صداقت اور شجاعت کی عظیم داستان

14 اکتوبر 2016

واقعہ کربلا حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی عظیم داستان ہے۔ آٹھ ذی الحج چھ ہجری کو مکے سے روانگی کے وقت اپنے جان نثاروں کو جمع فرما کر ایک خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص راہ خدا میں جان قربان کرنا پسند کرتا ہو وہ میرے ساتھ چلے ۔ہم انشااﷲ صبح یہاں سے کوچ کریں گے ۔ امام حسینؓ اس سے آگا ہ تھے کہ ان کے فرائض امامت کا اہم جزو کربلا میں شہادت ہے آپ اپنے شہادت کا تذکرہ اپنے نانا جان سے بچپن سے سنتے آ رہے تھے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور کریم ﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل امین نے خبر دی تھی کہ میرا بیٹا حسین زمین کربلا میں شہید کر دیے جائیں گے اور جبرائیل میرے پاس مٹی اس سر زمین کی لائے ہیں کہ یہی ان ا مدفون ہے۔ امام حسینؓ جب میدان کربلا پہنچے تو یزید کو بڑی دلیری شجاعت سے کہا کہ میں تیری بیعت نہیں کرونگا ۔امام عالی مقام ؓ نے ظلم و جبر کے آگے موت کو گلے لگانے کو ترجیح دی۔آپ نے اسلام کی سر بلندی سے یزید سے لڑنابہتر سمجھا ۔فرمایا موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔یزیدی لشکر کے ایک سپاہی عبد اﷲ بن عمار کہتے ہیں حضرت امام حسین ؓ کا محاصرہ ہوا خدا کی قسم کہ میں نے حسین سے پہلے اور بعد کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو کثیر دشمنوں کی تعداد میں اس طرح گھیرا ہو ا ہو اور ان کے ساتھی قتل کر دئے گئے ہوں مگر پھر بھی وہ شجاعت و دلیر اور مطمئن ہو۔روز عاشور آپ کی مصیبت بڑھتی جاتی آپ کے وقار و تمکنت میں اضافہ ہوتا جاتااور چہرے کی تا بندگی بڑھتی رہتی ۔جنگ کے دوان آپکے جسم مبارک پر 33 زخم نیزوں کے 43 تلواروں کے اور آپ کے پیرہن شریف میں 121 سوراخ تیر کے تھے۔جنگ میں تین دن تک بھوک پیاس میں رہے مگر شجاعت کے وہ جوہر دکھائے جس سے دشمن پریشان حال رہا۔ ساری لڑائی میں دشمن پر خوف کے بادل چھائے رہے ۔ آپ ؓنے ثابت کیا کہ اگر یقین محکم اور مقصد نیک ہو تو رائے حق میں آنے والے مصائب و آلام اور باطل قوتوں کی دولت و طاقت کی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔یہی وجہ ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔
آپ کی قدرومنزلت کا اندازہ لگانے کےلئے رسول کریم ﷺ کی احادیث ہی کافی ہیں ۔حسین ؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓسے ہوں ۔خدا اسے دوست رکھے جو حسین ؓ کو دوست رکھے۔فرمایا حسنؓ اور حسین ؓ جواناں جنت کے سردار ہیں۔بے شک حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔امیر المومنین حضرت علی ؓ فرماتے ہیں حسن ؓ سینے سے لےکر سر تک اور حسین ؓ سینے سے قدموں تک رسول کریم ﷺ کا عکس تھے۔ سید نا حسین ؓ کی ذات فضائل اخلاق کا مجموعہ تھی ۔آپ بہت عبادت گزار ،روزے دار، سخاوت پسند تھے ۔ ایک دفعہ ایک فقیر در دولت آ پہنچا ۔آپ عبادت کررہے تھے ۔ایسے میں اس فقیر کی صدا آپ کو سنائی دی ۔آپ نے فورا عبادت مختصر کی اور اپنے خادم سے پوچھا کیا ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی ہے ۔خادم نے عرض کی کہ آپ نے دوسو درہم اہل بیت میں تقسیم کےلئے دئے تھے وہ ابھی تقسیم نہیں کئے۔فرمایا یہ تمام درہم لے آﺅ اب اہل بیت سے زیادہ ایک حق دار آ گیا ہے ۔لہذاآپ نے یہ دو سو درہم کی تھیلی اس فقیر کو دے دی ۔ آپ اکثر غرباءکے گھروں میں خود کھانا پہنچاتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے راستے میں فقرابیٹھے کھانا کھا رہے تھے آپ کو دیکھ کر فقرا نے آپ کو اپنے ساتھ کھانا کھانے کو کہا ۔آپ گھوڑے سے اترے اور ان کے ساتھ کھانا تناول کیا۔ کہا میں نے آپ کی دعوت قبول کی اب آپ میرے ساتھ میرے گھر میں دعوت قبول کرو۔ پھر آپ نے فقرا کو اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلایا۔
آپ نے ثابت کر دیا ہے میری رگوں میں خون رسول ﷺ ہے ۔میرے بازوں میں قوت حیدر ہے ۔میرے جیسا کوئی شہسوار نہیں ۔ کیونکہ میں نے دوش رسول ﷺ پر سواری کی ہوئی ہے۔میرے جیسا کوئی بہادر نہیں ہے اس لئے کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے اپنی شجاعت بخشی ہے ۔میں مظہر شجاعت رسول ﷺ ہوں ۔ کربلا میں یزید حق پر نہیں تھا اور آپ ؓ حق پر تھے جس کی وجہ سے اب ساری دنیا کہتی ہے کہ یزید تھا اور حسین ؓ ہیں ۔
میر انیس کا منتخب کلام
کیا مرتبہ سلطان حجازی کا ہے
کیا عزو شرف امام غازی کا ہے
سجدے کا نشان دیکھ کے سب کہتے تھے
نیزے پہ یہ سر کسی نمازی کا ہے
آخر میں مذید ایک قابل ذکر قول امام عالی مقامؓ,, جو بخیل ہے وہ ذلیل ہے،،