اب دھرنا سیاست سے سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے دوست ممالک کا اعتماد مجروح نہ کریں

14 اکتوبر 2016
اب دھرنا سیاست سے سیاسی عدم استحکام پیدا کرکے دوست ممالک کا اعتماد مجروح نہ کریں

چین کا سی پیک ہر صورت مکمل کرنے کا عزم‘ روس کا بھارت کو مسکت جواب اور ترکی کا کشمیر ایشو پر بھارت پر دبائو ڈالنے کا عندیہ
چین نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے بڑھتے ہوئے عدم توازن پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بحال کرنے کیلئے ہم سی پیک کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ چین نے پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اس کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں چین کی وزارت خارجہ کے قونصلر برائے چین ایشیاء تعلقات مسٹر یووان نے گزشتہ روز اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے مکمل ہونے سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی اور پورے خطے کو اس سے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک پر بھارتی اعتراضات میں کوئی وزن نہیں اور چین یہ منصوبہ ہر صورت مکمل کریگا۔ انکے بقول مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کرنا ضروری ہے جس میں وقت لگے گا تاہم چین کسی بھی صورتحال میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
دوسری جانب روس نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے بارے میں بھارت کے تحفظات کو پھر مسترد کردیا۔ اس سلسلہ میں بھارتی اعتراضات پر روس نے اسے باور کرایا ہے کہ روس ایسی مشقیں خطہ کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی کررہا ہے اس لئے کسی کو بھی ان مشقوں پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ دنوں روس میں تعینات بھارتی سفیر پنکج سرن نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے بھارتی تحفظات روسی حکام تک پہنچائے تھے اور کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ روس کا فوجی تعاون غلط طرز عمل ہے جس سے مزید مسائل پیدا ہونگے۔ قبل ازیں بھارت نے روس پر فوجی مشقیں منسوخ کرنے کیلئے بھی دبائو ڈالا تھا تاہم روس نے اس بارے میں بھارتی موقف کو مسترد کر دیا تھا۔
سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد امریکہ نے درحقیقت خود کو دنیا کی واحد سپرپاور کے طور پر تسلیم کرانے کیلئے ہمارے خطے میں بھی اپنے اثرونفوذ کو غالب کرنے کی حکمت طے کی جس کیلئے اس نے سوویت یونین کے اتحادی بھارت کو دانہ ڈالا اور اسکے ساتھ اقتصادی‘ دفاعی جنگی تعاون کے وعدے کئے جن پر بھارت محض ہمیں زیر کرنیوالی اپنی جنگی جنونیت کو مزید تقویت پہنچانے کیلئے قائل ہوگیا اور اس نے اپنا قبلہ سوویت یونین سے امریکہ کی طرف تبدیل کرلیا۔ اسی تناظر میں امریکہ نے بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دیا اور اسکے ساتھ ایٹمی ٹیکنالوجی کے فروغ اور ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے بھی معاہدے کرلئے۔ امریکہ درحقیقت بھارت کو ہمارے خطہ کی تھانیداری سونپ کر خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کا توڑ کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے اپنے سپرپاور ہونے میں چین کی جانب سے کسی چیلنج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بھارت پہلے ہی خطے میں توسیع پسندانہ عزائم رکھتا تھا جس کے تحت پاکستان ہی نہیں‘ خطے کے دوسرے ممالک بھی اسکے عزائم کی زد میں آئے اور انہیں اپنی سلامتی و خودمختاری کے تحفظ کی فکر لاحق ہوئی‘ 2014ء کے بھارتی عام انتخابات میں ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو انہوں نے پاکستان کی سالمیت کمزور کرنے کا ہر حربہ اختیار کرنا اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرلیا۔
مودی سرکار کی اس جنونی پالیسی کے تحت ہی کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھائی گئی اور بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنیوالے کشمیری عوام پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ شروع کرکے ان کا روزگار حیات تنگ کرنا شروع کر دیا گیا۔ اس سے لامحالہ اقوام عالم تک کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی صدائے بازگشت پہنچی اور بھارتی چہرہ بے نقاب ہونا شروع ہوا تو عالمی اداروں اور قیادتوں کو بھارتی جنونیت سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے بھی لاحق سخت خطرات کا ادراک ہوا اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دبائو ڈالا جانے لگا تو مودی سرکار نے مکارانہ چالیں چلتے ہوئے یہ دبائو دہشت گردی کے ناطے پاکستان کی جانب منتقل کرانے کی سازش کی‘ جس کیلئے اس نے کشمیری عوام پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا اور ان مظالم کیخلاف کشمیری عوام کے ردعمل کو پاکستان کی جانب سے دراندازی کے کھاتے میں ڈالنا شروع کردیا۔ بھارت کی جانب سے خطے میں بڑھائی گئی اس ساری کشیدگی کے دوران امریکہ نے منافقانہ طرز عمل اختیار کئے رکھا جس نے پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے عمل دخل کے پیش کردہ ثبوت بھی درخوراعتناء نہ سمجھے اور بھارت میں مسلمان اقلیتوں پر آئے روز کے مظالم پر بھی خاموشی اختیار کئے رکھی۔ اس صورتحال میں چین اور روس نے خطے میں طاقت کا توازن بگڑتا ہوا محسوس کرکے پاکستان کے ساتھ تعاون کی درست پالیسی اختیار کی جس میں یقیناً اس خطہ میں امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کا توڑ ہی مقصود ہوگا کیونکہ اس گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں ہی بھارت چین کو بھی آنکھیں دکھا رہا تھا اور امریکہ شام کے ساتھ جنگ کے تناظر میں روس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا۔
اسی تناظر میں پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے نے اہمیت حاصل کی کیونکہ سی پیک کے ذریعے چین کی علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کی فضا ہموار ہوگی اور روس کے بھی خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کے راستے نکلیں گے جبکہ سی پیک کے ذریعے ہونیوالی علاقائی اور عالمی اقتصادی سرگرمیوں سے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے راستے بھی ہموار ہو جائینگے۔ اس طرح پاکستان چین اقتصادی راہداری سے جہاں امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے خطے میں بگاڑا گیا طاقت کا توازن بحال ہوگا وہیں امریکہ کا دنیا کی واحد سپرپاور ہونے کا زعم بھی ٹوٹ جائیگا۔ چنانچہ آج امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سے خطرہ محسوس کرنیوالے خطے کے تمام ممالک کے مفادات سی پیک کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں اور اس حقیقت کو بھانپ کر ہی بھارت سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف ہے۔
آج بھارتی جنونیت کے پیدا کردہ حالات نے اس خطے کے ممالک کو ہمارے ساتھ ہم آہنگ کردیا ہے اور گزشتہ روز ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے بھی ترکی کا دورہ کرنیوالے وزیراعظم نوازشریف کے خصوصی وفد کو دوران ملاقات یقین دلایا ہے کہ ترکی اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دبائو ڈلوائے گا اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف ترک اسمبلی میں مذمتی قرارداد بھی منظور کی جائیگی۔ ہمیں بھارتی جارحانہ عزائم کیخلاف علاقائی اور عالمی سطح پر حاصل ہونیوالی حمایت کی بنیاد پر ہی بھارتی سازشیں ناکام بنانی ہیں جس کیلئے ہمیں متعلقہ ممالک کا حاصل شدہ اعتماد بہرصورت برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں اندرونی طور پر مکمل سیاسی استحکام حاصل ہو اور قوم ملکی سلامتی سے متعلق مفادات کے تحفظ کیلئے ایک لڑی میں پروئی نظر آئے۔ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب بھارتی جارحانہ عزائم سے سی پیک منصوبے اور ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کو بھانپتے ہوئے ملک کی تمام قومی سیاسی اور عسکری قیادتیں ایک ہی زبان اور ایک ہی انداز میں مضبوط عزم کے ساتھ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے یکجہت نظر آئیں گی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سسٹم کیخلاف کسی سازشی تھیوری کو پنپنے نہ دیا جائے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کی خاطر سیاسی اختلافات فراموش کرکے للکارے مارتے مکار دشمن کو اس کا منہ توڑنے کا پیغام دیا جائے۔
اگر آج ملک کی سلامتی کیلئے علاقائی اور عالمی قیادتوں کی جانب سے پاکستان کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا اظہار ہورہا ہے‘ چین سی پیک کو ہر صورت مکمل کرنے کا عزم ظاہر کررہا ہے‘ روس ہمارے ساتھ فوجی تعاون کے معاملہ میں بھارت کو مسکت جواب دے رہا ہے اور ترکی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہمارے موقف سے ہم آہنگ ہے تو ہمیں یہ اعتماد برقرار رکھنے کیلئے خود بھی تو کچھ کرنا ہے۔ اس صورتحال میں عمران خان کا اسلام آباد کو بند کرنے کا حکومت مخالف منصوبہ ہمارے قابل اعتماد دوستوں کو ہم سے بدگمان کرنے کا باعث ہی بنے گا۔ عمران خان کے گزشتہ دھرنے کی پیدا کردہ فضا کے باعث ہی چین کے صدر نے اس وقت پاکستان کا شیڈولڈ دورہ منسوخ کرکے ہمارے دشمن بھارت کا رختِ سفر باندھا تھا جس کے بعد ہمیں دوبارہ چین کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے کافی محنت کرنا پڑی۔ اب اگر چین ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور سی پیک کی ہر صورت تکمیل کا عزم ظاہر کررہا ہے تو اب اسلام آباد بند کرنے کے منصوبے والے نئے دھرنے کے ذریعے حکومت مخالفین کو چین کے اس اعتماد میں کوئی دراڑ پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ اگر خدانخواستہ اپوزیشن کی دھرنا تحریک سے سی پیک کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس پر سب سے زیادہ خوشی ہمارے دشمن بھارت ہی کو ہوگی اس لئے عمران خان کو اسلام آباد کو ’’دھرناپلس‘‘ کے ذریعہ بند کرنے کے سیاسی پوائنٹ سکورنگ والے ایجنڈے سے رجوع کرلینا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ یکجہت ہونیوالے ممالک کا اعتماد مجروح نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح ملک کی سلامتی کا تحفظ ہے۔ ملک سلامت رہے گا تو یہاں اقتدار کی سیاست چل پائے گی۔