ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی یاد میں(1)

14 اکتوبر 2016

ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی ہمہ جہت شخصیت شاعر، اُستاد ، محقق، مترجم و مبصر نمایاں ہیں۔ ماہر تعلیم و اقبالیات ہونے کے باوجود آپ کی شہرت کا باعث اقبالیات کا شعبہ ہے جس میں آپ اپنی انتھک محنت اور لگن سے علامہ اقبال کے ایسے نادر و نایاب گوشوں کو منظرعام پر لائے جن کے حوالے کے بغیر بات نہیں بنتی۔ آپ کی شخصیت میں علامہ اقبال رچے بسے ہوئے تھے۔ اﷲ رب العزت نے مجھے سعادت بخشی اور مجھ ناچیز پر اﷲ سبحانہ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے مجھے بڑی محبت کرنے والے شفیق اور بلند مرتبہ اساتذہ کرام سے علمی پیاس بجھانے کا شرف بخشا جن کی رہنمائی میں آج اس منصب پر فائز ہوں۔ میں اپنے گاﺅں کے گورنمنٹ پرائمری اسکول اسلوہا تحصیل کہوٹہ میں داخل ہوا تو وہاں ہمارے استاد ٹکا صاحب ہمیں پڑھاتے تھے۔ جماعت چہارم میں ہی تھا کہ ایف جی (سی بی) ٹیکنیکل ہائی سکول گریسی لائن چکلالہ راولپنڈی میں میرے ماموں عبدالقیوم صاحب نے میرا داخلہ کرا دیا جہاں ہمارے استاد غلام مصطفیٰ صاحب تھے ۔ جماعت ششم میں پہنچے تو ہر مضمون کے الگ اساتذہ کرام کلاس میں پڑھانے لگے۔ جماعت دہم تک وہیں پڑھتا رہا ۔ پھر نیشنل ڈگری کالج صدر اور کیپیٹل ڈگری کالج لیاقت باغ اور پریمیئر انسٹی ٹیوٹ، فیڈرل ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ مری روڈ راولپنڈی میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین سے اس وقت شناسائی ہوئی جب بی اے میں اقبال کی اُردو نثر میں میرے استاد مقرر ہوئے پھر نہ صرف ایم فِل کے کورسز میں میرے استاد رہے بلکہ ایم فِل مقالہ کے نگران بھی مقرر ہوئے۔ انہیں بحیثیت استاد نہایت شفیق پایا۔ ایم فِل کے ابتدائی مراحل میں ان کی سختی دراصل مقالے کی بروقت تکمیل کا باعث بنی۔ جب انھیں معلوم ہوتا کہ طالب علم صحیح معنوں میں تحقیقی کام میں مگن ہے تو نہایت شفقت سے رہنمائی فرماتے۔ یہی وجہ ہے کہ میرا مقالہ ”مجلہ نیرنگِ خیال میں اقبالیات: تحقیقی جائزہ“ اقبالیات میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
ایم فِل اقبالیات کی ساتویں ورکشاپ یکم تا 6 جولائی 1995ءمیں چند موضوعات پیش کیے گئے تو”نیرنگِ خیال کی اقبال شناسی“ کا موضوع منظور ہوا۔ ایم فِل میں میرے اساتذہ کرام میں ڈاکٹر محمد ریاض، ڈاکٹر شفیق احمد، ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی بھی رہے اور میری زیادہ حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ڈاکٹر خواجہ حمید یزدنی نے ہر قدم پر میری حوصلہ افزائی فرمائی لیکن ڈاکٹر شفیق احمد اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی راولپنڈی/اسلام آباد سے باہر بہاولپور اور لاہور میں مقیم تھے ان اساتذہ سے میری بالمشافہ چند یادگار ملاقاتیں ہیں اور میں نے ایم فل کی نگرانی کا مراسلہ بھی ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی صاحب سے منگوا لیا تھا لیکن جب موضوع کی منظوری کا خط ملا تو اس میں ڈاکٹر رحیم بخش شاہین میرے نگران مقرر ہوئے اور میں سمجھ گیا کہ ڈاکٹر صاحب چونکہ راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں اور ایک ہی شہر میں ہونے کی وجہ سے وہ بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں اس لیے انھوں نے خود ہی مجھے اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ مجھے اپنے مقالے کی رہنمائی کے لئے ان کے گھر بھی جانا پڑتا لیکن وہ یونیورسٹی میں ملنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ ایک دفعہ سہ پہر کو ان کے گھر پہنچا تو اس وقت ڈاکٹر صاحب آرام فرما رہے تھے۔ گھنٹی کی آواز سن کر دہلیز پر پہنچے تو تہبند اور بنیان میں ملبوس تھے۔ انہیں دیکھ کر علامہ اقبال کے بارے میں اقبالیات کی کتب میں جو پڑھا تھا آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب علامہ اقبال کی مجسم تصویر تھے.... کہنے لگے ”یونیورسٹی آ جانا وہاں گفتگو ہو گی۔“
ڈاکٹر رحیم بخش شاہین نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایک تعطل کے بعد اقبال لیکچر کا باقاعدہ ماہانہ پروگرام مرتب کیا ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں متعدد لیکچرز کرائے۔ مجھے ڈاکٹر صاحب باقاعدہ دعوت نامہ ارسال فرماتے تھے ماسوائے دو لیکچرز کے تمام لیکچرز میں نہ صرف شامل ہوا بلکہ ان خطبات کی رودادیں اخبارات میں شائع ہوتی رہیں جو میری کتاب ”اقبال کی یاد میں“ شامل ہیں۔ یہ رودادیں شائع ہوتیں تو ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کو ارسال کر دی جاتی تھیں۔ ایک روداد میں ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی اقبالیاتی خدمات پر کچھ روشنی ڈالی گئی تو ملاقات پر انہوں نے کہا ”میں نے اس لیکچر کی کلیپنگ وائس چانسلر صاحب کی خدمت میں اس لیے پیش نہیں کی کہ وہ سمجھیں گے میں اپنے سٹوڈنٹس سے لکھواتا ہوں۔“ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی عظمت کو دیکھ کر میں نے کہا ”یہ اخبارات وائس چانسلر صاحب کی طرف بھی ارسال کیے جاتے ہیں“ تو ہنس پڑے۔ اکثر لیکچر کے دوران نوٹس لینے کا کہا کرتے تھے جبکہ اسی دوران میرے ساتھ دیگر اخبارات کے نمائندگان بھی تشریف فرما ہوتے۔
ایم فِل کا مقالہ نیرنگ خیال کی اقبال شناسی کا تحقیقی جائزہ مکمل کر کے ڈاکٹر رحیم بخش شاہین صاحب کو پیش کیا گیا تو ایک نشست میں ٹائیٹل کی تبدیلی پر گفتگو ہوئی ۔ ”اقبالیات نیرنگِ خیال“ ٹھیک رہے گا۔ لیکن نیرنگِ خیال ماہوار مجلہ ہے اس لیے بات اقبالیات ماہوار نیرنگِ خیال سے اقبالیات مجلہ نیرنگِ خیال تک پہنچی تو وائس چانسلر ڈاکٹر انوار حسین صدیقی نے تحقیقی جائزہ کا اضافہ کر دیا۔ (جاری ہے)
میرے ایک مکتوب 20 مئی 1998 ءکے مطابق ڈاکٹر رحیم بخش شاہین نے 22 مئی 1998 ءصبح 8 بجے شعبہ اقبالیات سے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم جو اس وقت ریسرچ اسسٹنٹ تھے انہوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب بات کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ابھی ٹائیٹل تیار نہ کریں ۔ آپ کا کیس پراسیس میں ہے۔ کلیئر ہونے پر مطلع کر دیں گے۔ پھر ڈاکٹر صاحب ایبٹ آباد سے واپسی پر بیمار ہو گئے۔ سی ایم ایچ راولپنڈی سے ٹیسٹ کرو ائے گئے اور آخرکار الشفا انٹرنیشنل میں داخل ہو گئے تو 12 جولائی 1998 ءکو ٹیلی فون پر ان کی خیریت دریافت کی تو ان کے پاس ان کے بھائی امین صاحب نے بات کرائی۔ 15 جولائی کو ان کے بڑے صاحبزادے طارق شاہین صاحب نے بات کرائی تو ڈاکٹر صاحب میری تشویش سمجھ گئے اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے آج ڈسچارج ہو گیا ہوں اگلے دن 10 بجے گھر پہنچا تو وہ آنکھ چیک کرانے ڈاکٹر ریاض کے پاس گئے ہوئے تھے۔ 18 جولائی کو ساڑھے دس بجے میرے دوست چوہدری عبدالرﺅف جو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں انتظامی امور پر معمور ہیں انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی رحلت کی خبر سنائی تو ان کے جنازے میں دیدار ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد یونیورسٹی کی کونسل میٹنگ میں رجسٹرار ڈاکٹر اسلم اصغر کی اضافی تجویز ”مجلہ نیرنگِ خیال میں اقبالیات: تحقیقی جائزہ“ پر ٹائٹل منظور ہو کر نومبر ۸۹۹۱ءمیں ڈگری کا اجراءہوا۔ اس مقالے کے ممتحین میں ڈاکٹر عطش درانی اور ڈاکٹر صابر کلوروی تھے جبکہ وائیوا کمیٹی میں ڈاکٹر عطش درانی اور ڈاکٹر صدیق شبلی شامل ہوئے۔ یہ مقالہ 2000 ءمیں ”اقبالیات نیرنگِ خیال“ کے عنوان سے شائع ہو گیا ہے۔
ایم فِل ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اقبال اکادمی کی رکنیت کا پروفارمہ دیا تو ہم نے اسے پُر کر کے بھیج دیا اور ہماری سالانہ رکنیت ہو گئی جو بعد میں مستقل رکنیت میں بدل گئی ۔ اقبال اکادمی پاکستان کی مجلس قائمہ کی دو نشستوں پر جولائی 1996 ءمیں انتخاب کے موقع پر ڈاکٹر محمد معروف پرنسپل گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور پروفیسر محمد منور اور سردار محمد اقبال نے الیکشن میں حصہ لیا تو ڈاکٹر رحیم بخش شاہین نے یکم جولائی 1997 ءکو ایک مکتوب میں مشورہ دیا کہ پروفیسر محمد منور اور سردار محمد اقبال کے حق میں رائے دوں کہ دونوں اصحاب زیادہ مفید ثابت ہوں گے۔ ہم نے اپنے استاد کے حکم پر تکمیل فرمائی اور یہ دونوں اصحاب مجلس حاکمہ کے ارکان منتخب ہوئے۔ مجلس حاکمہ کے ارکان تاحیات اور سالانہ بنیادوں پر منتخب ہوتے تھے۔
ایم فل کورس ورک کی تکمیل کے فوراً بعد میرے استاد ڈاکٹر محمد ریاض صدر شعبہ اقبالیات ہمیں داغ مفارقت دے گئے چنانچہ ان کے بعد ان کی مسند ڈاکٹر رحیم بخش شاہین نے سنبھالی اور ان کی رہنمائی میں مقالہ اختتام پذیر ہوا ۔ انہوں نے مقالے کا مسودہ حرف بحرف پڑھا اور کچھ مفید مشورے دے کر ٹائپ کروانے کا مشورہ دیا چنانچہ جوں ہی مقالہ ٹائپ ہوا میں نے ان کی خدمت میں پیش کر دیا جسے دیکھ کر انہوں نے پسندیدگی اور خوشنودی کا اظہار فرمایا لیکن افسوس کہ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین اچانک خالق حقیقی سے جا ملے اور اس طرح میرے دل میں یہ حسرت ہی رہی کہ مرحوم مجھے اپنے ہاتھ سے ڈگری عنایت فرماتے۔
ہر دو اساتذہ دنیائے علم و ادب کی بڑی شخصیتیں تھیں اور ان کی رحلت سے ایک خلا پیدا ہو گیا لیکن مشیت ایزدی کے سامنے انسان کو سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اﷲ رب العزت ڈاکٹر محمد ریاض اور ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کے درجات بلند فرمائیں۔ میں علامہ اقبال ہی کے ایک شعر میں ایک لفظی تحریف کے ساتھ مرحومین کے لیے یہ دعا کرتا ہوں:
آسماں ”ان کی“ لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
دونوں شخصیات سخت اور دشوار حالات میں تعلیمی مدارج طے کر کے ماہرین تعلیم و اقبالیات کی صف اول میں شمار ہوتی تھیں۔ راقم نے تیسری کتاب شخصیت اقبال کا فن و ادب مطبوعہ 1995 ءان کے نام معنون کی ہے۔ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی پہلی برسی پر خصوصی سیمینار ”فکرِ اقبال اور عہدِ حاضر“ بزم عروج ِ ادب کے زیر اہتمام میونسپل پبلک لائبریری ہال لیاقت باغ راولپنڈی میں 19 جولائی 1999 ءکو منعقد ہوا ۔ اس تقریب کی صدارت علامہ یعقوب ہاشمی نے کی جبکہ اس وقت کے پارلیمانی سیکرٹری انوار الحق رامے مہمان خصوصی تھے۔ اس سیمینار میں راقم نے ”خطباتِ اقبال اور ڈاکٹر رحیم بخش شاہین“ کے عنوان سے مقالہ پڑھا جو اب میری کتاب ”اقبال کی یادمیں“ میں شامل ہے ۔
ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی رحلت کے بعد ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے ڈاکٹر شاہین سے عقیدت و محبت کے ساتھ میری صلاحیتوں کو نکھارنے اور ادبی کام میں مصروف رکھنے کے لیے ڈاکٹر رحیم بخش شاہین پر احباب سے مضامین لکھوائے اور ان کی جمع و تدوین کی طرف توجہ مبذول فرمائی تو ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کے فکر و فن پر لکھے گئے مضامین اکٹھے کرنے شروع کر دیئے تو اس دوران ڈاکٹر شاہین صاحب کے گھر سے شعری بیاض بازیاب ہوئی تو تلاش و جستجو کا رخ ان کی بکھری ہوئی شاعری کی طرف ایسا ہوا کہ ڈاکٹر شاہین کی ایک شعری فائل اور اخبارات و رسائل سے شاعری اور اس سے متعلق نادر و نایاب تحریریں بھی مل گئیں جن کے بعض حصوں پر تاریخ کا اندراج بھی ہے اور مطبوعہ تحریروں کے مکمل حوالے اور حتی الوسع کوشش کے ساتھ زمانی اعتبار سے پہلی دفعہ ترتیب دے کر شعری مجموعہ ”شہر جمال“ 2001 ءمیں شائع کر دیا تو ادبی حلقوں میں تہلکہ برپا ہو گیا کیونکہ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کوبطور شاعر کم ہی لوگ جانتے تھے۔
ڈاکٹر شاہین نے دسویں جماعت سے شعر و سخن کا آغاز کیا تو شاہین تخلص رکھا جو علامہ اقبال سے والہانہ عقیدت کی علامت ہے۔ علامہ اقبال کی فکر و نظر ڈاکٹر شاہین کی غزلوں اور نظموں میں نمایاں ہے۔ غزل اور نظم کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر شاہین کا کہنا ہے:
”شاعری میں میرا میلان زیادہ تر غزل کی طرف ہے۔ ضرورت ہو تو نظم بھی کہہ لیتا ہوں۔ چند آزاد نظمیں بھی کہی ہیں۔ کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے بغیر شاعری میرے نزدیک تصنیع اوقات ہے لیکن شاعری کے جمالیاتی پہلوﺅں سے اغماض کی روش کو بھی پسند نہیں کرتا۔“
ان کی غزلوں میں جمالیاتی پہلو اور اعلیٰ و ارفع مقصد نمایاں ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحقیق کی طرف مائل ہوئے تو شاعری میں وہ مستعدی نہ رہی جو پہلے تھی۔ پہلے آپ ”بزم روح الادب راولپنڈی“ کے سیکرٹری تھے اور ہر مشاعرے کی جان سمجھے جاتے تھے۔ مشاعروں کی رودادیں تحریر کرتے جو اخبارات کے ادبی صفحوں کی زینت بنتی ان میں کچھ شہر جمال کے آخر میں شامل ہیں۔ عرصہ تک ”ہمدرد“ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اقبال لیکچرز کی نظامت بھی کرتے رہے۔ ان کی نظامت میں سامعین سکوت اور یکسوئی سے مقررین کو سماعت فرماتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بعض اوقات ایسے جملے بھی کہہ جاتے کہ ہال میں چھائی خاموشی قدرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی۔ ان کے مزاحیہ جملے سامعین کو متوجہ کرتے اور انہیں مقررین کے خطبات کے دوران خشک اور ادق جملوں کی تعبیر مل جاتی۔ آپ سامعین کی توجہ حاصل کرنے کے فن سے بخوبی آگاہ تھے۔
شہر جمال کے بعد اہل قلم کے مضامین ، منظومات اور شہر جمال پر تبصروں اور ڈاکٹر صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کی رودادوں پر مشتمل ”بیاد رحیم بخش شاہین“ منظر عام ہوئی جس میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کی مشاورت شامل رہی اور ان کے تجویز کردہ نام سے ہی یہ کتاب 2004 میں شائع ہوئی ۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل کا مقالہ ”ڈاکٹر رحیم بخش شاہین بطور اقبال شناس“ نذیرہ بیگم نے ڈاکٹر صدیق شبلی کی نگرانی میں تحریر کیا ہے جبکہ عادل عباس نقوی نے ایم فل کا مقالہ ”ڈاکٹر رحیم بخش شاہین شخصیت و فن“ ناردرن یونیورسٹی سے ڈاکٹر سید اشفاق حسین بخاری کی نگرانی میں مکمل کر کے ڈگریاں حاصل کر لی ہیں۔ ڈاکٹر رحیم بخش شاہین کی طویل تعلیمی اور اقبالیاتی خدمات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ضبط تحریر میں لایا جائے۔