پاک بھارت مذاکراتی عمل سے کشمیری قیادت کو بھی منسلک کیا جانا چاہئے۔ پاکستان

14 نومبر 2013

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان نے امریکہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ اس کی عائد کردہ پابندیاں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر لاگو نہیں ہوتیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لئے ایران سے گیس پائپ لائن سمیت تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں اس منصوبہ پر لاگو نہیں ہوتیں اور امریکہ کو پاکستان کے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نصیر الدین حقانی کے قتل پر سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلات کے لئے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا جائے۔ سرتاج عزیز کے دورہ بھارت کے ضمن میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا نئی دہلی میں ان کی بھارت کے وزیر خارجہ اور سکیورٹی ایڈوائزر کے ساتھ خوشگوار اور مثبت ماحول میں ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں سمیت تمام اہم مسائل پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسائل کے حل اور تعلقات بہتر بنانے کے لئے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کا احترام کیا جانا چاہئے۔ عمران خان کی طرف سے نیٹو پسلائی بند کرنے کے سوال پر بھی ترجمان طرح دے گئے اور وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان پاکستان بھارت وزرائے اعظم کے فیصلے کے تحت دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ملاقات کے معاملہ پر کاربند ہے تاکہ کنٹرول لائن پر صورتحال معمول کے مطابق آ سکے۔ فضل اللہ کی افغانستان میں موجودگی کے معاملہ پر کسی تازہ پیشرفت کی اطلاع نہیں ہے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جانی چاہئے۔ امید ہے کہ افغعان حکومت دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت کے لئے اقدامات کرے گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ نئی دہلی میں سرتاج عزیز کی کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد سے ملاقات کو بعض اخباری رپورٹوں میں سفارتی غلطی قرار دیا جا رہا ہے تو ترجمان نے کہا جب بھی پاکستان کے و زیر خارجہ یا سیکرٹری خارجہ بھارت کا دورہ کرتے ہیں تو وہ اس موقع پر کشمیری قیادت سے ضرور صلاح مشورہ کرتے ہیں اور یہ روایت ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نہایت اہم سرگرمی ہے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے جسے حل ہونا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل سے کشمیری قیادت کو بھی منسلک کیا جانا چاہئے۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کے لئے پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔ عالمی ادارے بھی اس ضمن میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے ذریعہ ہی اس مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم کے مجوزہ دورہ کابل کی تاریخیں اور ایجنڈا کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ ملا برادر کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ملا برادر پاکستان میں ہیں اور اپنے خاندان سمیت جس سے چاہیں رابطہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے ڈرون حملوں کے متعلق سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو بریفنگ دی ہے۔ یہ حملے غیر قانونی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور فلاحی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔ سعودی عرب میں قیام پذیر غیر قانونی افراد کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ کی کوششوں کے نتیجہ میں آٹھ لاکھ پاکستانیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اب بھی غیر قانونی قرار دئیے گئے پاکستانیوں کا معاملہ مزید زیر غور ہے۔ ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بامقصد مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نکالنا ہو گا۔