آفریدی سٹائل نے بیٹنگ کابیڑا غرق کر دیا‘کوچ کرکٹرز کی سوچ بدلیں

14 نومبر 2013

ان دنوں بلے بازوں کی ناکامی پر پاکستان بھر میں بحث جاری ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹرز، کرکٹ کمنٹیٹرز، ماہرین اور شائقین اپنے اپنے انداز میں تبصرے و تجزئیے کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی سلیکٹرز کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے تو کوئی ٹیم مینجمنٹ کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔ کوئی نظام کی خرابی کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے تو بعض کے خیال میں بورڈ آفیشلز اپنی ذمہ داریاں درست انداز میں نہیں نبھا رہے۔ یہ باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ ڈریسنگ روم کا ماحول ٹھیک نہیں ہے۔ کپتان کا کھیل ایسا نہیں کہ وہ ٹیم کو فتح دلا سکے۔ کچھ لوگ حفیظ کی سیاست کو ٹیم کی ناکامی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ درست ہے کہ کپتان میچ ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، درست ہے کہ وہ اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کے لئے نہیں آتا، یہ درست ہے کہ حفیظ کا کردار بھی اس کے عہدے اور مرتبے کے مطابق نہیں ہے۔ ڈریسنگ روم کا ماحول بھی خراب ہو گا۔ کھلاڑی بھی اپنی ذمہ داریاں عمدہ انداز میں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے نظام بھی خراب ہو، یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹ بورڈ میں موجود اعلیٰ عہدیدار اپنے عہدوں سے انصاف نہیں کر رہے لیکن اصل مسئلہ تو ٹیم کی خراب بیٹنگ ہے اور بیٹنگ کی خرابی میں سب سے بڑا مسئلہ بلے بازوں کی بے صبری ہے۔ ہمارے بیٹسمینوں میں ٹمپرامنٹ کی کمی ہے۔ تکنیکی لحاظ سے بھی کمزور ہیں۔ وہ کم وقت میں بڑے بڑے شاٹس کھیل کر شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ جب سے شاہد آفریدی بیٹنگ سٹائل کو مقبولیت ملی ہے اور مختلف وقتوں میں کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز نے آسمانی شاٹس کھیلنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے وکٹ پر قیام کرنے والے بلے باز ناپید ہو گئے ہیں۔ محمد یوسف پاکستان کے آخری انٹرنیشنل کلاس کے بلے باز تھے اس کے بعد کوئی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرح کی کرکٹ میں آٹومیٹک چوائس ہو۔ یونس خان کو اس کیٹگری میں جگہ دی جا سکتی ہے لیکن بہت زیادہ نہیں۔ ہمارے نوجوان بلے بازوں کا آئیڈیل تو انضمام الحق ہو گا لیکن اس کا انداز بیٹنگ شاہد آفریدی جیسا ہو گا کھلاڑی عوامی سطح پر مقبولیت، اشتہاروں میں جگہ حاصل کرنے کیلئے گیند کو پلیس کرنے ٹائمنگ کے ساتھ کھیلنے گیپ میں کھیلنے کے بجائے فیلڈرز کے اوپر سے کھیلنے کے شوقین نظر آتے ہیں۔ عمران نذیر، عمر اکمل، احمد شہزاد اور دیگر نوجوان باصلاحیت تو ہیں لیکن بڑے شاٹس کھیلنے  کے جوش کی وجہ سے آج تک صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہیں کرسکے۔
انڈیا کے بیٹنگ آئیڈیل سچن ٹنڈولکر، راہول ڈریوڈ، سنیل گواسکر، گنگولی ہیں تو ان کا آج کا بیٹنگ ٹیلنٹ ویرات کوہلی، روہت شرما، شیکھر دھون پر مشتمل ہے۔ سٹیووا، ایلن باڈر اور مارک ٹیلر کو دیکھنے والے ڈیمین مارٹن اور مائیکل کلارک بنتے ہیں۔گراہم گوچ اور گاور کو پسند کرنے والے ایلسٹر کک اور آئن بیل بنتے ہیں۔ مارون اتاپتو، روشن ماہنامہ اور ڈی سلوا کے ملک کو آج سنگا کارا جے وردھنے اور تلک رتنے دلشان جیسے بہترین بلے بازوں کی خدمات حاصل ہیں۔ہمارے نوجوان شاہد آفریدی کی طرح بڑے شاٹس کھیلنے کے چکر میں بیٹنگ کی اصل روح کو بھول چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک روزہ میچوں میں پچاس اوورز بھی نہیں کھیل پاتے۔ تمام خرابیاں اپنی جگہ لیکن جب بیٹنگ کی خرابی اور ناکامی کی بات کی جائے گی تو آفریدی بیٹنگ سٹائل ایک بڑی وجہ ہو گا۔ بدقسمتی سے اس معاملے پر بہت کم بحث کی جاتی ہے۔بھلے وہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز ہوں یا پھر میڈیا کے افراد!
ہم اگر بیٹنگ کا مسئلہ حل کرناچاہتے ہیں تو پہلے اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا جو کم وقت  چوکے چھکے لگا کر شہرت و دولت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔اصل بیٹنگ گرائونڈ شاٹس ہیں۔ سلیکٹرز اور کرکٹ بورڈ کو بھی اس سلسلے میں سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ہمارے نوجوان بلے بازوں کو حنیف محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد، سلیم ملک،انضمام الحق،سعید انور اور محمد یوسف کی بیٹنگ سے سبق سیکھناچاہئے یہ سٹروک پلیئر بھی تھے اور وکٹ پر قیام کرکے بائولرز کے تمام حربوں کو ناکام بناتے ہوئے ٹیم کو تن تنہا کامیابی بھی دلواتے تھے۔موجودہ چیف کوچ نے اب کُوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بھی بہتری کی طرف قدم ثابت ہو سکتا ہے۔