”پاکستان مخالف پروپیگنڈہ“

14 اکتوبر 2016
”پاکستان مخالف پروپیگنڈہ“

مکرمی! جب سے پاک بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز ہوا تب سے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ (فیس بک پر) ایک ویڈیو زیر گردش ہے جس میں مولانا آزاد اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان بننے کے نقصانات واضح کر رہے ہیں اور بن جانے کی صورت میں اسے ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کر رہے ہیں پہلے اس انٹرویو کے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیئے .... پاکستان کے قیام کی گرمجوشی ٹھنڈی پڑتے ہی اختلافات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے جو جلد ہی اپنی بات منوانے کی حد تک پہنچ جائیں گے وہ وقت دور نہیں ہوگا جب عالمی قوتیں پاکستان کی سیاسی قیادت میں موجود مختلف عناصر کو استعمال کرکے اس کے حصے بخرے کر دیں گی‘ اصل معاملہ مذہب کا نہیں بلکہ معاشی ترقی کا ہے ‘ اب ذرا ان الفاظ پر بھی غور کیجیئے‘ مسلمان کاروباری حضرات دو قومی نظریے کی آڑ میں اپنے خوف کو چھپاتے ہیں اور ایسی مسلمان ریاست چاہتے ہیں جہاں وہ بغیر کسی مقابلہ کے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم کر سکیں ‘ آگے چل کر کہتے ہیں ”پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان ہوگا اور جنگ کے امکانات ہوں گے“ اور اس وقت ہم یہ دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا“ مولانا آزاد کی جانب سے کئی پیشن گوئیاں کی گئی جو زیادہ تر سچ ہی ثابت ہوئیں جن کی بنیادیں وجہ سیاسی انتشار اور اپنوں کی غداری ہے آپ نے مندرجہ بالا جتنے بھی اقتباسات پڑھے اس میں آپ لفظ مسلمان اور پاکستان کی جگہ ’ہندوستان‘ اور ہندو لگا کر دیکھیں تو یہ باتیں پھر بھی سچ ثابت ہوں گی بھارت کے بننے کے بعد بھی وہاں لوٹ مار ‘ غارت گری کا بازار گرم ہوا اور پاکستان سے کئی زیادہ وہاں ناانصافیاں کی گئیں بھارت میں بھی چند خاندان ملک کی زیادہ تر دولت پر قابض ہیں اور اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کبھی نہ رہے اس کے ہم مذہب نیپال ‘ سری لنکا‘ پاکستان اور چین کی مثال ہمارے سامنے ہے سیکولرزم کی شو بازی ایک طرف اصل حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں 70 کروڑ لوگوں کو ٹائیلٹ کی سہولت تک نہیں ‘ وزیراعظم مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پورے ملک کے گھروں میں ٹائیلٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا ہندوستان میں پاکستان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور اسلام بھارت کا دوسرا بڑا مذہب ہے وہاں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت دیکھیئے کہ بھارتی لوک سبھا کی 543 نشستوں پر صرف 23 مسلمان ہیں کانگریس کے پلیٹ فارم سے اس وقت صرف 4 مسلمان لوک سبھا کے رکن ہیں جبکہ بی جے پی جو کہ حکمران جماعت ہے اس کا ایک بھی رکن لوک سبھا مسلمان نہیں بھارتی لیڈران کے اس متعصب رویئے کو قائداعظم نے پہچان لیاتھا اور اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان بنانے میں لگا دیں اسی وجہ سے قائداعظم مولانا آزاد کو کانگریس کا ”شو بوائے “ کہتے تھے ان شاءاﷲ قائداعظم کے فرمان کے مطابق دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔(محمد فرہاد پونچھ آزاد کشمیر0301-5650538 )

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...