جب آنکھ میں چھرہ دھنستا ہے !

14 اکتوبر 2016

سکّہ وہ دھات ہے جو تمام دھاتوں سے بھاری ہے۔ بظاہریہ نرم سا ہوتا ہے ۔ اس کی تار کو آپ تنکے کی طرح موڑ سکتے ہیں۔ یہ سلوررنگت کی دھات انسانی جسم کیلئے انتہائی ہلاکت خیز ہوتی ہے۔ سکّہ کسی کو کاٹ نہیں سکتا لیکن یہ جسم کے اندر دھنس جانے کی تباہ کن صلاحیت رکھتا ہے ۔ کیمسٹری کی زبان میں اس کا ایٹمی وزن بیاسی ہوتا ہے ۔ اگر اس کا بنا ہوا معمولی سے دانہ ہاتھ کے زور سے پنڈلی پر مارا جائے تو یوں محسوس ہوگا جیسے گوشت کو پھاڑ کر اندر چلا گیا ہے ۔ اسے پگھلانا بہت آسان عمل ہے۔ بادشاہوں کے زمانے میں اسے پگھلا کر باغیوں کے کانوں اور آنکھوں میں ڈال دیا جاتا تھا ۔ لیکن جہوری حکومتوں نے اس جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے اس کے چھرے بنا لیے ہیں ۔
شکاری چھرے والی عام سی بندوق سے مرغابیوں کا شکار کرتے ہیں لیکن بھارتی فوج اس طرح کی بنائی ہوئی مخصوص بندوقوں سے کشمیری نوجوانوں اور بچوں کا شکا ر کرتی ہے۔ ایک کارتوس میں سینکڑوں گول اور نوکیلے چھرے بھرے جاتے ہیں ۔ جونہی فائر ہوتا ہے ، کارتوس پٹھتا ہے اور بھاری دھات کے بنے ہوئے یہ چھرے چاروں طرف پھیل جاتے ہیں ۔انسانی جسم کا جو جو نرم حصّہ ان کی زد میں آتا ہے وہ چھلنی ہوتا چلا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ سب سے نرم حصّہ آنکھ ہے ۔ یہ چھرے آنکھ کے پردہ¾ بصارت کو پھاڑتے ہوئے دور تک اندر گھس جاتے ہیں ۔ان کو نکالنے کے عمل میں انسان کئی بار مرتا اور کئی بار زندہ ہوتا ہے ۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق شری مہاراج ہری سنگھ ہسپتا ل کے ڈاکٹروں کا کہنا کہ وہ ابھی تک کسی زخمی کی بھی بینائی لوٹا نہیں سکے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق چھروںکے استعمال سے انسان پوری زندگی کے لیے اپاہج ہوجاتا ہے ۔
کشمیر میں چھروں سے چھلنی کرنے کا ظلم دوہزار دس سے شروع ہے ۔ کشمیری رہنما اس ریاستی جبر کا رونا بڑے عرصے سے رو رہے ہیں ۔ کشمیری آج بھی اس ظلم کی دوہائی دے رہے ہیں ۔ ان کی آج بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ۔ تصویریں چھپ رہی ہیں ،چیخیں اٹھ رہی ہیں ، ثبوت موجود ہیںِ،زخمی تڑپ رہے ہیں لیکن مودی سرکار کو کو ئی روک نہیں پارہا،کوئی روکنا چاہتا نہیں۔کشمیری ہر روز تازہ زخم سجا کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں لیکن عالمی ضمیر یواین ہیڈ کوارٹرز کے شبستانوں میں شراب پی کر سو رہا ہے ۔
ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔ معصوم بچیاں تو کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوتیں ۔ گیارہ سالہ بچے تو بھارتی فوج کیلئے خطرہ نہیں ہوتے ۔ پھر انہیں چھرے کہاں سے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ درندہ فوج گھروں میں گھس کر یہ ظلم ڈھاتی ہے ۔ نشانہ باندھ کر یہ چھرے سوئے ہوئے بچوں کی آنکھوں اور ٹانگوں میں اتارے جاتے ہیں ۔
ایک انسان کی حیثت سے ،ایک پاکستانی کی حیثیت سے ، ایک مسلمان کی حیثیت سے دل تو دکھتا ہے ۔ اس دل کا کیا کریں ۔ ایسی ایک بندوق ہو ، دل سوچتا ہے ، میں ممبئی میں گھس جاو¿ںاور چن چن کر ۔۔دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک !
حکمرانوں کے اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ۔حکمرانوں کا زیادہ وقت حکومت بچانے میں صرف ہوتا ہے ۔ حکومت سوچتی ہے کہ فوج کو کیسے کنڑول کرنا ہے اور فوج سوچتی ہے کہ اس نے اپنی امیج بلڈنگ کیسے کرنی ہے ۔ پاکستان میں یہی چلتا رہتا ہے ۔ ڈان اخبار کا معاملہ ہو یا رانا افضل کی لغویات ہوں ۔ جنہوں نے کام کرنا ہوتا ہے وہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ کیا مشاہد حسین سیّد نے امریکہ میں جا کر امریکیوں کو لاجواب نہیں کیا ؟کیا محترمہ ملیحہ لودھی نے اپنی آواز بلند نہیں کی ۔ کیا بھارت میں ہمارے سفیر نے بھارت کے ظلم کے پردے چاک نہیں کئے ۔ ان سے بھی حافظ سعید کے حوالے سے باتیں ہوئی ہوں گی ۔ لیکن جب بدنیّتی نیّتوں میں دھنسی ہو تو پھر آنکھوں میں دھنسے ہوئے چھرے دکھائی نہیں دیتے۔ جس طرح ایک راجپوت نے مظلوم کشمریوں کا ترجمان بننے کی بجائے بھارت کی ترجمانی کی ہے اس سے تو رانوں اور راجپوتوں کی پوری نسل کو بدنام کردیاگیا ہے ۔میاں نواز شریف اگر واقعی مظلوم کشمیریوں کی آواز بننا چاہتے ہیں تو اپنی ٹوکری کے گندے انڈے اٹھا کر باہر پھینک دیں ۔
کشمیریوں کی وفا کی انتہا دیکھو کہ وہ اپنے شہیدوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر گور میں اتارتے ہیں اور ہم ہیں کہ کشمیریوں کی حمائت میں نکلنے والے بہادر لوگوں کو اپنے لئے بوجھ سمجھ رہے ہیں ۔ کیا حافظ سعید کو بھارت کے حوالے کردینے سے بھارت آپکو کشمیر دے دے گا ؟
جب چھرہ آنکھ کو چھلنی کرتا ہے تو سوچتا ہوں کہ یہی چھرہ اگر صدر ابامہ کی بے گناہ بیٹی کی آنکھ میں دھنس جائے تو کیساہو، اگر بی جی بی کے کسی رہنما کے گیارہ سالہ بیٹے کی زندگی لے لے تو چیخیں کہاں تک سنائی دیں گی ؟ اگر بوڑھے بان کی مون کی ٹانگوں میں یہ چھرے دھنس جائیں تو عالمی سطح پر کیسا شور اٹھے گا ۔ لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ کسی صاحب اولاد کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک کام جو ہم سے ہر کوئی کر سکتا ہے ، باہر گئے ہوئے اپنے پیاروں کے ذریعے کروا سکتا ہے وہ کام امریکی صدر کو ای میل کے ذریعے پیغام بھجوانا ہے ۔ کیا بھارت اتنا ہی اہم ملک ہے کہ اس کی خاطر انصاف پسندی کے تمام عالمی دعویدار مجرمانہ خاموشی کا مسلسل کیے جارہے رہیں ۔ میں اور آپ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمائت کرسکتے ہیں ، ہم چھرے نہیں چلا سکتے لیکن چھروں سے گھائل معصوم لوگوں کی آہ و بکا میںشریک تو ہو سکتے ہیں ۔ مختلف ممالک کی سرکاری ویب سائٹس پر جاکر ان کے فیصلہ سازوں کے ای میل ایڈریس حاصل کریں اور انہیں کشمیر کے زخمی بچوں کی تصاویر بھجواتے رہیں ۔ تاکہ انہیں پتا چلتا رہے کہ جب چھرہ آنکھ میں دھنستا ہے تو انسان کو کتنی تکلیف ہوتی ہے !