زبانوں کی بقاءاور ترقی کیسے ممکن ہے

14 اکتوبر 2016

قارئین زبان کسی ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس طرح ثقافت کے تحفظ کے لیے اس کا آئندہ نسلوں کو منتقل کیا جانا ضروری ہے اس طرح زبان کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُسے نسل در نسل منتقل کیا جاتا رہے۔ خواہ یہ زبان مقامی ، علاقائی یا قومی ہو۔ زبان کو کیسے محفوظ کیا جا سکتا ہے اس کی ترقی اور فروغ کیونکر ممکن ہے اور اس میں فرد اور معاشرے کا کردار کیا ہے؟ اور کیا ہم یہ کردار ادا کررہے ہیں یا نہیں۔ قارئین میں آپ کو آج کی تحریر میں ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ قارئین ریڈیو اور ٹیلی وژن پر اکثر زبان کی ترقی کے متعلق بحث ہوتی ہے۔ شرکاءاپنی دانست کے مطابق تجاویز دیتے اور نقطئہ نظر پیش کرتے ہیں۔ جی ہاں دانشوروں کی رائے اپنی جگہ درست مگر کیا اُن کے مشوروں کی روشنی میں کوئی زبان ترقی کی منازل طے کر رہی ہے میرے خیال میں کسی زبان کو ترقی دینے کے لیے بحث و مباحثہ ہی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں جس زبان نے بھی عروج حاصل کیا اُس کی بنیادی وجہ اُس معاشرے میں سائنسی، فنی ،صنعتی اور ادبی ترقی ہے جو دوسری قوموں کو اُس زبان کے تابع ہونے پر مجبو ر کر دیتی ہے۔ کیونکہ سائنسی تحقیق ،ایجادا ت صنعتی پیداواراور ادب کی ترسیل متعلقہ زبان کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ اپنی زبان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے تحقیق و تخلیق کا وہ قابلِ ستائش کام ہونا چاہیے جو دیگر اقوام کے لیے قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہو۔ ہمیں بین الاقوامی معیار کا ادب تخلیق کرنا ہوگااس طرح ہماری سائنسی تحقیق ،ایجادات اور ادب دوسری قوموں میں ہماری زبان کی پہچان کا باعث بن سکتے ہیں ۔ چونکہ زبان ثقافت کا حِصّہ ہوتی ہے چنانچہ ہم اپنی صنعت اور زراعت کو ترقی دے کر اپنی پیداوار اور اشیاءکے ذریعے بیرونی دنیا میں اپنی ثقافت کو متعارف کرا سکتے ہیں۔ جہاں جہاں ہماری ثقافت جائے گی وہاں وہاں ہماری زبان جائے گی۔ ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ اُسے پرُ کشش بنا کر پیش کیا جائے جس کے لیے ہمار ا میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے اگر آج ہمارے نوجوان غیر ملکی ثقافت سے متاثر ہو رہے ہیں تو کیا ہم دوسروں کو اپنی ثقافت سے متاثر نہیں کر سکتے ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اپنی زبانوں میں خبریں ،ڈرامے ،فلمیں، بات چیت اور موسیقی کے پروگرام پیش کریں۔ اپنی زبان کو ترقی دیتے کی خواہش ہے تو ہمیں بنیادی تعلیم مقامی زبان میں دینی ہو گی۔ اس کے دو فائدے ہیںایک تو زبان ناپید ہونے سے بچ جائے گی دوسرے وہ بچے جو زیورِتعلیم سے آراستہ ہوں گے جو انگریزی میڈیم کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں اور جنہیں بصورت دیگر استعما ل کیا جاسکتا تھا۔زبانوں کے تحفظ کے متعلق بحث کرنے کا ہمارا مقصد دوسروںکو ہماری زبان کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے قائل کرنا ہوتا ہے لیکن اُس سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم خود اپنی مادری زبان کو بولنے اور سننے پر فخر کریں لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ ہم اس میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں بلکہ بچوں کو تقاریب، محفل اور مہمانوں کی موجودگی میں مادری زبان بولنے سے منع کرتے ہیں۔ بات یہیں پر ختم نہیںہوتی ہم اپنی زبان کی ترقی بھی چاہتے ہیں اور اس کی توہین بھی کرتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو عزت اور احترام نہیں دیتے جو اپنی مقامی زبان میں ہم سے مخاطب ہوتے ہیں اکثر جگہوں پر اور دفاتر میں اُن کی شنوائی نہیں ہوتی اُنہیں سادہ لوح دیہاتی ، ان پڑھ اور جاہل سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ انگریزی یا کوئی دوسری غیر ملکی زبان سُن کر اہلکار یوں توجہ دیتے ہیں جیسے اُن کے کانوں میں رس گھولا جا رہا ہے۔ گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے اور اُن کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں۔ جب اپنی ہی زبانو ں سے متعلق ہمارا رویہ یہ ہو گا تو دوسروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم جس زبان کا فروغ اور تحفظ چاہتے ہیں کیا اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ روز مرہ کے استعمال میں دوسروں سے گفتگو کے دوران ہمارے خیالات کی صحیح ترجمانی بھی کرتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس میں دوسری زبانوں کے چیدہ چیدہ الفاظ اپنے اندر سمونے کی بھر پور صلاحیت ہو اور اس کی زمیں اتنی زرخیز ہو کہ جو بیج بھی بویا جائے وہ تناور درخت بن کر اسی کا حِصّہ معلوم ہو اور آپ کہ ہر مخاطب یہی سمجھے کہ اُسی کی زبان میں بات کی جارہی ہے۔ اپنی زبان کو وسعت دینے اور ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایسے ماہرین اور اہلِ زبان موجود ہون جو دوسری زبانو ں کے الفاظ اور اصطلاحات کا درست ترجمہ یا اپنی زبان میں مناسب متبادل پیش کر سکیں۔ آئے دن نئی نئی ایجادات ہو رہی ہے اور ہم اُن کے وہی نام استعمال کرنے پر مجبور ہیں جو موجد نے رکھے تھے۔ مثلاًآج تک ہم اپنی علاقائی یا قومی زبان میں ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، ٹیلی فون، وائرلیس ،کمپیوٹر ،فیس بُک، انٹرنیٹ یا اس قسم کی بے شمار ایجادات کا متبادل نام تلاش نہیں کر سکے۔ اس طرح سائنس کی ایسی بے شمار اصطلاحات ہیں جن کا ترجمہ نہیں کر سکے۔ ظاہر ہے جس زبان کا استعمال زیادہ ہو گا اُس کو فروغ حاصِل ہوگا اور اُسی کی اہمیت بڑھے گی۔قارئین آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ اکثر ممالک کے قائدین بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں میں اپنی زبان میں خطاب کرتے ہیں ۔ اس سے ایک تو اقوام عالم کو اُس زبان سے آشنائی ہوتی ہے۔ اور دوسرا دنیا کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ ہم اپنی زبان کے استعمال میں کس قدر سنجیدہ ہیں مگر افسوس کہ ہمارے قائدین ملک اور بیرونِ ملک غیر ملکی زبان کو ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ ہماری سول اور ملٹری بیوروکریسی کا طرّئہ امتیاز ہی انگریزی زبان میں گفتگو کرنا ہے ۔ قائدین عوام کے آئیڈیل ہوتے ہین اُن کی اپنی زبانوں سے محبت کے لوگوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ہایک اور قدم جو اس طرف اٹھانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ وطنِ عزیز کی مختلف زبانوں میں فلمیں بنا کر ملک اور بیرون ملک نمائش پیش کی جائیں۔ بیرون ملک ان کی نمائش کو یقینی بنانے کے لیے اس قسم کی فلمیں غیر ملکی پروڈیوسروں کے تعاون سے بنائی جا سکتی ہیں۔ تاجر اور کاروباری حضرات بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں وہ اس طرح کہ پیداواری اشیاءکے نام اپنی ہی زبانوں میںرکھے جائیں اور اُن کی مشہوری کے لیے انہی زبانوں میں اشتہارات، بینر اور بل بورڑ آویزاں ہوں۔ اس طرح لوگوں میں اپنائیت کا احساس ہوگا ۔ قارئین زبان صرف بحث ومباحثے اور تبصرے کرنے سے فروغ نہیں پاتیں اس کے لیے ہمیں ٹھوس اور عملی قدم اٹھانا ہوں گے لیکن ہمیں اُن زبانوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جن کا جدید تقاضوں کے پیش نظر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے سیکھنا اشد ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں مادری ، مقامی ، علاقائی ، اور قومی زبانوں کا سبق پڑھانے اور انہی تک محدود رکھنے والوں کی اپنے بچوں کے لیے ترجیحات الگ ہوں اور جب ہمیں ہوش آئے تو وہ ہمارے سامنے ہمارے ہی حکمران بن کر کھڑے ہوں اور ہم ان کی اور وہ ہماری زبان سمجھنے سے قاصر ہوں۔