چور مچائے شور!

14 اکتوبر 2016

نوجوان اور ہر دلعزیز کشمیری رہنما برہان الدین مظفر وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر ایک بار پھر لہو لہو ہے۔ 8 جولائی سے آج تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے لیکن اسکے باوجود ہر گلی میں بھارت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور گزشتہ تین ماہ سے زائد کے عرصے میں بھارتی فوج عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں نہتے معصوم کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر چکی ہے۔ ان میں سے کئی زخمی ایسے ہیں جو ”پیلٹ گنز“ کا شکار ہو کر اپنی بینائی ہمیشہ کیلئے کھو چکے ہیں۔ ہر شہید کے اٹھنے والے جنازے میں ہزاروں لاکھوں افراد نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے پرچم لہراتے اور بھارت مخالف اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے بھی نظر آتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ سب مقبوضہ کشمیر کی ہر گلی میں ہو رہا ہے اور بھارت اس بارے میں کہہ رہا ہے کہ یہ سب دراصل پاکستانی ”گھس بیٹھئے“ کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کی بات درست مان لی جائے تو پھر تو پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں بھارت کے اندر گھسے بیٹھے ہیں اور کشمیر کے ہر گلی کوچے میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔
بلوچستان میں بھارتی مداخلت کوئی نئی یا ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے کہہ رہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور کئی بلوچ علیحدگی پسند اور ایسی تنظیمیں جو بلوچستان میں دہشتگردی کر رہی ہیں وہ در اصل بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کر رہی ہیں۔ پہلے دن سے لےکر کلبھوشن یادیو کی رنگے ہاتھوں گرفتاری تک بھارت ہمیشہ ان سب خبروں کی تردید کرتا آیا ہے لیکن حال ہی میں اس سلسلے میں بھارتی پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ خبریں آئیں کہ بھارت براہمداغ بگٹی کو بھارتی شہریت دینے پر سنجیدہ غور کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بھارت قبول کر رہا ہے کہ پاکستان اور خصوصی طور پر بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے والوں سے بھارت کے خاص دوستانہ تعلقات ہیں۔ اسکے بعد بھارتی وزیر اعظم مسٹر مودی نے 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر سے معاملہ اس سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ گلگت، بلتستان اور آزاد جموں اور کشمیر کے عوام ان کا (مودی کا) شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ان علاقوں میں ہونےوالی انسانی حقوق کی (مبینہ) خلاف ورزیوں کےخلاف اور ان علاقوں کے عوام کو پاکستان سے آزاد کروانے کیلئے ایک واضح کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ البتہ مسٹر مودی نے اپنی تقریر میں یہ واضح نہیں کیا کہ ان لوگوں نے انکا شکریہ فیس بک پر ادا کیا تھا یا خواب میں آ کر۔ بے شک مسٹر مودی کا یہ دعویٰ تو مضحکہ خیز ہی تھا اور دنیا میں کسی نے انکی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن پھر بھی انکی تقریر پاکستان کیلئے فکر انگیز تھی اور اسے بھارت کی جانب سے ایک پالیسی بیان کے طور پر لیا جانا چاہئے۔ ایک تو انہوں نے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو ختم کر دیا اور ہٹ دھرمی اور بے شرمی سے قبول کیا کہ بھارت بلوچستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ دوسرا مودی کی تقریر میں دراصل پاکستان کیلئے ایک دھمکی بھی تھی کہ بھارت نہ صرف بلوچستان میں اپنی پاکستان مخالف کارروائیاں جاری رکھے گا بلکہ آنےوالے وقت میں اس قسم کی کارروائیوں کا دائرہ گلگت، بلتستان اور کشمیر تک پھیلانے کی کوشش کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت گلگت ، بلتستان اور بلوچستان میں پہلے ہی خفیہ ریڈیو نشریات کا آغاز کر چکا ہے جن میں پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسٹر مودی کی تقریر میں بلوچستان کا ذکر کرنے کا آئیڈیا یونین ہوم منسٹر راجناتھ سنگھ اور ڈیفنس منسٹر منوہر پریکار کا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح سے پاکستان کو کشمیر کے بارے میں بیک فٹ پر جانا پڑےگا۔ کشمیر تو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس بارے میں بیک فٹ پر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن کیا مسٹر مودی کے مشیران کو اس بات کا اندازہ ہے کہ اسطرح سے بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات حل کرنے کی جانب قدم اٹھانے کی بجائے ایک نئے تنازعہ کا اعلان کر رہا ہے اور اس قسم کے دعویٰ کے دور رس تنائج کیا برآمد ہونگے؟
انسانیت کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ انسانی حقوق کی بات بھارت کا وہ وزیراعظم کر رہا ہے جس نے اقوام متحدہ کے ہیومن رائیٹس کمیشن (UNHRC) کو باضابطہ طور پر درخواست دینے کے باوجود مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جس کی تربیت ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی گود میں ہوئی ہے اور اسکی درندگی کی داستانیں گجرات سے شروع ہو کر کشمیر تک پھیل چکی ہیں۔ اگر بقول مسٹر مودی آزاد کشمیر اور بلوچستان کے عوام انکا شکریہ ادا کر رہے ہیں تو انہیں اقوام متحدہ اور عالمی پریس اور میڈیا کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت تو فوری طور پر دے دینی چاہئے۔
کشمیر پر اپنا فوجی تسلط قائم رکھنا تو بھارت کی پالیسی ہے ہی، لیکن موجودہ حالات میں بلوچستان میں بھارت کی بڑھتی دلچسپی کی وجوہات میں CPEC بھی ہے۔ جہاں یہ منصوبہ پاکستان سمیت علاقے میں ترقی کی نئی راہیں کھولے گا وہاں بلوچستان میں بھی اقتصادی ترقی کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ اور بلوچستان کی اقتصادی ترقی بھارت کو منظور نہیں کیونکہ جتنا یہ علاقہ ترقی کرتا جائے گا ایک تو بھارت کو ”بکاﺅمال“ اور غدار ڈھونڈنے میں مشکل پیش آئے گی اور دوسرا غربت میں پسے لوگوں کو بہکانا آسان ہوتا ہے۔ بلوچستان ہو یا بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگنے والے دہشت گردی کے الزامات، اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے پاکستان کو تیز تر سفارت کاری اور فعال اور ” سمجھدار اور محب وطن“ میڈیا کی ضرورت ہے جو بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر ہونیوالے ”مظالم“ پر گھنٹوں بحث کرنے کی بجائے مظلوم کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم کی نشاندہی کرے اور یہ سمجھے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اصل مسئلہ کشمیر ہے نہ کہ فنکار۔