سکیورٹی اداروں پر تنقید کا رواج

14 اکتوبر 2016

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ کل پارلیمانی جماعتوں کے نمائندہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی ،وہاں جنم لینے والے انسانی المیے ،اوڑی حملے میں 18بھارتی فوجیوں کی ہلاکت ،رد عمل میں بھارت کی طرف سے ایل او سی پرمسلسل اور بلا اشتعال گولہ باری ،بھارت کی طرف سے پاکستانی کشمیر میں سر جیکل آپریشن کے دعوے اور بھارتی ایماءپر سارک سر براہی اجلاس کے التواءجیسے معاملات پر غورو خوض اور پاکستانی لائحہ عمل کے تعین سے زیادہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں تین چار سال قبل کے پاکستان پر گہرائی میں جا کر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جب پوری قوم سہمی ہو ئی ،فضائیں گولہ بارود کے دھوئیں سے اٹی ہوئیں ،ہمہ وقت کے خود کش حملوں کے باعث پاکستانیوں کا بہتا ہوا خون ،مٹھی بھر دہشت گردوں کے نشانے پر رہنے والی دفاعی تنصیبات ،ریاست پاکستان کی عسکری طاقت کے حقیقی مر کز جی ایچ کیو پر ریاست کے باغیوں کا حملہ ،بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر غیر ملکی آقاﺅں کے اشارے پر گمراہ عناصر کی کاروائیاں ،مذہب ،مسلک اور فقہ کی بنیاد پر پاکستانیوں کا ایک دوسرے کا قتل ،بیرونی ہدایات پر کراچی میں ہر وقت بہنے والاسستا انسانی خون اورفاٹا میں غیر ملکیوں کے ساتھ ملکر طالبان کی طرف سے ریاست پاکستان کے اندر اپنی ریاست قائم کر نے کی اٹل حقیقت ۔۔۔۔۔۔الغرض بیس کروڑ انسانوں پر مشتمل پاکستان‘ خوف اور بے یقینی کا ایسا مر کز بن چکا تھا جہاں ہر طرف عفریت کے ڈیرے تھے اور دور دور تک ریاستی رٹ اور آئین و قانون کی عملداری ناپید تھی ۔ سانحہ پشاور کے باعث کروٹ لینے و۱لی پاکستان قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے عسکری قیادت نے سویلین قیادت سے ملکر افواج پاکستان ،سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا تو آج حالات نا صرف خاصے مختلف ہیں بلکہ ماضی کے مقابلے میں متضاد صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ فاٹا ،کراچی اور بلوچستان وطن دشمن قوتوں سے آزاد ہو چکے ہیں مسلسل حالت جنگ میں رہنے اور ان دیکھی پاکستان دشمن قوتوں کے سامنے سینہ سپر رہ کر افواج پاکستان آج دنیا کی سب سے بہادر اور متحرک فوج تسلیم کی جا رہی ہے پاکستانیوں کی اکثر یت کے علاوہ اقوام عالم بھی پاک فوج کو ملک کے لیے بائنڈنگ فورس سمجھتی ہیں جس نے ملک کی یکجہتی کو قائم رکھا ہوا ہے ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے دہشت گردوں کے علاوہ عام جرائم پیشہ عناصر بھی یا تو رزق خاک بن چکے ہیں اور یا پھر تائب ہو کر معمول کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی قیادت کرتے ہوئے نا صرف اندرون ملک‘ شر کو خیر میں بدل دیا ہے بلکہ ہمہ وقت کی اپنی متحرک شخصیت ،ذاتی محاسن اور ساکھ کی بدولت انہوں نے عالمی برادری میں بھی پاکستانی نقطہ نظر کو مستحسن انداز میں اجاگر کیا ہے روس اور چین کے ساتھ تذویراتی اہمیت کے حامل بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اوریمن کے حوالے سے سعودی عرب اور ایران کے مابین پیدا ہو نے والے مناقشے کے تناظر میں پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی تشکیل دینے میں بھی پاک فوج کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ سکیورٹی ادار ے کسی بھی ملک کی آنکھ اور کان تصور کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے قومیں نا صرف گردو پیش کے حالات سے آگاہی حاصل کرتی ہیں بلکہ حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل بھی طے کرتی ہیں قومی تاریخ کی کتاب میں ماضی کے ابواب کی ورق گردانی کریں یا حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات پر عمیق نگاہ ڈالیں پاکستان کی پرائم ایجنسی آئی ایس آئی کا کردارہمیشہ قومی امنگوں کا ترجمان رہا ہے تا ہم یہ بد قسمتی ہے کہ خطے اور عالمی سطح پر مختلف تعصبات کے باعث دشمنی میں گھرے پاکستان کی حفاظت کی ضامن اس ایجنسی اور دیگر سکیورٹی اداروں کو ناصرف پاکستان دشمن ممالک اور قوتوں کی طرف سے دباﺅ ،تنقید اور چیلنجز کا سامنا رہتاہے بلکہ پاکستان کے اندر بھی مختلف سیاسی طبقات ،دانشور اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز کے وابستگان ہمارے ان قومی اداروں کو نشانے پر رکھتے ہیں حد تو یہ ہے کہ سویلین حکومتیں بھی اس فیشن کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے عام طور پر اپنے اپنے طریقوں سے ان رویوں کو فروغ دیتی رہتی ہیں تا کہ سکیورٹی اداروں کو مسلسل دباﺅ میں رکھا جا سکے۔ ایک طرف کل پارلیمانی سیاسی جماعتوںاور قومی سلامتی کے اجلاسوں میں سکیورٹی اداروں پر اپنی من مانی کر نے کے الزامات لگائے گئے جبکہ دوسری طرف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت اور اپوزیشن نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کل بھاشن یادیو اور مبینہ طور پر علیحدگی پسند سکھوں کی فہرستیں بھارت کو دینے جیسے موضوعات چھیڑ کر قومی یکجہتی قائم کر نے کے اس اہم موقع کو ضائع کر دیا سیاسی حلقوں اور حکومتوں کی طرف سے عا م طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ تو نان اسٹیٹ ایکٹرز کو کنٹرول کر نا چاہتی ہیں تا کہ بھارت کے ساتھ حالات کو معمول پر لایا جاسکے تا ہم اس سلسلے میں سکیورٹی ادارے مزاہم ہیں‘ تا ہم نا قدین بھارت کی کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین اور بھارتی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی جارحانہ دفاعی پالیسی کو کیوں بھول جاتے ہیں جس کا مقصد پاکستان کو مختلف پراکسیزکے ذریعے مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھنا ہے ظاہر ہے بھارت کی اس سوچ اور لائحہ عمل کا جواب دینے اورپاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی سکیورٹی اداروں کو بھی در پیش صورتحال کی روشنی میں نا گزیر اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں ۔ حالت جنگ میں دنیا بھر میں سبھی قومیں اپنے سکیورٹی اداروں کے موقف کی ہم خیال اور ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں جبکہ ہم پاکستانیوں کا باوا آدم ہی نرالہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں کی طرح ہم خود بھی ہر وقت اپنے سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کوتنقید کے نشانے پر رکھتے ہیں ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ رویہ اب ہمارا قومی فیشن بن چکا ہے جسے بعض لوگ سستی شہرت کا آسان نسخہ بھی سمجھتے ہیں تا ہم دیگر محب وطن لوگوں کی طرح مجھے بھی پورا یقین ہے کہ یہ ایک ایسا زہر قاتل ہے جو ہمارے جسد قومی کے لیے سوہان روح کا عنوان رکھتا ہے جس سے جس قدر جلد ممکن ہو سکے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے ۔