بھارتی فوج کے سابق سربراہ مقبوضہ کشمیر کے وزراء کو فوج کی طرف سے خفیہ فنڈ فراہم کرنے سے متعلق اپنے بیان سے مکر گئے

14 نومبر 2013

نئی دہلی (کے پی آئی) بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) وی کے سنگھ مقبوضہ کشمیر کے وزراء کو فوج کی طرف سے خفیہ فنڈ فراہم کرنے سے متعلق اپنے بیان سے مکر گئے ۔ جنرل (ر) وی کے سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح کا بیان کبھی نہیں دیا بلکہ سابق امریکی سفیر ڈیوڈ ملفورڈ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کچھ مقبوضہ کشمیر کے وزراء کو ریاست میں استحکام کے لئے فوج کی طرف سے رقومات فراہم کی جاتی ہیں۔ سابق فوجی سربراہ نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب یا کسی انٹرویو میں میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔ سابق بھارتی آرمی چیف نے تازہ انٹرویو کے دوران انکشافات سے متعلق اپنے سابقہ بیان سے مکمل طور پر یو ٹرن لے لیا اور کہا کہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ انہیں سدبھائونا کے تحت رقومات دی جاتی ہیں، میں نے صرف یہ کہا کہ کچھ ایسے پراجیکٹ ہاتھ میں لئے جاتے ہیں جو استحکام میں مدد دیتے ہیں، یہ ایک پل یا ایک بجلی ٹرانسفارمر ہوسکتا ہے۔ میں نے ملفورڈ کی 2001ء میں کہی گئی بات دہرائی۔ جب سابق فوجی سربراہ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں کسی وزیر یا ایم ایل اے کو فوج کی طرف سے رقومات نہیں دی جاتی تو وی کے سنگھ نے کہا کہ آپ ایسا کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آپریشن سدبھاونا کافی عرصے سے چلا آرہا ہے، پہلے اس کا نام ملٹری سیوک ایکشن تھا، بعد میں اسے سیوک ایکشن کہا گیا اور 2000میں لیفٹنینٹ جنرل ارجن رائے نے ا سے آپریشن سدبھائونا کا نام دیا، یہ سب منصوبے شورش زدہ علاقوں میں انجام دیئے جاتے ہیں‘‘۔ اپنے دور میں آرمی انٹیلی جنس کا خصوصی یونٹ قائم کرنے اور ریاستی حکومت کو گرانے کیلئے ایک وزیر کو مبینہ طور رشوت دینے کے بارے میں وی کے سنگھ نے کہا ’کہ یہ مضحکہ خیز ہے ، اگر کوئی اپنی رپورٹ میں یہ لکھتا ہے کہ ایک کروڑ روپے سے ایک ریاست کی حکومت گرائی جاسکتی ہے، تو اس شخص کے پاس دماغ نہیں ہے۔