اسلام آبادلاک ڈاﺅن اور انکل پالیسی

14 اکتوبر 2016

گورنمنٹ چاہتی ہے کہ قربانی صرف پی ٹی آئی دے اور وہ اپنے کسی بھی اقدام سے پیچھے نہ ہٹے یعنی حکومت پانامہ لیکس کے معاملے میں اپنی پالیسی بدلنے کو بالکل بھی تیار نہیں ہے کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر پانامہ پر کوئی شفاف طرزپر انکوائری ہوئی تواس سے ان کے سیاسی مستقبل کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتاہے یہ سب ہی جانتے ہیں کہ شریف خاندان کے بیانات میں کافی تضادات ہیں جو کرپشن کے خلاف انکوائری کے معاملے کو خاصا مشکل میں ڈال دیتے ہیں جس کا رسک وزیراعظم صاحب کسی بھی حال میں لینے کو تیار نہیں ہیں اس کے باوجود "میں نہ مانو ©"کی اس پالیسی میں بھی نقصان حکومت کو ہی اٹھانا پڑرہاہے دن بدن عوامی حلقوں میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کی شہرت کا گراف گرتا چلا جارہاہے اور عمران خان کے سوالات کے جوابات نہ دینے پر ملک کے حکمران اپنی ہی رعایا کے سامنے مشکوک سے مشکوک تر ہوتے جارہے ہیں ۔ اب چو نکہ عمران خان نے رائیونڈ کے جلسے میں اسلام آباد کو بند کرنے کی کال بھی دے ڈالی ہے اس میں حکومت کی اسی روز سے دوڑیں لگی ہوئی ہیں اور جوں جوں دن قریب آرہے ہیں حکومت کی بے چینی کو صاف محسوس کیا جاسکتاہے ،حکومت نے پہلے ہی مرحلے میں اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی کو ملک دشمنی قراردیاہے ان کا کہنا ہے کہ یہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈورکے خلاف ایک سازش ہے جبکہ قوم یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ کہاں اقتصادی راہداری کا منصوبہ اور کہاں وزیراعظم کی ناجائز دولت کا سوال !! ۔ لیکن حکومت نے چونکہ اس احتجاج کو ہر حال میں روکنا ہے اس لیے ان کی جانب سے حب الوطنی کے بیانات کا آنا ایک روایتی سا عمل ہے ،حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کو کچھ رعایت دیئے بغیر ہی اس معاملے سے پیچھے ہٹا دیاجائے جبکہ تحریک انصاف شفاف انکوائری کے بغیر کسی بھی حال میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے جبکہ حال ہی میں انہوں نے ایک بار پھر سے وزیراعظم کا استعفیٰ بھی مانگ لیا ہے جو نواز لیگ کے سینے سے دل نکال لینے کے مترادف ہے جب وزیراعظم صاحب نے اپنی حکومت کے ساڑھے تین سالوں میں کسی کو وزرات خارجہ کے عہدے کے قابل نہیں سمجھا اور اس عہدے کو بھی کلیجے سے لگائے رکھا ایسے میں وہ وزیراعظم کی سیٹ کو کیونکر چھوڑ سکتے ہیں؟ ،لیکن پریشانی یہ ہے کہ اس مسئلے پر ان کا واسطہ بہت ہی ضدی سیاستدان سے جاپڑاہے جو خود بھی رجا ہوا ہے اور سب سے بڑھ کر کرپشن کے معاملے میں کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں ہے مسلسل ایک ہی راگ الاپ رکھاہے کہ اس ملک کو کرپشن کے ناسوروں سے نجات دلانی ہے ، جبکہ عمران خان 30اکتوبر کے احتجا ج کی تیاری 15 اکتوبر سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد بند کرنے کے اعلان پر پی ٹی آئی کی تیاریوں اور ڈنڈ بیٹھکوں کو دیکھتے ہوئے نواز لیگ کے کچھ حلقوں نے حکومت کو یہ بھی مشورہ دے ڈالاہے کہ عمران جو کہتا ہے وہ کردکھاتاہے لہذا اس احتجاج کو روکنے کے لیے 30اکتوبر سے چند روز قبل پی ٹی آئی کے کچھ سرگرم رہنماﺅں اور کارکنوں کو نظر بند کردیاجائے تاکہ اسلام آباد بندکرنے کی دھمکی پر موثر انداز میں عمل ممکن نہ ہوسکے ۔ان حکومتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ کال ایک خطرناک راستہ ہے جس سے حالات کسی بھی لحاظ سے بگڑ سکتے ہیں اور جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ بھی ان ہی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں لہذاایسا ممکن ہے کہ اکتوبر کے آخری دنوں یا آخری چند گھنٹوں میں پی ٹی آئی کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ اور نظر بندی کا سلسلہ شروع ہوجائے !!جو نہ صرف پنجاب بلکہ خیبر پختونخواہ سمیت سندھ تک پھیلا ہواہے جبکہ حال ہی میں رائیونڈ جلسہ میں اس بار کراچی اور سندھ بھر سے قافلے بڑی تعداد میں نکلے ہیں جس پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نظر بندی کی یہ بجلی یقیناً سندھ میں بیٹھے پی ٹی آئی کے سرگرم رہنماﺅں پر بھی گر سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک خبر یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف نے بھی اپنے کارکنوں کی نظربندیوں اور گرفتاریوں کے عمل کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔لیکن ہم سمجھتے ہیں نواز حکومت اس بار وزارت عظمیٰ کی قربانی دے ہی دے تو اچھا ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماﺅں پر تشددکی پالیسی ان ہی کے گلے پڑسکتی ہے ، جب تک حکومت پانامہ لیکس کے معاملے میں ایک خودمختار اور شفاف کمیشن بنانے میں کامیاب نہیں ہوجاتی حکومت کی مشکلات اسی اندازمیں بڑھتی رہینگی اور پانامہ کا ایشو حکومت کے لیے دردسر بنارہے گا، کرام پیپلزپارٹی بھی اس سلسلے میں کافی ابہام کا شکار ہے اب ان کی سیاست یہ ہی ہے کہ وہ وزیراعظم کو بچانا چاہتے ہیں وہ بھی اس لیے کہ وزیراعظم اگر پھنسے تو ان کے زرداری صاحب بھی کسی اکاونٹبیلٹی کی زد میںنہ آجائیں لہٰذا لندن سے چلنے والی کالوں میں پیپلزپارٹی نے اپنی سیاست کا رخ اچانک بدل لیاہے جہاں کبھی پہلے وزیراعظم کو پی پی کے نئے چیئرمین غدار کہتے تھے اور انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگلے دوسالوں میں وزیراعظم جیل میں ہونگے ،لیکن اب حالات بدل چکے ہیں چیئرمین پیپلزپارٹی نے اپنی سیاست کا نقشہ بدل دیاہے اور وہ انکل پالیسی کی راہ پر گامزن ہیں حال ہی میں انہوں نے حکومت سے قریبی فیض اٹھانے والے رہنما مولانافضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے ایم کیوایم کے سربراہ کے بارے میں بھی کہاکہ انہوں نے کبھی انکل الطاف کو غدار نہیں کہاہے جبکہ یہ بھی کہاکہ ان کی سیاست کراچی کے لیے ایک حقیقت ہے یہ ہی الفاظ ان کی جانب سے محترم وزیراعظم کے لیے بھی نکلے ہیں جنھیں سن کر موقع پر کھڑے صحافیوں کے بھی منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ہیں ۔جبکہ متحدہ قائد کے متعلق تو خود ان کی حکومت سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پاس کرچکی ہے کہ وہ ملک کے غدار ہیں جبکہ باقی صوبوں میں بھی ایسی قراردادوں کا عمل سامنے آیا ہے خیر یہ ان لوگوں کی سیاست ہے ہم اس جھوٹ کے بارے میں اب کہہ ہی کیا سکتے ہیں،موقع پرستی کی سیاست جس کا ثبوت پیپلزپارٹی کے لیڈر آف اپوزیشن خورشید شاہ بھی ہیں جس انداز میں چیئرمین پی پی کی جانب سے انکل بنانے کی پالیسی کا سلسلہ شروع کیا گیاہے اسی انداز میں خورشید شاہ بھی ایک طویل عرصہ سے زرداری صاحب کی مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہیں اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے دو ہی چیزیں وقت آنے پر معلوم ہوسکیں گی ایک تو 30اکتوبر کا دن اور دوسرا دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم آخر کب باقاعدہ انکل بن کر دکھاتے ہیں۔آپ کی فیڈ بیک کاانتظار رہے گا۔