پولیس گردی یا دہشت گردی

14 اکتوبر 2016

گزشتہ روز شہر قائد کراچی کے علاقہ نیپا چورنگی گلشن اقبال میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایک نوجوان مارا اور اس کا ایک ساتھی نوجوان زخمی ہو گیا ، ابتدائی رپورٹس کے مطابق ہونے والا یہ پولیس مقابلہ مشکوک ہوگیا۔ پولیس گردی میں گولیوں کا نشانہ بننے والے دونوں زخمی نوجوان کافی دیر تک موقع پر تڑپتے رہے اور بروقت طبی امداد نہ ملنے پر سید عتیق نامی نوجوان دم توڑ گیا۔ ایک گھر کا چراغ گل ہوگیا‘ ٹی وی چینلز پر نشر خبروں کے مطابق سید عتیق رینجرز کیڈٹ کالج میں سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا اور اپنے ایک عزیز کے ہمراہ جمعہ کو ا نسٹیٹیوٹ میں پہلی کلاس اٹینڈ کرنے جارہا تھا‘ اس کے زخمی عزیز‘ عزیز اللہ کے مطابق پولیس نے رکنے کااشارہ کیا ہوگا‘ جسے ہم دیکھ نہیں سکے اور ہمارا تعاقب کیا اوربائیک روکنے سے قبل ہی براہ راست فائرنگ کردی۔حالانکہ اس صورت میں ڈائرکٹ فائرنگ کی بجائے موٹر سائکل کے ٹائرز پر برسٹ مار کر ، یا پھر ٹانگوں پر فائرنگ کر کے زخمی کیا جا سکتا تھا، وہ دونوں موٹر سائیکل سوار نہتے تھے، فائرنگ کے مذکورہ واقعہ کا تاہم وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نوٹس لیا ہے اور انصاف کی یقین دہانی کرواتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے فراہمی انصاف کی یقین دہانی اور آئی جی سندھ سے سید عتیق قتل کیس کی انکوائری اپنی جگہ تاہم میڈیا نے پولیس گردی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ اس حوالے سے ایک سال قبل کا ایک واقعہ یاد آیا جو کہ لوٹ مار کے حوالے سے ایک دوست نے سنایا تھا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کچھ مختلف ہوتی۔ ہمارے دوست جو کہ ایک ادارے میں ملازم ہیں انہوں نے ا پنے چند افسران کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سیکیورٹی ادارے کاافسراپنے دوساتھیوں کے ہمراہ گھومنے پھرنے کی غرض سے ہاکس بے، پیراڈائز پوائنٹ کی جانب نکل گئے ۔ خوش گپیوں میں رات کا فی گزر گئی اور واپسی پر انہیں چار پانچ غنڈوں نے گھیر لیا‘ پستول اور ٹی ٹی سے لیس غنڈے دیکھ کر وہ ان کے ارادے بھانپ گئے اور بغیر مزاحمت کئے انہوں نے اپنے پرس وغیرہ دے دئیے ‘ جن میں موبائل فونز و نقدی کے ان کے اے ٹی ایم ، کریڈٹ کارڈز اور ادارے کے آئی ڈی کارڈز وغیرہ تھے لیکن وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ ان سے اس وقت مزاحمت کرنا انہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے حتٰی کہ جان سے بھی جا سکتے ہیں چنانچہ ان تینوں افسروں نے اسے موقع غنیمت ہی جانا اور بچ بچا کر چل دےئے ا ور پھر اگلے دن اس افسر نے اپنے یونٹ آکر دربار لگایا ا وراپنے جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”دوستو....!! اگر چہ آپ کو یہی پڑھایا سکھایا جاتا ہے کہ اپنی جان سے زیادہ آپ کو ملک و قوم کی حفاظت کرنا ہے ، ادارے کی طرف سے دی گئی پہچان‘ شناختی کارڈ‘ وغیرہ کی حفاظت کرنا ہے ‘ تاہم شہر قائد کے حالات کا تقاضا ہے کہ اگر کہیں آپ غنڈوں‘ڈکیتوں کے بیچ نہتے پھنس جائیں تو پھر اپنی جان جس قدر ہو بچائیں اورا پنے موبائل فون‘ پرس وغیرہ بلا حیل و حجت دے دیں کیونکہ اس میں عافیت ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح جب کبھی پولیس والے آپ کو روکتے ہیں تو آپ کورک جانا چاہئے۔ اگر نہیں رکیںگے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مطلب پولیس گردی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں شعور کا فقدان ہے‘ قوانین کی خلاف ورزی کومعمولی گرداناجاتا ہے۔ دوسری جانب جب بھی قانون پر عملدرآمد کے لئے سختی کی جاتی ہے تو پولیس والوںکے لئے کھانچوں کی راہ کھل جاتی ہے یہی صورت حال آج کل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ محرم الحرام میں سیکیورٹی اقدامات کے تحت کراچی میں ڈبل سواری پر عائد پابندی پرسختی کرنے پر پولیس حرکت میں آگئی اور 300 سے زائد افراد کولاک اپ پہنچا دیا گیا اوردرجنوں موٹرسائیکلوں کو تحویل میں لے لیا۔ اس کے ساتھ پولیس کی چاندی ہوگئی ۔ اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق پو لیس کو جیب گرم کرنے کا ایک اور جواز مل گیا ہے ۔چند روز قبل ہمارے ایک دوست کا بھتیجا اسی ڈبل سواری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا‘ دوست چونکہ صحافت سے منسلک تھے‘ متعلقہ تھانے جا کر انہوں نے جب پولیس کو بتایا تو انہیں یہ باور ہو گیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں، یہاں سے کچھ نہیں ملنا ملانا اور چونکہ کاغذوں کا پیٹ بھی تو بھرنا ہے ، افسران کو کارکردگی کا ریکارڈ بھی تو دکھانا ہے تو انہوںنے پہلی فرصت میں ایف آئی آر کاٹ دی۔ گرفتار لڑکے نے بتایا کہ رات میرے ساتھ 20 سے زائد افراد لاک اپ تھے اور مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے دس افراد کیسے کم ہوگئے کہ صبح دو افراد کو اس جواز میں چھوڑا کہ وہ زارو قطار رو رہے تھے اورپولیس کو خدشہ گذرا کہ یہ کہیں روتے روتے جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں اور یہ ان کے ذمہ نہ لگیں۔ ہم فقط آٹھ افراد ہیں جن کا چلان کاٹا گیا ہے اگلا دن اتوار کا تھا‘ ڈیوٹی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنا تھا‘ لیکن پولیس پس پیش سے کام لیتی رہی‘ تاکہ مجسٹریٹ کا ڈیوٹی ٹائم گزر جائے‘ انویسٹی گیشن کی اپنی من مانیاں اور دیگر عملے کی اپنی سب کوششوں کے باوجود ہمارے دوست کو پندرہ سو ہزار روپے دینے پڑے‘ جس کے بعد کورٹ سے ضمانت ہوئی‘ لیکن پولیس سے یہ کوئی نہیں پوچھنے والا کہ 20 میں سے باقی 10 افراد کو کتنی رقم کے عوض رہائی ملی۔ بلا شبہ پولیس رویہ قابل مذمت ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ پولیس کو عوام دوست بنانا چاہتے ہیں۔پولیس کا عوام میں کھویا ہوا اعتماد بحال کرواناچاہتے ہیں‘ جس کےلئے اوور ہالنگ کی ضرورت ہے ، نیک اور اچھی شہرت کے حامل افسران کی ضرورت ہے ،جو ان کے ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت کارروائی کریں‘ نہ ختم ہونے والے کھانچے اور موجودہ پولیس کلچر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے‘ یہی وقت کی ضرورت ہے۔