2030ء تک خوفناک غذائی قلت کی نشاندہی

14 اکتوبر 2016

پاکستان‘ بھارت سمیت 45 ملک 2030ء تک خوفناک غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں ہر رات 795 ملین سے زائد شہری بھوکے سوتے ہیں۔ عالمی ادارہ۔ واشنگٹن میں انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے بقول 2000ء کے بعد سے ترقی یافتہ ملکوں میں غذائی قلت کا لیول 29 فیصد کم ہوا ہے تاہم انہوں باور کرایا ہے کہ 2030ء تک اسے ختم کرنے اور عالمی ہدف پورا کرنے کے حوالے سے دنیا کو اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ عالمی ادارے کی متذکرہ رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کے شکار ملکوں کی جو درجہ بندی کی گئی ہے اسکے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ چاڈ اور زمبیا سمیت 47 ملکوں میں غذائی قلت کا لیول بدترین ہے جبکہ بھارت‘ نائیجریا اور انڈونیشیا سمیت 43 ملکوں میں اس لیول کو محض سنگین قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ کی غذائی قلت کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ تشویشناک اور فکر انگیز ہے۔ طرفہ تماشا ہے کہ ایک طرف افلاک میں مریخ و زہرہ کی تسخیر کے منصوبے بنتے ہیں لیکن دوسری طرف لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے اور دنیا میں ہر رات 795 ملین شہری بھوکے سوتے ہیں۔ سائنسی ترقی و کمالات نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں بدل دیا ہے۔ غذائی ریسرچ کے عالمی ادارے نے 2030ء تک ترقی یافتہ ملکوں میں غذائی قلت کے جس خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ ضروری ہے کہ اسکے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ مربوط حکمت عملی تیار کر کے اپنی کوششوں میں تیزی لائی جائے۔