بادشاہی مسجد مرثیہ خواں ہے

14 اکتوبر 2016

جامع عالمگیری بادشاہی مسجد لاہور، ایشیا کی سب سے بڑی خوبصورت فن تعمیر کے لحاظ سے شہر لاہور کی آن اور شان ہے۔ اس کا ظاہری حسن و جمال قابل دید اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا اصلی اور حقیقی حسن عبادت گزاروں کی جبینوں کا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اس میں عید کے اجتماعات قابل دیدنی ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہونے کے لیے جب پورا لاہور اُمڈ آتا تھا تو مسجد کی وسعتیں ننگ دامانی کا گلہ کرتیں تو انسانوں کا یہ سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا مسجد کا حصار توڑ کر حضوری باغ سے گزر کر شاہی قلعہ کی مضبوط و بلند بالا اور پُرشکوہ دیواروں سے جاٹکراتا تھا، اللہ اکبر اس وقت ایک عجیب سا سماں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور شان کبریائی کا خوب خوب مظاہرہ ہوتا جس سے ایمانوں کو جلا ملتی لیکن جب سے نیا لاہور بسانے کا شوق رچایا اور اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک طرف تو لاہور کی شناخت جاتی رہی اور دوسری طرف عالمگیری بادشاہی مسجد کی رونق بھی ماند پڑگئی۔ اس بار عیدالاضحی کے موقع پر مسجد کی شان کے خلاف یہ ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر دل خوں کے آنسو روتا رہا اور بادشاہی مسجد بھی مرثیہ خوانی اور ماتم کرتی رہی کہ آہا! میری زمین کو سجدوں سے بسانے والے کہاں گئے اس بار حاضری بہت کم رہی جس سے مسجد کا اصل اور حقیقی حسن گہنا گیا لاہور کو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کرکے بہت سی مشکلات پیدا کردی گئیں اور مسجد میں پانچوں وقت آنا تو کجا اب تو سال میں عیدین پر بھی آنا اتنا مشکل ترین کردیا گیا کہ مسجد کا بے آباد ہونا یقینی ہوگیا۔ نمازیوں کا مسجد تک پہنچنے کے لیے کسی سہولت کا خیال نہیں رکھا گیا۔پیر مکی، موہنی روڈ، باغ منشی لدھا، قصور پورہ اور مغربی جانب کے لوگ ٹمبر مارکیٹ سے ہوکر مستی گیٹ جائیں۔ ایک کلومیٹر دور سفر طے کرکے پھر مسجد میں پہنچے گا۔ سواری نہیں تو کمزور، بیمار اور بزرگ اتنا سفر طے کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ان وجوہات کی بناء پر نمازیوں کی تعداد میں کمی ہونا ایک منطقی عمل ہے۔ اس بار مسجد کی یہ حالت زار دیکھ کر ذہنی اذیت اور روحانی تکلیف کا ازحد احساس ہوا مسجد بھی اپنی اس ناگفتہ بہ حالت پر نواحہ خواں رہی۔
نمازی حسرت بھری نگاہوں اور سوالیہ انداز میں ایک دوسرے کو تکتے رہے اور اشاروں اشاروں میں بہت کچھ کہہ گئے۔ وزیراعلیٰ جنہیں خادم پنجاب ہونے کا دعویٰ ہے، اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے شاہی مسجد اور مینار پاکستان کے درمیانی سڑک جو مستی گیٹ کو جاتی ہے واگزار کردیں تاکہ مسجد میں نمازیوں کی آمد میں یہ رکاوٹ دور اور مسجد کی رونق بحال ہو۔ امید ہے کہ توجہ دینے میں تساہل نہیں برتیں گے۔