چین‘ پاکستان‘ ایران اقتصادی راہداری؟

14 اکتوبر 2016

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی اور وہ تھی ایران کا پاکستان کے متعلق رویہ۔ایران کے صدر جناب حسن روحانی نے پاکستانی وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف کے ساتھ اسمبلی کی سائیڈ لائن پر ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں اہم تبدیلی کی پیش کش کی گئی۔ایرانی صدر نے دوستانہ ماحول میں بات کرتے ہوئے دونوں ممالک کی باہمی تجارت، سیکورٹی معاملات اور معاشی ترقی میں مدد کرنے اور انہیں بڑھانے کی پیش کش کی لیکن سب سے اہم بات جناب حسن روحانی کا اقتصادی راہداری میں شراکت کا عندیہ تھا۔ یہ تمام آفرز پاکستان کے لئے نہایت ہی خوش آئند ہیں۔ ایران نہ صرف ہمارا ہمسایہ ملک ہے بلکہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہماری ثقافت ،ہماری تاریخ اور ہمارے سیاسی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ ایک دوست ایرا ن پاکستان کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔تاریخی طور پر بھی ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کی ریاست کو سب سے پہلے تسلیم کیا ۔ہر مشکل مرحلہ پر ہماری مدد کی ۔اسی لئے پاکستان کی ہر قیادت نے پاک ایران تعلقات کی اہمیت پر ہمیشہ زور دیا ۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں تو باہمی تعلقات کو باہمی اتحاد میں تبدیل کر کے پاکستان، ایران اور ترکی کو آر۔سی ۔ڈی کی لڑی میں پرودیا گیا تھا ۔سابقہ دور حکومت میں جناب آصف علی زرداری نے تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے ایران پاکستان گیس معاہدہ کیا جو بد قسمتی سے مختلف سیاسی مجبوریوں کے باعث تا حال تشنہِ تکمیل ہے۔
ماضی کے اتنے شاندار تعلقات کے باوجود کچھ بین الاقوامی تبدیلیوں اور پر یشرز کے مد نظر ہمارے تعلقات میں سرد مہری آئی اور ایران کا جھکاﺅ بھارت کی طرف ہو گیا۔ بھارت کا مقصد پاکستان ایران دوستی میں دراڑ ڈال کر پاکستانی مفادات کو زک پہچانا تھا۔ عالمی پابندیوں کے پیش نظر پاکستان کو بھی مجبوراً خاموشی اختیار کرنا پڑی جبکہ بھارت نے ان حالات سے فائدہ اٹھا کر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ باہمی تجارت کو فروغ دیا۔ ایرانی طلباءکو ہندوستانی یو نیورسٹیوں میں تعلیمی سہولتیں فراہم کیں ۔ ایرانی سیاحوں کو خصوصی مراعات دیں۔ ایران میں گیس اور تیل کی تلاش اور ترقی میں اہم سرمایہ کاری کی جس سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے اور تعلقات دوستی میں بدل گئے ۔اس سازگار ماحول سے مزید فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ایران میں پاکستان کے خلاف ”را“ کا نیٹ ورک قائم کیا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ”را“ نے شمالی اور مشرقی ایران میں اپنے ہیڈ کوارٹرز قائم کئے۔ بلوچستان میں پکڑے جانے والے کلبھوشن یادیو کا تعلق مشرقی ہیڈ کوارٹرز سے بتایا جاتا ہے اور مبینہ طور پر وہ ایران ہی سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو اپنے پڑوسیوں میں تنہا کر نے کی پالیسی اپنائی تو اس نے افغانستان، ایران اور بھارت اتحاد کی بنیاد رکھی ۔بھارت شروع سے ہی افغانستان اور سنٹرل ایشیا سے باہمی تجارت کا خواہشمند رہا ہے اور یہ اسکی اہم ضرورت بھی ہے۔ اپنی ضرورت کے پیش نظر بھارت عرصہ دراز سے پاکستان پر تجارتی راہداری کے لئے ہر قسم کا دباﺅ ڈالتا رہا ہے جو پاکستان نے ہمیشہ رد کردیا ۔ اب بھارت نے افغانستان اور سنٹرل ایشیا سے تجارت کے لئے پاکستان کو بائی پاس کر کے ایران کے راستے تجارت بڑھانے کا منصوبہ بنایا اور وہ تھا ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی تعمیر جس پر کام کچھ عرصہ سے جاری ہے۔ بھارت اس بندر گاہ کی تعمیر میں 500ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی کررہا ہے۔ چاہ بہار سے افغانستان تک پہلے ہی بھارت کے اشتراک سے سڑک تعمیر ہو چکی ہے اور مزید یہ کہ بھارت یہ بندرگاہ تعمیر کر کے پاکستانی بندرگاہ گوادر کو ناکام بنا دینا چاہتا ہے۔ بہر حال چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر شروع کرنے کے بعد سے ایران اور بھارت کے تعلقات میں مثالی بہتری آئی ہے ا ور ایران نے پاکستان کے مقابلے میں بھا رت کو زیادہ ترجیح دینا شروع کردی ہے۔ ایک مرحلہ پر ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ:
” بھارت ہمارا ثقافتی پارٹنر اور قریبی دوست ملک ہے “تو یوں پاکستان دونوں ممالک کے قریبی تعلقات میں سینڈوچ بن کر رہ گیا۔ یہ صورت حال کسی طرح بھی پاکستان کے حق میں نہ تھی۔ بھارت سے تو ہماری کبھی دوستی نہیں رہی نہ ہی دوستی کی توقع ہے لیکن ایران کے ساتھ ہمیں اپنے تعلقات اور دوستی بہت عزیز ہیں جسے کسی حالت میں بھی قربان نہیں کیا جاسکتا۔
ایران اور بھارت کی اس دوستی اور خصوصی قربت کے پس منظر میں ایرانی صدر کا پاکستانی وزیر اعظم سے مل کر باہمی تعلقات کو بڑھانے اور خصوصاً اقتصادی راہداری میں شراکت کا عندیہ دینا حالات اور سوچ میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ایران خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مد نظراپنے کردار کی نئی راہیں متعین کرنا چاہتا ہے۔ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن لا کر اپنے مفادات چین کے ساتھ منسلک کرنے کا خواہشمند نظر آتا ہے اور یہ تبدیلی بے وجہ بھی نہیں۔ کہتے ہیں شاطر آدمی دوسروں کو پھنسانے کے لئے جو جال بچھاتا ہے بعض اوقات خود بھی اس میں پھنس جاتا ہے اور یہی کچھ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوا ہے۔ 15 اگست اپنے یوم آزادی کے موقع پر نریندر مودی نے لال قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر بلوچستان میں تحریک آزادی کی بڑھک ماری حالانکہ اسکا بلوچستان سے کسی قسم کا تعلق بھی نہیں۔بھارت کا مقصد تو پاکستان کو زک پہنچانا ہے۔ بھارت نے بلوچستان کے متعلق گو بیان تو 15اگست کو دیا لیکن وہ کافی عرصہ سے خفیہ طور پر بلوچستان میں دراندازی کر کے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت نے افغانستان کو بھی ساتھ ملا رکھا ہے۔ دونوں ممالک مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کرارہے ہیں۔ کشمیر بھارت کے لئے اسوقت درد سر بن چکا ہے۔بھارت کی نظر میں کشمیر میں حالات خراب کرنے کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ بھارتی قیادت اور میڈیا کے مطابق پاکستان کشمیر میں دخل اندازی کر کے کشمیریوں کو بھڑکا رہا ہے۔ بلوچستان میں تحریک آزادی کا نام لے کر بھارت نے ڈبل گیم کھیلی۔ ایک طرف وہ دنیا کی نظریں کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے اور دوسری طرف وہ پاکستان کو کشمیر میں دخل اندازی کا سبق سکھانا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں تحریک آزادی شروع کراکر بھارت شاید دونوں مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ اسی لئے اب بھارت نے بین الاقوامی فورمزپر بھی بلوچستان میں تحریک آزادی پر بیانات اور کنویسنگ شروع کردی ہے۔ باغی بلوچ سرداروں کی حمایت اور مدد میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ بر ہمداغ بگٹی کو بھارت میں سیاسی پناہ بھی آفر کردی گئی ہے۔ بلوچوں کو بھڑکانے کے کئے ریڈیو پر بلوچی پروگرام بھی شروع کردیاگیا ہے۔ ان حالات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کن منصوبوں پر کام کررہا ہے۔
بلوچستان میں آزادی کی تحریک شروع کر کے بھارت خود ہی اپنے جال میں پھنس گیا ہے۔ بھارت نے شاید اس بات کا احساس نہیں کیا کہ بلوچستان کی تحریک آزادی ایرانی بلوچستان کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں اسو قت بیک وقت دو تحریکیںچل رہی ہیں۔ ایک تو بلوچستان کی تحریک آزادی ہے جو باغی بلوچ سردار چلا رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے کچھ ا رکان بھی ان کی مدد کررہے ہیں۔ اب بھارت بھی ان کی مدد کے لئے کھل کر میدان میں آگیا ہے۔ دوسری تحریک ”گریٹر بلوچستان“ کی ہے جس میں ایرانی اور پاکستانی بلوچستان کو ملا کر ایک آزاد ملک بنانا ہے ۔لہٰذا بلوچستان میں حالات جو بھی ٹرن لیں گے ایرانی بلوچستان لا محالہ طور پر متاثر ہوگا۔ بھارت کی کوششیںگو ظاہری طور پر پاکستانی بلوچستان کے لئے ہیں لیکن ایرانی بلوچستان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ ہے وہ پس منظر جس نے ایران کو پاکستان کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ایران کی آفرز قبول کرنے سے پاکستان چین اور ایران تینوں مستفید ہوں گے۔پاکستان اور ایران مل کر بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ نکال سکتے ہیں۔ دہشتگردی اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ ملک کے خلاف چلنے والی تحریکوں کو کچل سکتے ہیں۔ اقتصادی راہداری کی وقت سے پہلے تکمیل کر سکتے ہیں۔ اسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ تجارت میں ”بوسٹ“ مل سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر چین اور پاکستان دونوں ایران کے بے پناہ انرجی وسائل سے مستفید ہو سکتے ہیں۔