افواج پاکستان سمیت تمام اداروں کو آئینی حدود کا پابند ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی

14 نومبر 2013

لاہور (خصوصی نامہ نگار)جماعت اسلامی نے وزیراعظم محمد نوازشریف کو خط بذریعہ کوریئر اسلام آباد اور دستی وزیراعظم ہائوس جاتی عمرہ اور ایچ بلاک ماڈل ٹائون کے پتوں پرارسال کیا گیا ہے۔ جماعت کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امیرجماعت اسلامی سید منور حسن کے دو بیانات کو بنیاد بنا کر ذرائع ابلاغ کے ذریعے جو مصنوعی اور گھمبیر فضا تیار کی گئی اس میں پاکستان کے مؤقر قومی ادارے افواج پاکستان نے (بذریعہ آئی ایس پی آر) براہ راست ایک سیاسی جماعت کو جس انداز میں چارج شیٹ کیا، اس نے جماعت اسلامی کو مجبور کیا کہ اس پورے منظر نامہ میں آپ کو بطور سربراہ حکومت مخاطب کیا جائے۔ جماعت اسلامی، پاک فوج کے پورے احترام اور اس کی قربانیوں کے اعتراف کے باوجود اصولی بنیاد پر یہ سمجھتی ہے کہ افواج پاکستان سمیت تمام اداروں کو آئینی اور قومی سطح پر اُن مسلمہ حدود کا پابند ہونا چاہیے۔ جسے پاکستانی عوام کے اتفاق رائے، قومی نمائندوں نے بہت پہلے 1973ء کے دستور کی شکل میں طے کردیا ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان کا براہ راست ایک سیاسی و مذہبی جماعت کو مخاطب کرنا (جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی) مسلمہ دستوری تقاضوں سے ماور ا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں مختلف عناصر، افراد اور اداروں کی طرف سے شدید قسم کی بے ضابطگیاں تجاوز، استحصال اور اظہار ہماری تاریخ میں جا بجا دکھائی دیتے ہیں مگر اس پر کبھی بھی اس انداز میں مؤقر اداروں نے سوال نہیں اٹھائے، خط میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی ، جمہوری اور آئینی جماعت ہونے کے ناطے اپنے آپ کو عوام اور قانون کی عدالت میں جوابدہ سمجھتی ہے، آپ (وزیراعظم) خود، پوری قوم اور ملک کے تمام انتظامی اور عسکری مؤثر ادارے آگاہ ہیں کہ جماعت اسلامی کی قومی سلامتی، بیرونی مداخلت کی مزاحمت اور دفاع وطن کے لیے لازوال قربانیاں ہیں۔ مشرقی پاکستان میں کارکنان کی وحدت پاکستان اور بھارتی جارحیت کے خلاف قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس جرم میں آج بھی بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور قیادت حُب الوطنی اور اسلام سے محبت کی وجہ سے مظالم اور سزائیں بھگت رہے ہیں۔ اس حوالہ سے جماعت اسلامی پر تنقید کرنے والے حقیقت میں افواج پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ جموں،کشمیر ،گلگت و بلتستان میں جماعت اسلامی کی قربانیوں ،نوجوانوں کے پاکیزہ خون کے نذرانوں ،کشمیری قیادت کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے خصوصاً بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی جدوجہد سے کون انکار کرسکتاہے۔ آخر تاریخ کے ان حقائق کو آئی ایس پی آر کا ایک پریس ریلیز کیسے یکسر ختم کرسکتا ہے؟ جماعت اسلامی اس امر کی دو ٹوک الفاظ میں وضاحت کرتی ہے کہ وہ ایک دستوری اور جمہوری جماعت ہے۔ ہم جمہوری اور دستور ی ذرائع سے تبدیلی ہی کو تبدیلی کا درست راستہ تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اور ان عناصر کے طریقہ کار میں زمین وآسمان کا فرق ہے جو شریعت کو بھی طاقت کے ذریعہ نافذ کرنے کے مدّعی ہیں۔ جماعت اسلامی کے خط میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کی نگاہ میں فوج ایک قومی اور دستوری ادارہ ہے جسے دفاع پاکستان کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کی پالیسی اور قراردادوں کو لے کر چلنا چاہیے۔ دفاع پاکستان کے ضمن میں افواج پاکستان نے جو بھی خدمات انجام دی ہیں ان پر ہمیں اور پوری قوم کو فخر ہے۔ اسلام اور پاکستان کے لیے ہمارے جن افسروں اور جوانوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے ان کی شہادت ہمارا تاریخی امتیاز اور قومی اثاثہ ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سابق حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی بھاری قیمت قوم ادا کررہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری ملٹری اورسیاسی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے تمام اعلانیہ اور خفیہ ،تحریری اور زبانی معاہدوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا اعلان کرے۔ قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر خطیر غیر ملکی امداد وصول کرنے ، نیٹو افواج کو لاجسٹک اور اطلاعاتی رسائی فراہم کرنے کی پابندی کے بعد ہمارے حکمران کیونکر ڈرون حملوں پر اقوام عالم اور امریکہ سے احتجاج کرنے میں بھی حق بجانب ٹھہرتے ہیں۔ اصل مسئلہ سامراجی جنگ کا خاتمہ اور پاکستان سے اس کی گلوخلاصی ہے۔جماعت اسلامی نے دہشت گردی کی ہر شکل کی ہمیشہ سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ معصوم انسانوں ، ریاستی و قومی اداروں، اجتماعات، مساجد، امام بارگاہ، مدارس اور چرچ کو نشانہ کو غیر اسلامی ،غیر قانونی اور غیر انسانی عمل قرار دیا۔ ملک میں جاری دہشت گردی کی لپیٹ میں جماعت اسلامی کے 17سے زائد ارکان نے جان کانذرانہ پیش کیا۔ قومی اخبارات اور ذرائع ابلاغ اس بات کے گواہ ہیں کہ نہتے و پرامن شہریوں کے ساتھ ساتھ فوجی جوان اور افسروں کی شہادت پر افسوس اور مذمت کااظہار کرنے میں ذرا بھی تردد سے کام نہ لیا۔ میجر جنرل ثناء اللہ نیازی سمیت متعدد فوجی شہداء کے گھروں پرجماعت اسلامی کی قیادت نے بالمشافہ جا کر افسوس اور احترام کے جذبات کااظہار کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملے میں جس طرح نشانہ بنایا گیا۔ وہ  قومی اتفاق رائے پر حملہ ہے، امن کی کوششوں کو قتل کیا گیا۔ خط کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ دو انٹرویوز اور کہے جانے والے چند جملوں کی بنیاد پر جماعت اسلامی کے دیرینہ موقف ،تاریخی کردار ،سیاسی جدوجہد کو نظر انداز کرنا کسی بھی طرح ایک باوقار قومی ادارے کے شایان شان نہیں۔ طالبان سے مذاکرات کا یہ سفر منزل کی طرف ایک قدم اٹھائے بغیر ختم نہیں کردینا چاہیے۔ یہ ملک و ملت کے لیے مزید نقصانات کا باعث ہوگا۔جماعت اسلامی پوری قوم اوربالخصوص سیاسی وعسکری قیادت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ توجہ کو اصل مسئلہ پر مرکوز کرے۔ امریکہ نے افغانستان میں بارہ سالہ ناکامی کے بعد بہت ہوشیاری اور چالاکی سے محاذ جنگ کو پاکستان میں منتقل کردیاہے۔ وہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کو تقسیم کرکے ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان کے حوالے سے جماعت اسلامی کاموقف بالکل واضح ہے۔ غیر ملکی افواج کو وہاں سے اپنے مفادات سمیت نکلنا چاہیے۔ خط میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی کو طالبان کا’’ سیاسی ونگ‘‘ کہنے والے ذرائع ابلاغ اور اہل دانش کو یاد دلانا مناسب ہوگاکہ پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت میں وزیرداخلہ نے انہی طالبان کو ’’اپنا بچہ ‘‘ قرار دیا بعد ازاں ہمارے ہی اداروں نے ’’اچھے اور بُرے طالبان‘‘ کی اصطلاح وضع کی افغانستان میں مجاہدین یا طالبان کی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کرنے میں خود پاکستانی حکومت ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پیش پیش تھی۔ جماعت اسلامی اصولی بنیادوں پر سمجھتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور پاکستان میں مذاکرات کے ذریعے امن کی کاوشوں کو مستحکم کیے بغیر ہم دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔