ہر صحافی کو ”لفافہ“ پکارنا چھوڑ دیں

14 اکتوبر 2016

اندھی نفرتوں اور عقیدت میں تقسیم ہوئے آج کے پاکستان میں نام نہاد پڑھے لکھے لوگ بھی یہ بات بھول چکے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد ان حقائق کو منظرِ عام پر لانا ہوتا ہے جسے حکمران خلقِ خدا سے چھپانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل ڈان کے Cyrilنے صرف یہی فریضہ سرانجام دیا تھا۔
بنیادی طورپر کراچی سے اسلام آباد آیا یہ صحافی ڈان کے لئے اداریے اور ہفتہ وار کالم لکھتا ہے۔قانون اور اقتصادیات کا ہونہار طالب علم رہا ہے۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے آکسفورڈ بھی گیا تھا۔ محنتی بندہ ہے۔ انگریزی بہت کمال کی لکھتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے فقروں کے ذریعے حقائق کو تڑختی گولیوں کی طرح برساتی زبان۔ رپورٹنگ اس کی بنیادی ذمہ داری البتہ ہرگز نہیں ہے۔
مئی 2013ءکے انتخابات سے پہلے چند دنوں کے دوران اس نے مختلف علاقوں میں جاکر یہ معلوم کرنا چاہا کہ خلقِ خدا کے دل میں کیا ہے۔ چند مخصوص حلقوں میں روایتی اور تاریخی طورپر انتخابات لڑنے اور جیتنے والے گھرانے اور دھڑے باز لوگ کیا چاہتے ہیں۔ مختلف شہروں اور دیہاتوں میں اپنے سوالات کا جواب ڈھونڈتے ہوئے سیرل، انتہائی دیانت داری سے یہ جاننے کی لگن میں بھی مبتلا رہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے 1970ءسے طے ہوئی دھڑے بندی کو کس حد تک غیر متعلق بنادیا ہے۔
میں نے بھی انتخابی عمل کو جاننے کے لئے ایسی خجل خواری 1985ءکے انتخابات سے قبل کی تھی۔ اس دوران مختلف حلقوں کے بارے میں جو کچھ لکھا اسے محض رپورٹنگ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ ٹھوس معلومات،تھوڑی تحقیق،ایک خاص حلقے کے عوامی مزاج کی تصویر کشی اور جو کچھ دیکھا اور سنا ان سب کے تجزیے کو ملاکر جو مضمون نما شے بنی اسے ”رپورتاژ“ کہا جاسکتا تھا۔ پڑھنے والوں نے اس انداز کو بہت سراہا تھا۔
عمر کے اس حصے میں کچھ لفظ لکھ اور بول کر مناسب معاوضہ کماتے ہوئے باعزت روزی کمانے کے قابل ہوا ہوں تواس کی بنیادی وجہ وہ لگن اور محنت ہے جو ”رپورتاژ“ جیسی چیزیں لکھنے کے لئے میں نے 1980ءکے آغاز سے 90ءکی دہائی کے اختتام تک برقرار رکھی۔ ان دنوں میں صرف ”خلیفہ“ بن کر یہ کالم لکھتا اور ایک ٹی وی پروگرام کے ذریعے اینکربنا”بھاشن“ دیا کرتا ہوں۔
سیرل نے ازخود مجھ سے رابطہ کرکے میرے ساتھ دوستی گانٹھی تھی۔ میرے ساتھ بہت عزت اور پیار سے اپنا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس رشتے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 2013ءکی انتخابی مہم کے دوران اس نے مجھے اپنے ہمراہ مختلف حلقوں میں جانے پر کئی بار مجبور کیا۔ میں اکثر غچہ دے جاتا۔ صرف ایک بار اس کے ہاتھ لگا اور مردان اور پشاور میں تحریکِ انصاف کے جلسوں میں کھڑا ہوکر عمران خان کے پرستاروں سے Status-Quoکا حامی ہونے کے طعنے برداشت کرتا رہا۔
کئی مہینوں سے سیرل کے مجھ ایسے مداح اسے طعنے دے رہے تھے کہ وہ اس جوانی میں بھی ”خلیفہ“ بن گیا ہے۔ اداریے اور ہفتہ وار کالم لکھ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ اسے وقتاََ فوقتاََ گھر سے نکل کر خبریں ڈھونڈنا اور انہیں تجزیاتی انداز میں قارئین کے روبرو لاتے رہنا چاہیے۔ جمعرات کے دن اس کی جو خبر چھپی وہ مجھ ایسے کئی ”خیر خواہوں“ کی جانب سے سیرل کے اندر چھپے رپورٹر کو اُکساتے چلے جانے کا نتیجہ تھی۔
اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئے اس معاشرے میں حقائق کو جانے بغیر سوشل میڈیا پر لیکن صحافیوں کی مسلسل مذمت میں مبتلا”باعلم وباصفا“ لوگوں کی اکثریت نے فیصلہ صادر کردیا ہے کہ سیرل نے جمعرات کے روز جو کچھ لکھا وہ نواز حکومت نے لکھوایا تھا۔ صحافیوں میں ”لفافے“ بانٹنے کی عادی یہ حکومت ”مودی کی یار“ہے۔ ”قومی مفادات“ سے زیادہ”اسے شریف خاندان کے کاروباری“ مفادات عزیز ہیں۔ پاکستان کے عسکری ادارے نواز حکومت کے اس رویے کی راہ میں اصل رکاوٹ ہیں۔ اسی لئے وہ ان اداروں کو ”بدنام اور کمزور“ کرنے کے لئے ”بکاﺅ صحافیوں“ کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے۔ بالآخر وہ وقت آگیا ہے کہ سیرل جیسے صحافیوںکو ECLپر ڈال کر تحقیقات ہو۔ ان لوگوں کا سراغ لگایا جائے جو ”لفافوں“ کی حرص میں مبتلا صحافیوں پر عسکری اداروں کو بدنام کرنے والی خبریں Plantکرتے ہیں۔
نواز حکومت سے وابستہ ”غداروں“ کی نشان دہی کرنے کو بے چین ہمارے باصفا اور محبِ وطن افراد کو یہ خبر ہی نہیں کہ جمعرات کے روز شائع ہونے والے PIECEکے بارے میں سب سے زیادہ پریشان پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف صاحب ہوئے تھے۔ سیرل کی لکھی تحریر کو اگر تعصب کی عینک اُتار کر پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اب تک اپنے بھائی اور عسکری قیادت کے درمیان ”پل“ سمجھے جانے والے ”شہباز صاب“اپنے زیر نگین صوبے کو اس صفائی اور ستھرائی سے بچانے کو بے چین ہیں جو پاکستان رینجرز نے سندھ میں رواں رکھی ہوئی ہے۔
اپنے ”پل“ والے امیج کو بچانے کے لئے ”شہباز صاب“ نے اپنی ذاتی نگرانی میں حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت کے ان تمام افسروں کو ہمہ وقت مصروف رکھا جو اخباروں میں تردیدیں چھپوانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ایک نہیں تین بہت تگڑی تردیدوں کے ذریعے سیرل اور اس کے اخبار کے بخیے ادھیڑدئیے گئے۔ ”غداروں“ کی نشان دہی اور ان کو ”عبرت ناک سزائیں“ دلوانے کو بے چین باعلم وباصفا گروہ کے سینے مگر ابھی بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے ہیں۔
ان سینوں کو ٹھنڈا ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ 30اکتوبر آنے ہی والا ہے۔ اس دن عمران خان صاحب نے اسلام آباد کے لاک ڈاﺅن کا اعلان کررکھا ہے۔ ”امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت“ کے دارالحکومت کی اس روز تالہ بندی ہوگئی تو اس وقت تک ریاستی اور سرکاری امور نبٹائے نہیں جاسکیں گے جب تک نواز شریف استعفیٰ نہیں دیتے۔ نواز شریف سے استعفیٰ لے کر موجودہ اسمبلی سے نیا وزیر اعظم منتخب کروانا ناممکن ہے۔ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا گیلانی کے بعد راجہ پرویز اشرف کی صورت نظر آیا تھا۔
اسلام آباد کی ”تالہ بندی“ کے ذریعے نواز شریف کا استعفیٰ حاصل کرلیا گیا تو پاکستان پر ”جمہوریت“ کی جو تہمت 2008ءسے لگائی جارہی ہے وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ اکتوبر 1958، جولائی 1977اور اکتوبر 1999ءکی طرح ایک بار پھر ”تھوکوڑی“کہہ کر تختی کو صاف کرکے اسے گاچی کے ذریعے ”نیانکور“ بناکراس پر کوئی اور سکرپٹ لکھنا پڑے گا۔ نواز حکومت 2014ءکے دھرنوں کے دنوں سے خود پر ایک ”جمہوری حکومت“ کی تہمت لگواکر ایک کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کو تیار ہوچکی ہے۔ اس حکومت میں موجود کسی وزیر یا افسر میں یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ خواب میں بھی ایسی خبریں Plantکرنے کا سوچے جو سیرل نے لکھی ہے۔ اگر کسی ”خودکش“ نے یہ ہمت کر ہی لی تھی تو سیرل ہرگز ایسا رپورٹر نہیں جسے Calculated Leaksکے لئے استعمال کیا جاسکے۔
سوشل میڈیا کے عادی افراد کو نجانے وہ تصویر کیوں بھول گئی ہے جو سیرل نے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر ان دنوں ڈالی تھی جب نواز شریف لندن اپنا علاج کروانے گئے ہوئے تھے۔ وہاں اپنا دل بہلانے وہ ایک سوٹ بنانے والے کی دوکان پر بھی چلے گئے۔ وہاں کے ڈیزائنر نے ان کے ساتھ اپنی سلفی بنائی اور اسے فیس بک پر ڈال دیا۔ سیرل نے وہاں سے یہ تصویر اچک کر اپنے اکاﺅنٹ کے ذریعے ہمارے سامنے لائی تو نواز شریف کی جماعت اور ان کا خاندان بہت ناراض ہوئے تھے۔
بہرحال جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔ بیلوں کی درمیان لڑائی ہے۔ سیرل اسے منظر عام پر لے آیا ہے۔ اب مینڈک بنا اپنے کچلے جانے کا منتظر ہے۔ اسے ”عبرت ناک سزا“ کا نشانہ بنانے کے خواہش مند مگر اتنا سمجھ لیں کہ صحافت کا بنیادی فریضہ ان حقائق کو عیاں کرنا ہوتا ہے جو حکمران چھپانا چاہتے ہیں۔یہ بھی کہ صحافی کو غرض صرف خبر سے ہوتی ہے۔ صحافت کے دھندے میں لفافے بھی چلتے ہیں۔ خبریں پلانٹ ہوتی ہیں۔ ہر صحافی کو مگر پوری طرح جانے بغیر ”لفافہ“ پکارنا چھوڑدیں۔ صحافت کے تقاضے کی پہچان کریں۔ کسی بھی معاشرے کو جاندار اور توانا رکھنے کے لئے ان تقاضوں پر مکمل عمل درآمد ہونا بہت ضروری ہے۔