سیرل پر پابندیاں بزدلانہ اقدام‘ پہلے ہی مشکلات کا شکار حکومت ہوش کے ناخن لے

14 اکتوبر 2016

ڈان کے رپورٹر سیرل المائڈہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حکومتی اقدام پر صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مذمت کی ہے۔
سیرل نے صحافتی اصولوں کے مطابق اپنے ایڈیٹر کو خبر دی، ایڈیٹر نے بھی تصدیق اور اپنے اطمینان کے بعد خبرکی اشاعت کو یقینی بنایا۔ اس خبر میں چونکہ سیاسی اور عسکری حلقوں میں تلخی کا عنصر موجود تھا اس لئے اس پر شدید رد عمل سامنے آیا۔ فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسے سیرل اور اخبار سے کوئی مسئلہ نہیں‘ وہ چاہتے ہیں کہ خبر لیک کرنیوالے کو سامنے لایا جائے۔ فوج کے اس موقف سے بادی النظر میں خبر کے درست ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ حکومت نے سرے سے خبر کی صداقت ہی سے انکار کیا اور رپورٹر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ رپورٹر کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ جمہوری حکومت کا آمرانہ اقدام اور آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔ حکومت اس شخص کی گرفت کرے جس نے خبر لیک کی جو انکی اپنی صف میں موجود ہے اور سیرل پر ای سی ایل کے تحت لگائی گئی تمام پابندیاں اٹھالے۔ اپنی چمڑی بچانے کیلئے حکومت کو ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جس سے اسکی جانب سے آزادی اظہار و صحافت کو پابند سلاسل کرنے کا عندیہ ملتا ہو۔ حکومت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ سیرل کے ساتھ ملکی اور بین اقوامی صحافتی برادری کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کھڑی ہیں۔ وزارت داخلہ کا ہرصورت رپورٹر اور اسکے ادارے کیخلاف ایکشن کا عندیہ دانشمندی نہیں‘ یہ اسکی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔