سفارتی محاذ

14 اکتوبر 2016

صاحبو! کل پانچواں درویش بتا رہا تھا کہ آج کل پاکستان بھارت کشیدگی نکتہ عروج پر ہے۔ مودی کا جنون خطہ کوجنگ کی لپیٹ میں بھی لے سکتا ہے۔ ان حالات کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ کم از کم کشمیر کے معاملہ پر ہمارے لئے یکجہتی کا مظاہرہ لازم ہے جس کی طرف ہماری قیادت نے قدم بڑھایا ہے۔ بحیثیت قوم ہی ہم ان حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں لگتا ہے مودی پاکستان کو دنیا کے نقشہ سے مٹا کر اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبیر پانے کی جلدی میں ہے۔ اسی لئے اس نے پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ اس اعصابی جنگ میں پاکستان کشمیریوں کی حمایت سے باز رہے۔ وہ پاکستان کو دہشت گرد یا دہشت گردوں کا سرپرست ثابت کر کے اسے عالمی سطح پر بدنام کرنا چاہتا ہے چاہے اس کام کیلئے اسے اڑی جیسا ڈرامہ ہی کیوں نہ رچانا پڑے۔ یہ اس کی بدقسمتی ہے کہ اڑی ڈرامہ کو وہ ثابت کرنے میں وہ ناکام رہا۔ بنیا پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا بھی عزم رکھتا ہے۔ اس نے پاکستان کو آبی جارحیت کی بھی دھمکی دی۔ اس کی پروپیگنڈہ مشنری ہروقت پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف رہتی ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جھوٹ بولتا ہے اور اتنا جھوٹ بولتا ہے کہ اس کا جھوٹ دنیا کو سچ لگنے لگے۔ وہ پاکستان کے خلاف اسلامی ممالک میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے جبکہ ہمارے پاس مستقل وزیر خارجہ تک نہیں ہماری کشمیر کمیٹی کس قدر فعال ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بنیا کا جنون کھل کر سامنے آ چکا ہے قیام پاکستان کے ۷۰ سال بعد بھی اس نے پاکستان کو ذہنی اور قلبی طور پر قبول نہیں کیا۔ بنیا ہمیشہ پاکستان کو کمزور دیکھنے کا خواہش مند رہا۔ اس کی خفیہ ایجنسی را ہمیشہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سرگرم رہی۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو تقویت پہنچا کر پاکستان توڑنے کا اعتراف تو مودی بھی کر چکا۔ بلوچستان کے معاملات میں اس کی مداخلت کے ثبوت دنیا بھر کے سامنے آچکے۔ آسیان اجلاس میں یہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر چکا ۔ پاکستان میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہو اس کے پیچھے را کا ہی ہاتھ ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان کا معاشی استحکام بھی اسے ہضم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اقتصادی راہداری منصوبے کے پیچھے پڑا ہے۔ پاکستان کو دھمکانے اور دبا¶ میں لانے کے لئے اس کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی آج بھی جاری ہے۔ اس نے پاکستان کی سلامتی پر وار کیا۔ فوج کے دو جوان شہید ہوئے پھر اس نے اس واقعہ کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دے ڈالا مگر یہاں بھی اسے منہ کی کھانا پڑی کیونکہ یہ اپنے دعوے کو ثابت نہ کر سکا۔یہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی فکر میں تھا مگر دنیا اس کے فریب سے آشنا ہوتی گئی۔
مودی سرکار نے اپنی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف بھڑکا رکھا ہے۔ اس کی سیاست اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کے گرد گھومتی ہے۔ شاید یہی اس کے حصول اقتدار کا راز ہے۔ یہ کل بھوشن جیسے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ یہ جانتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس لئے اس نے پاکستان کی اس شہ رگ کو زبردستی دبوچ رکھا ہے۔ یہ دھونس سے وہاں اپنا قبضہ جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے کشمیریوں پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مگر کشمیریوں کے حوصلے پست نہ ہوئے وانی کی شہادت کے بعد تو تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح بیدار ہو چکی ہے۔ مسلسل کرفیو کے باوجود لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہیں سبز ہلالی پرچم ان کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ بنیا کا ظلم اور جبر کا کوئی حربہ انہیں آزادی کی راہ سے نہ روک سکا۔ آج بھی وادی کشمیر لاالہ کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ سینکڑوں کشمیری شہید ہو چکے ‘ ہزاروں اپاہج اور بینائی سے محروم ہوئے مگر کشمیریوں کے دلوں سے حصول آزادی کی تڑپ نہ چھینی جا سکی۔
(جاری ہے)
کشمیری اپنے شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرکے دنیا پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کا مستقبل پاکستان ہے اور ظلم آزادی کا راستہ نہیں روک سکتا۔ پانچواں درویش پھر بولا پاکستانیوں کو کشمیری مسلمانوں سے ہمیشہ بے پناہ محبت اور ہمدردی رہی جب بھی انہیں کوئی تکلیف پہنچی یا ان پر ظلم ہوا پاکستانی عوام تڑپ اٹھی اور تاریخ شاہد ہے کہ کشمیریوں نے جب بھی اپنے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھائی ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئے گئے۔ ۷۰ سال سے بنیا اپنے ہتھیار آزما رہا ہے اور کشمیری اپنا جگر ۔ سچ یہی ہے کہ کشمیریوں نے خون کا نذرانہ دے کر تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھااور آج تک کشمیری بنیا کے ظلم اور جبر کا مقابلہ صبر اور حوصلے سے کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی نے بھارتی حکومت کو بوکھلا کے رکھ دیا ہے آج مودی کو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ دنیا کشمیریوں پر ہونے والے ظلم سے آگاہ ہو چکی ہے۔ اب تو اس ظلم کے خلاف بھارت میں بھی آواز اٹھنے لگی ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ مودی ایک شاطر کھلاڑی ہے اس کا مقابلہ سفارتی محاذپر ہی ممکن ہے۔ اس نے اپنی بوکھلاہٹ کو ختم کرنے کے لئے اپنے وظیفہ خوروں کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جس کے پیچھے کشمیر پر ہونے والا ظلم چھپ جائے مگر کراچی میں ایم کیو ایم تقسیم ہوئی اور الطاف حسین وہ کچھ نہ کر پائے جو مودی کی خواہش تھی پھر بلوچستان میں مودی برہمداغ بگٹی گٹھ جوڑ بلوچستان کے عوام اور بگٹی قبیلہ نے ختم کرکے حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ اب بھی مودی چین سے بیٹھنے والا نہیں۔ وہ اڑی ڈرامہ جیسا کوئی بڑا واقعہ کر کے بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یا مذاکرات کی طرف آ کر معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے اس سے پہلے بھی مسئلہ کشمیر کو لٹکا کر یہ کشمیریوں کو تھکا دینے کی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے مودی کی بوکھلاہٹ کی دوسری وجہ نوازشریف کا اقوام متحدہ میں خطاب بنا جس سے عالمی سطح پر بنیا کے خلاف فضا ہموار ہوئی۔ سچ یہی ہے کہ سفارتی محاذ سے بنیا کے عزائم اور کردار کو بے نقاب کر کے ہی کشمیریوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ آج نوازشریف حزب اختلاف ساتھ لے کر چلنے کے حامی دکھائی دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف کو سفارتی محاذ میں شامل کر کے تحریک آزادی کشمیر کو تقویت پہنچائی جا سکتی ہے۔ حزب اختلاف کے پاس بھی خارجہ امور کے ماہر رہنما موجود ہیں جیسے شاہ محمود قریشی‘ حنا ربانی کھر اور قصوری صاحب کہنا یہ چاہتا ہوں کہ سفارتی محاذ کو قومی سطح کا محاذ بنایا جائے جس میں ہر پارٹی سے امور خارجہ کے ماہر شامل کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔