چلو!جشن منائیں

14 اکتوبر 2016

ہلکی ہلکی دھند تھی۔ موسم البتہ خوشگوار تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی ایک گھاٹی میں قائم بھارتی فوجی یونٹ میں سورج نکلتے ہی اعلان کردیا گیا کہ سب لوگ فوراً گرا¶نڈ میں اکٹھے ہو جائیں۔ حکم سنتے ہی سب لوگ اپنے کام ادھورے چھوڑ کر گرا¶نڈ میں پہنچنا شروع ہو گئے۔ چار پانچ منٹ میں پوری یونٹ کا عملہ گرا¶نڈ میں موجود تھا۔ کسی کے منہ پر شیونگ کریم لگی ہوئی تھی اور کسی نے خود کو تولئے میں لپیٹا ہوا تھا۔ اکثر تو ابھی ابھی جاگے تھے جواپنی آنکھیں مل رہے تھے۔ سورج کی ہلکی روشنی بھی ان کی آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھی۔
یونٹ کمانڈر اپنے جوانوں سے یوں مخاطب ہوا۔ ”جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں ہم تاریخ کے بہت نازک موڑ سے گزر رہے ہیں۔ ہم پچھلے ستر سال سے کشمیر پر قابض ہیں جس کی ساری عوام دہشت گرد ہے۔ یہ ہر وقت پتھروں اور غلیلوں سے مسلح رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچا¶ کے لئے جدید خود کار اسلحہ اور پیلٹ گنیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ اندھے ہوتے ہیں یا مر جاتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے دھرم کے نہیں ہیں۔ ہمارا دھرم عظیم ہے اور ہم اس کے رکھوالے ہیں۔ ہم گائے کو ماں کہتے ہیں اور یہ ہماری ماں کو کاٹ کر رکھا جاتے ہیں۔
ان مسلح دہشت گردوں نے اڑی پر حملہ کر کے ہمارے نہتے فوجیوں کو مارا تھا۔ بدلے میں ہم نے اپنے مرنے والے فوجیوں سے زیادہ نوجوانوں کو مصنوعی آپریشن میں مار دیا تھا۔ تاہم ہم نے اس کا الزام پاکستان پر لگایا تھا اور مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ رات ہم نے پاکستانی کشمیر میں ایک سرجیکل آپریشن کیا ہے۔ اس میں ہم نے دشمن کے اس ٹھکانے کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے جہاں سے اڑی پر حملے میں ملوث لوگ آئے تھے۔ یہ آپریشن مکمل رازداری سے عمل میں لایا گیا ۔ یہاں تک کہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک کو اس حملے کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ اسی خوشی میں آج بڑا کھانا ہو گااور جشن منایا جائے گا“
حوالدار: سر! لیکن آپریشن کی کمانڈ کس نے کی اور حصہ کن کن جوانوں نے لیا؟
کمانڈر: اس کی کمانڈ میں نے کی تھی اور میرے ساتھ آپ لوگ ہی تھے۔ ہم نے رات کی تاریکی میں تیاری کی تھی اور بذریعہ ہیلی کاپٹر وہاں گئے تھے۔ آپریشن کامیابی سے مکمل کرکے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہم واپس بھی آ گئے تھے۔ پندرہ منٹ تک ہم نے وہاں فائرنگ کی۔ تب جا کر کامیابی ملی پھر کلیرنس میں باقی وقت صرف ہوا۔
حوالدار: حیرت ہے سر! کیا پاکستانی آرمی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا؟ اور ہمارے ہیلی کاپٹر کی آواز بھی نہیں نکلی؟ کیا ہمارا ہیلی کاپٹر ان کے ریڈار میں بھی نہیں آیا؟ اور پندرہ منٹ ہونے والی فائرنگ کی آواز علاقے میں کسی نے نہیں سنی؟
کمانڈر: ہم نے انہیں ردعمل کا موقع ہی نہیں دیا۔ اور ہم نے سا¶نڈ پروف بندوقیں استعمال کی تھیں۔ ہمارا ہیلی کاپٹر بھی سا¶نڈ پروف تھا اور ریڈار کو ہم نے پہلے ہی جام کر دیا تھا۔
حوالدار: سر! ہمارے پاس نہ تو سا¶نڈ پروف ہیلی کاپٹر ہیں اور نہ ہی سا¶نڈ پروف بندوقیں اور نہ ہی ریڈار کو جام کرنے والی ٹیکنالوجی۔ پھر یہ سب کچھ ہم نے کیسے کر دکھایا؟
کمانڈر: یہ سب راز کی باتیں ہیں۔ آپ لوگوں کوان کی سمجھ نہیں آئے گی۔ آپ بس یہ یاد رکھیں کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ہم نے ایسا کام کر دکھایا ہے جس پر پاکستان ہکا بکا ہے۔ اسے ایسی کسی کارروائی کی امید بھی نہیں تھی۔ چلو اب اسی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔ آج کا دن ہمارے لئے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ چلو اس دن کو یادگار بنائیں اور وعدہ کریں کہ ہم اس طرح کی سرجیکل سٹرائیکس کے ذریعے بھارت کو عظیم تر بنائیں گے۔
حوالدار: آپ نے تو کہا ہے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملے میں شامل تھے لیکن ہم تو سوئے ہوئے تھے۔ ابھی جاگے ہیں۔ ہمیں تو بالکل پتہ نہیں۔
کمانڈر: یہ بہت سیکرٹ حملہ تھا۔ مجھے بھی تو اس کا صبح ہی پتہ چلا ہے۔

چلو بھر پانی

سبز سفید مہکتے قومی پرچم پر چمکتے چاند ستارے میں لپٹا ،کپتان محمد طحہ خان کا ...