مودی، بھارت کا سب سے بڑا دشمن

14 اکتوبر 2016

اظہار اسلوب کے برق رفتار آلات، اسباب اور ذرائع رکھنے والی، جان داروں کے خلیوں کے اندر تک گھس کر ان کی ماہیت، ساخت اور اجزائے ترکیبی تک کو کھوج لینے والی اس دنیا کو کیا ہو چلا؟ اس کی بصارت اور سماعت میں سے صداقت اور دیانت کیوں بے دخل کر دی گئی؟ اس کی فہمائش میں اتنی گنجائش کون سے جذبے کے باعث مفقود ہو کر رہ گئی کہ اس کے لئے بھارت کے دہشت گرد خمیر اور بدخواہ ضمیر کو تسلیم کرنا کارِمحال ہو چکا، تسلیم و رضا اور انکارو اقرار کی آزادی کی اس طرح بربادی تو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، ان تمہیدی کلمات کا مقصود قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہمیں بھارت سے لڑنے کے لئے کسی ایرے غیرے کے دوچار مٹھڑے بول اور بیساکھیوں کے سہارے کی ضرورت ہے، نہیں، الحمدللہ! ہم اکیلے ہی بھارت کو ایسا سبق سکھا دینے کی مکمل آب و تاب رکھتے ہیں کہ آہ و فغاں کا ہر منظر، سسکیوں اور ہچکیوں کا ہر سماں بھارت کے گلی کوچوںمیں بپا کر دیا جائے گا، مطلوب تو محض یہ ہے کہ اعلیٰ تہذیب کے دائرے میں پلنے والی قوتیں، تحمل، بردباری اور قوت برداشت کا سبق ازبر کروانے والی اس جدید دنیا کے احساسات کے کواڑ مسلمانوں کے متعلق کیوں مکمل طور پر مقفل کر دیئے گئے ہیں، فلپائن کے صدر رودریگودوتیرتے نے محض ہولوکاسٹ کے متعلق چند الفاظ ہی ادا کئے تھے کہ یہ الفاظ یہودی دنیا پر برق تپاں بن کر گرے اور دنیا بھر کے یہودیوں میں ایک بھونچال سا آ گیا، عالمی یہودی کانگریس کے صدر رونلڈ ایس لارڈ نے فلپائن کے صدر کو واضح پیغام دیا کہ وہ معافی مانگے، امریکہ میں موجود یہودی تنظیم ایٹی ڈیفی میشن لیگ بھی ان حروف طعن پر مشتعل ہو گئی۔ اس جدید دنیا کی یہ عجیب حسن کرشمہ سازی ہے کہ اس کے کٹیلے نینوں کی بصارت کے کسی زاویے اور رسیلے ہونٹوں کی حرکات و سکنات کے کسی اتار چڑھاﺅ میں اہل کشمیر کے لئے التفات کے اظہار کا کوئی شگوفہ نہیں کھلتا، بھارت نے ساکنانِ کشمیر کے جسم چھید ڈالے، ان کی آنکھیں پھوڑ ڈالیں مگر امتدادِ زمانہ، نیرنگی دوراں اور ماہ و سال کے کسی ایک حصے میں دنیا نے ان کے درد کا درماں کرنے کے لئے ان کی سوچ اور فکر کے ساتھ ہم آہنگی اور مزاج کے ساتھ امتزاج کی بھی جسارت نہ کی۔
حیرت اس بات پر ہے کہ آج دہشت گردی کی تعریف کو بھی کسی تجریدی آرٹ کی لکیروں کی طرح دشوار بنا دیا گیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ جو شخص خود دہشت گردی کا اعتراف کرے اسے امن و شانتی کا سفیر جب کہ وہ شخص جو امن و آشتی کا پیام عام کرے اسے دہشت گرد سمجھ لیا جاتا ہے۔ مودی نے کہا کہ ہم نے1971ءمیں پاکستان کو دولخت کیا، کیا یہ دہشت گردی کا اعتراف نہیں تھا؟ مودی نے احمد آباد اور گجرات کے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا اور کہا کہ آئندہ بھی ایسا کرنے میں مجھے دیر نہیں لگے گی، کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی، بھارت کے پردھان منتری نے مانا کہ بلوچستان میں اس کے رابطے دہشت گردوں سے ہیں، کیا قیام امن کے چارہ سازوں کے نزدیک یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا مودی نے بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا طومار پاکستان پر باندھ کر ایک ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی نہیں دی؟ کیا امن کی بانسری بجانے والے گویّوں کے نزدیک یہ دہشت گردی نہیں؟ اس نے کہا میں پاکستان کو تنہا کر دوں گا، پھر کہا میں دریاﺅں کا پانی بند کر دوں گا کیونکہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ کیا یہ دہشت گردی اور جارحیت نہیں؟ کیا بابری مسجد کو شہید کر دینا دہشت گردی نہیں تھی؟ کیا سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاﺅں کے واقعات دہشت گردی کے قبیل سے تعلق نہیں رکھتے؟ سری لنکا میں تامل باغی بھارتی ریاست کی زیرتربیت اور پشت پناہی سے کام کرتے رہے، کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟ بھارت اٹھارہ فوجیوں کے خون کے صدمے سے اس قدر بدحال اور نڈھال ہے کہ بلاتوقف، بلا سوچے سمجھے اُول فول بکے جا رہا ہے، کیا مقبوضہ کشمیر کے لوگ اپنے ایک لاکھ سے زائد شہداءکے خون کو اتنی آسانی کے ساتھ بھول سکتے ہیں؟ کیا کشمیر کے چناروں، دریاﺅں، ندی نالوں، چشموں اور جھیلوں میں کشمیر کے اہل جنوں کا خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ رہے، مودی یاد رکھے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں مظلوموں کا خون اور پانی ایک ساتھ بہہ سکتے ہیں تو بھارتی جارحیت کے جواب میں بھارتی فوج کا خون اور دریاﺅں کا پانی بھی ایک ساتھ بہنے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔ باریک بینی کی سطح مرتفع پر مسند نشینی کی دعویدار اس دنیا کی اہل کشمیر کے خوابوں کی بھٹکتی تعبیروں، تکمیل کی جانب ہمکتی اور سرگرداں ان کی خواہشوں اور کاوشوں اور ان کے جسم و جاں پر بھارتی استبداد کے باعث المناک حقیقتوں سے صرف نظر برتنے کی محض ایک ہی وجہ ہے کہ وہ لوگ مسلمان ہیں۔ تعصب کی گھٹاٹوپ گھٹائیں اتنی کالی اور سیاہ ہو جائیں تو دنیا میں امن کی فاختہ کو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دے سکے گا، جنوبی ایشیا کے اس خطے پر مقبوضہ کشمیر ایک رِستا ہوا گھاﺅ ہے اور اس گھاﺅ کے باعث اہل کشمیر کے سینوں میں بھارت کے خلاف نفرت کے الاﺅ دہک رہے ہیں۔ بھارت جنگ کی دھمکی دے کر کشمیر پر قبضے کو طول دینا چاہتا ہے۔ ایسا تو کبھی نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی پر مر مٹنا تو گوارا کر سکتا ہے مگر بھارتی تسلط کل قبول تھا نہ آج تسلیم ہے۔ سو دنیا کشمیریوں کے درد کا ادراک کرے اگر دنیا نے اس انتہائی حساس مسئلے میں غفلت کا مظاہرہ کیا تو یاد رکھنا مودی بھارت کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہو سکتا ہے جو بھارت کو تباہ کروا دے گا۔
٭٭٭٭٭