سندھ کی زراعت بستر مرگ پر‘ علاج کون کرے گا؟

14 اکتوبر 2016

سندھ میں زراعت پر ہی صوبے کی معیشت کا انحصار ہے لیکن اس شعبے کو نظر انداز کرنے اور وابستگان کو مشکلات سے دوچار کرنے کی تمام کوششیں بھی حکومت کی سطح پر ہی ہوتی ہیں اور اس میں بڑھا وا مل مالکان اور آرھتی کرتے ہیں سندھ میں مسائل کا سبب وڈیرے اور کامور ے کو گردانا جاتا ہے وڈیرہ بااثر آدمی اور کامورہ افسر شاہی کیلئے مستعمل ہے۔ زراعت کے شعبے میں مل مالک وڈیرے اور آڑھتی یا پیڈھی مالک کا مورے کا کردار ادا کرتا ہے کپاس‘ دھان‘ گندم‘ گنے ہی نہیں مرچ اور سبزیوں کی فصلوں تک کوشش کی جاتی ہے کہ مناسب ریٹ نہ دیئے جائیں ذکر کریں گندم کی فصل کا چند ماہ قبل تک اس کے کسانوں کو سرکاری خریداری مرکز سے باردانہ (بوریاں) تک نہیں دیا جارہا تھا اس کیلئے ڈی سی‘ مختار کار‘ ارکان اسمبلی اور بعض اوقات کمشنر تک کی سفارش ضروری تصور ہوتی تھی کیونکہ جتنی خالی بوریاں آپ کو ملیں گی اتنی گندم فوڈ کا محکمہ کسان یا کاشت کار سے خریدے گا جب عام آدمی کو بار دانہ نہ ملے اور سفارش میسر نہ ہو تو وہ مجبوراً پیڈھی مالک کو اس کے مقررہ کردہ ریٹ پر گندم بیچے گا جو مقرررہ سرکاری رقم سے خاصی کم ہوتی ہے یعنی32 سو روپے فی 40 کلو گرام کی بجائے 28 سو روپے ۔ کپاس کی چنائی شروع ہوئی تو بھی یہی معاملہ تھا ابتدا میں ریٹ 32 سو روپے فی من تھے لیکن میں جننگ فیکٹری مالکان اور آڑھتیوں نے من مانی کی تو ریٹ گرادیئے گئے اور کاشت کار پریشان ہونے لگے کہ اس رقم میں تو لاگتی اخراجات بھی پورے نہیں ہوں گے۔ اب دھان اور گنے کے آباد گاروں کی شامت آئی ہوئی ہے۔ بالائی سندھ میں ڈوکری‘ قمبر‘ کندھکوٹ‘ جیکب آباد اور ملحقہ صوبہ بلوچستان کے آباد گار سراپا احتجاج ہیں آئے روز وہ دھرنے مظاہرے اور بھوک ہڑتال کرکے اپنا موقف ریکارڈ کرا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اور کچھ غلط بھی نہیں کہ دھان کے نرخ 7 سو روپے سے لیکر 8 سو روپے فی من دیئے جارہے ہیں حالانکہ ایری 6 جوگھٹیا کوالٹی کا چاول ہے مارکیٹ میں 2 ہزار روپے فی من مل رہا ہے دھان سے بننے والا بھوسہ 13 سو روپے من فروخت کیا جاتا ہے فصل کی تیاری میں بیج‘ کھاد‘ زرعی ادویہ‘ ڈھل‘ آبیانہ‘ زرعی آلات اور بجلی کے اخراجات شامل کریں تو کم سے کم قیمت 2 ہزار روپے من مقرر ہونی چاہیئے یہ احتجاج صرف کسان ہی نہیں کررہے اس میں قوم پرست جماعتیں‘ ایوان زراعت‘ سندھ آباد گار بورڈ سمیت سیاسی ‘ سماجی‘ و مذہبی تنظمیں بھی شامل ہیں ان سب کا مطالبہ ہے کہ دھان کی فی من قیمت بڑھائی جائے دوسری سمت گنے کے کاشت کار ہیں چینی کی قیمت مارکیٹ میں 75 روپے فی ہے لیکن گنا 182 روپے فی من خریدا جارہا ہے اور اس پر کٹوتی بھی ہوتی ہے برٹش دور سے رائج شوگر کین ایکٹ کے تحت کرشنگ یعنی گنا بیلنے کا عمل یکم اکتوبر سے شروع ہونا لازمی ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے کرشنگ کی تاریخ آگے بڑھتی جارہی ہے چند برس قبل تو دسمبر میں شروع ہوئی تھی اس بار بھی 15 نومبر کی تاریخ دی گئی ہے اس سارے عمل کا نقصان کسان کو ہوتا ہے۔ کٹا ہوا گنا ہو یا کھیت میں لگا ہوا وہ سوکھنے لگتا ہے تو وزن کم ہوجاتا ہے مٹھاس بڑھ جاتی ہے اس کا فائدہ آڑھتی اور مل مالک اٹھاتے ہیں اس برس حکومت نے قیمت 182 روپے فی من مقرر کی ہے گزشتہ کئی برس سے شوگر مل مالک سرکاری ریٹ دینے سے اجتناب برتتے ہیں ان کے حیلے بہانے اور جواز عام آدمی کو مطمئن نہیں کرتے نتیجتاً آباد گار کو نقصان ہوتا ہے گنے کی کٹائی میں تاخیر کے باعث زمین اگلی فصل کیلئے بروقت تیار بھی نہیں ہوپاتی یہ تمام فصلیں نقد آور ہیں لیکن کسان پریشان۔
ہر ملک اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے اقدامات اور اصلاحات کرتا ہے سہولتوں کی فراہمی سے اس تقویت پہنچاتا ہے بعض ممالک کا ذریعہ آمدن صرف سیاحت ہے تو وہ رغبت دلانے کیلئے سیاحوں کو خصوصی پیکیج دیتے ہیں جہاں صنعت پر انحصار ہے وہاں فیکٹری مالکان‘ محنت کشوں‘ خام مال تیار کرنے والوں اور برآمد کنندگان کو بیش بہا مراعات دی جاتی ہیں لیکن ہمارے یہاںکسی کو فکر نہیں کہ راتوں کو جاگ کر ہمارے لئے محنت مشقت کرنے والے کسانوں کو محروم رکھا گیا تو زرعی معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے نامساعد حالات میں حاصل محنت نہ ملنے کے باوجود وہ ہمہ وقت مصروف عمل ہیں بمپرفصلیں ہوتی ہیں اس کے باوجود پاکستان میں ہر سال 226 ملین ڈالر کی کپاس بھارت سے درآمد کی جاتی ہے پیاز‘ آلو اور لہسن و ادرک تک چین اور بھارت سے درآمد ہوتے ہیں مرچ کے مناسب ریٹ نہیں ملے رہے پاکستان کی زراعت مشکلات سے دوچار ہے باالخصوص سندھ کا زرعی شعبہ۔ اس لئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کے نتیجے میں یہ شعبہ توانا ہوسکے بصورت دیگر تباہی اس کا مقدر ہے حکومت ہو یا زراعت سے وابستہ تنظیمیں ایک جامع پیکیج کی تیاری پر کام شروع کریں تاکہ بمپرفصلوں کا فائدہ عام کسان تک پہنچ سکے کہ زراعت کی بہتری ملکی خوشحالی و استحکام کیلئے بہت ضروری ہے ۔
شاید کہ تیرے دل میں اثر جائے میری بات