی‘‘ تقسیم کرتے ہیں۔ جو عوام کو کھلائی گئی۔ دوہری خوشی میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے ’’سرکار‘‘ نے بنکوں سے ’’65 ارب روپے‘‘ قرض اٹھا لیا۔ وزیر خزانہ کا بیان تھا کہ ملک اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ سودی قرضوں کا پہاڑ کھڑا کرنے کا اعتراف کیا گیا۔ ’’ادارہ شماریات‘‘ (حکومت کا حصہ) کی رپورٹ نے افراط زر میں 0.33 فیصد اضافہ اور صرف ایک ہفتہ میں ’’12 اشیائ‘‘ مہنگی ہونے کی خبر دی جبکہ مارکیٹ کی خبریں ’’80 ڈگری‘‘ مخالف ہیں۔ اقتصادی بہتری کی نوید دیتے وزیر موصوف کے پیمانے کیا ہیں اور ’’عالمی ادارے‘‘ کس ناپ تول پر ترقی کی لہریں چیک کرتے ہیں ہم قطعاً لاعلم ہیں… ’’قارئین‘‘ اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کی چند مثالیں ’’مارچ‘‘ میں میٹرک کے امتحانی پیپرز چیک کرنیوالے ہزاروں ممتحن حضرات آج کی تاریخ تک معاوضوں سے محروم ہیں۔ ’’3 ماہ‘‘ سے ’’پنشنرز‘‘ دھکے کھا رہے ہیں۔ گھنٹوں لائن میں لگنے کے باوجود ’’10 فیصد‘‘ اضافہ کے سلسلہ میں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اس پر بس نہیں۔ پہلی مرتبہ ’’آئل کمپنیوں‘‘ کو قیمت مقرر کرنے کی اجازت نتیجہ… ہائی آکٹین 10 روپے فی لٹر مہنگا‘ صرف غریب نہیں امیر بھی مٹھائی کی لذت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ’’ایوارڈ‘‘ ملنے کے ایک آدھ دن آگے پیچھے کسی پسماندہ گائوں دور دراز علاقے میں نہیں ’’لاہور‘‘ میں گھر کا خرچہ پورا نہ ہونے پر ’’ 7بچوں‘‘ کے باپ نے پھندا لے لیا۔ جس ریاست کا حزانہ نہیں بھر رہا۔ اسکی رعایا کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ اب ملاحظہ فرمائیں بہترین انتظامی صلاحیتوں، مالیاتی نظم کی چند مثالیں۔ ٹیلی کام سیکٹر کے حسابات میں ’’98 ارب‘‘ کی خرابیوں کا انکشاف۔ پاکستان پوسٹ آفس میں ’’ 33 ارب‘‘ کی بے ضابطگیاں وفاقی وزارتوں سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں 2 ہزار ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو چکا ہے۔ نہ مالی گھپلے پہلی مرتبہ ہوئے ہیں نہ بد انتظامی کا سلسلہ نیا ہے ہاں تبدیلی یہ آئی کہ جنوبی ایشیاء کا ایوارڈ پہلی بڑی ’’بریکنگ نیوز‘‘ ہے۔ ہمارے لئے یہ خبریں پریشانی کے آثار پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ ’’ان لینڈ ریونیو سروس‘‘ میں ایک کھرب 82 ارب کی بے قاعدگیاں کی گئیں۔ یہ کوئی اخباری خبر یا تحقیقاتی رپورٹر کا انکشاف نہیں بلکہ ’’اڈیٹر جنرل پاکستان‘‘ کی آڈٹ رپورٹ کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آڈٹ کیلئے ایف بی آر نے دستاویزی ریکارڈ فراہم نہیں کیا اس لئے آن لائن گوشواروں پر انحصار کرنا پڑا۔ اسی ادارے کے آفیسرز اس بجٹ کی تیاری کے دوران بغیر منظوری کے کروڑوں روپے کا کھانا کھا گئے (عوضانہ الگ سے) جسکے نزول سے عوام کی ذہنی پریشانیاں کم ہوئیں اور نہ ہی ’’پیٹ کا سائز‘‘ بڑھا۔ ادارہ براہ راست کس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ہم آپ سب جانتے ہیں شاید مٹھائی بانٹنے کا لائسنس دینے والے آگاہ نہیں۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے بنک کی کاروباری بڑھوتری کا اعتراف ہے تو شک پڑتا ہے مگر جب دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں گیس سستی ہو رہی ہے مگر یہاں لیکن پھر ایوارڈ کیسے ملتا؟ یہ ان بڑے طاقتور ممالک کے زیر اثر فورم کی جان سے دیا گیا جو زندگی کی تمام سہولتوں سے فیض یابی کے بعد ’’مریخ‘‘ کی ویرانیوں کو زندگی کی رونقوں میں بدلنے کے پروگرام پر مصروف کار ہیں جبکہ ہمارا مقصد صرف طویل، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہی نہیں آئے روز بنیادی خدمات، ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ، امن و امان کی بدتر صورتحال سے بڑھ کر بھی مزید کئی دکھ ہیں۔ سیاسی انارکی سرحدی کشیدگی، ہمسایہ ممالک کی ’’برادرانہ دہشتگردی‘ عوام تو پہلے ہی گروہی ہیں۔ غیر ملکی اداروں پچھلے کئی ادوار کی حکومتوں‘ عالمی مارکیٹ میں ’’عوام کی قدر‘‘ اتنی گھٹ چکی ہے کہ اب سڑکیں، بقیہ ادارے بھی تول پر چڑھ چکے ہیں۔ بڑی بڑی خبریں مگر بریکننگ نیوز کے رسیا میڈیا نے کس قدر ظالمانہ طریقے سے ایک سطر جتنی اہمیت دی۔ انکے نزدیک ’’دھرنا‘‘ سیاسی ڈرامے بازی سے زیادہ وزنی خبر نہیں۔ موٹروے، ریڈیو پاکستان گروی رکھنے کے بعد مارچ تک پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ’’40 فیصد‘‘ حصص فروخت کرنے کا پلان۔ بجا فرمایا کہ تین برس کی کارکردگی سے اقتصادی اعشاریوں میں بہتری آئی۔ اچانک حیران کر دینے والے بیانات کا دکھ‘ جب ارشاد ہوا کہ ’’سونے کی کانیں‘‘ نکل آئیں تو ملک کا سارا قرضہ اتر جائیگا یقین مانئیے ہم بچپن سے یہ دعا مانگتے آ رہے ہیں مگر کانیں نکلنے کی بجائے اشرافیہ کے لوگ باتھ رومز، کھانے کے برتن، سونے کے بن گئے نہیں حالات بدلے تو عام آدمی کا قرضہ نہیں اترا تو یہ نہیں کہ ’’اشرافیہ‘‘ نے کبھی قرضہ نہیں لیا۔ قرضہ انہوں نے بھی لیا اور خوب خوب لیا مگر نہ انکی فیکٹریاں گروی رکھی گئیں نہ قرضہ چڑھا کیونکہ جو بھی لیا معاف کروا لیا کارٹلز کا سیکنڈز میں سب کچھ معاف ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے تو چند گناہ معاف نہیں ہو رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عوامی مسائل سے اغماض احتجاجی مہمات میں ’’فیول‘‘ کا کام کرتا ہے۔ زندگی بہت قیمتی ہے مگر اسکے گزارنے، جینے کے لوازمات بہت سستے ارزاں، رسائی میں ہونے چاہئیں۔