مقبوضہ کشمیر عاشورہ کے جلوسوں پر بھی فورسز کا تشدد متعدد زخمی ہو گئے

14 اکتوبر 2016

سرینگر( اے این این +این این آئی) بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت میں سرکاری عمارت سے مسلح افراد کا قبضہ چھڑانے اور دو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والی بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر پامپور میں سرکاری عمارت کا قبضہ چھڑانے کے لیے 3 دن کا انتظار کرنا پڑا تاہم اب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج نے 2 مسلح افراد کو ہلاک کرکے عمارت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز کی بھاری نفری نے سرکاری عمارت پر قبضہ کرنے والے 2 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے میں 50 سے زائد گھنٹے لگادیئے جب کہ اس دوران بھارتی فورسز سرکاری عمارت کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے مسلسل فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ راکٹ بھی برساتی رہی۔ حریت قیادت نے وادی میں احتجاج کا دائرہ کار 20اکتوبر تک بڑھا دیا ہے آئندہ7دنوں تک احتجاج کا نیا شیڈول جاری کردیا گیا ¾ پہلی مرتبہ شام5بجے سے صبح7بجے تک ہڑتال میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آج بعد از نماز جمعہ گورنر ہاوس تک مارچ کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔حریت قیادت کی جانب سے جاری کئے گئے احتجاجی کیلنڈر میں کہا گیا ہے کہ آج 14اکتوبر کو کوئی نرمی نہیں ہوگی۔ جموں کشمیر کے عوام سے گورنر ہاﺅس تک مارچ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں یاداشت پیش کی جائے جس میں انہیں جموں کشمیر سے چلے جانے کیلئے کہا جائے۔ لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین یاسین ملک نے کہا ہے کہ حریت رہنماﺅں کی گرفتاریاں کشمیر دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کررکھا ہے اقوام عالم نے اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں تو لوگوں پر اعتبار ختم ہوجائےگا۔ پولیس نے امت اسلامی کے سینئر رہنما مولانا سجاد ہاشمی کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب بھارتی فوج نے عاشورہ کے جلوسوں پر پھر دھاوا بول دیا اور عزا داروں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے متعدد زخمی ہو گئے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور حریت رہنماﺅںمیر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ، آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور مسرور عباس نے بھارتی فورسز کی طرف سے محرم کے جلوسوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ بھارتی پولیس نے سرینگر میں موبائل فون کمپنی بی ایس این ایل کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک عزاداروںپر اس وقت شدید لاٹھی چارج کیااور آنسو گیس کے گولے داغے جب انہوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی۔ پولیس نے آغا سید منتظر الموسوی، غلام حسن ملک ،آغا سید باقراور نثار حسین راتھر سمیت بیسیوں افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ کرفیو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سرینگر کے علاقوں لالچوک اور ٹی آر سی گراﺅنڈ میں جمع ہو گئے۔ دیگر علاقوں میں بھارتی پولیس نے مظاہرین پر گولیاں اور پیلٹ فائرکیے جس سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ نام نہاد اسمبلی کے رکن اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرشید نے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیاہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرایس ایس اور سنگ پریوار جیسی ہندو انتہا پسند جماعتیں جموں وکشمیر میں نفرت اورفرقہ واریت کوہوا دے رہی ہیں۔ انہوںنے واضح کیاکہ سول سیکرٹریٹ میں کمشنر اورسیکرٹریوں سے لیکر ضلعی پولیس سربراہان تک کی تعیناتی میں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
مقبوضہ کشمےر