کلام الامام (۲)

14 اکتوبر 2016
کلام الامام (۲)

٭دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس سے عزت وآبروکو قائم رکھا جائے۔
٭زمانہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردے تو تب بھی تو مخلوق کی طرف مائل نہ ہو۔
٭لوگوں کی حاجتوں کو تم سے متعلق ہونایہ تمہارے اوپر خداکی بہت بڑی نعمت ہے،لہٰذا نعمتوں (صاحبان حاجت) کورنج نہ پہنچا? ،کہیں ایسانہ ہوجائے کہ وہ عطائ￿ بلا سے بدل جائے۔
٭جس نے سخاوت کی اس نے سیادت حاصل کی، جس نے بخل کیاوہ ذلیل ہوا۔
٭جس کا مددگار خدا کے علاوہ کوئی نہ ہو، خبردار !اس پرظلم نہ کرنا۔
٭جو تم کودوست رکھے گا (برائیوں سے ) روکے گا،اور جو تم کو دشمن رکھے گا(برائیوں پر ) ابھارے گا۔
٭عقل صرف حق کی پیروی کرنے سے ہی کامل ہوتی ہے۔
٭اہل فسق وفجور کی صحبت بھی فسق وفجور میں داخل ہے۔
٭جس فعل پر عذر خواہی کرنا پڑے وہ کام ہی نہ کرو، اس لیے کہ مومن نہ براکام کرتا ہے اور نہ ہی عذر خواہی کرتا ہے ،جبکہ منافق روز بروز برائی اور عذر خواہی کرتا ہے۔ ٭غیر اہل فکرسے بحث ومباحثہ اسباب جہالت کی علامت ہے۔
٭جب زمانہ تجھے تکلیف دے تو تو مخلوق کی طرف مائل نہ ہو بلکہ اپنے خالق سے رجوع کر۔
٭اللہ کے سوا کبھی بھی کسی سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہیے۔
٭جب اذیت کے لیے کوئی شخص کسی سے مدد چاہے تو اسکی مدد کرنے والے بھی اسی جیسے ہیں۔
٭اس قوم کو کبھی بھی فلاح حاصل نہیںہوسکتی جس نے خدا کو ناراض کرکے مخلوق کی مرضی خرید لی۔
٭قیامت کے دن اس کو امن وامان ہوگا جو دنیا میں خدا سے ڈرتا رہا ہو۔
٭لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین ان کی زبانوں کے لیے ایک چٹنی ہے، جب تک (دین کے نام پر)معاش کا دارومدار ہے دین کا نام لیتے ہیں ، لیکن جب وہ آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو پھر دین دار بہت ہی کم ہوجاتے ہیں۔
٭کیا تم نہیں دیکھ رہے ہوکہ حق پر عمل نہیں ہورہا ہے، اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جارہی ہے، ایسی صورت میں مومن کوحق ہے کہ وہ لقائے الہٰی کی رغبت کرے۔ ٭میں موت کو سعادت اورظالموں کے ساتھ زندگی کو اذیت سمجھتا ہوں۔
٭اگرمال کا جمع کرنا چھوڑجانے کے لیے ہے تو پھر شریف آدمی چھوڑجانیوالے مال کے لیے کیوں بخل کرتا ہے۔