طالبان ابھی غصے میں ہیں ۔ مذاکرات کیلئے ماحول سازگار ہونے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ وزیر دفاعی پیداوار

14 نومبر 2013

لندن (ثناء نیوز)  وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین  نے کہا ہے کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کے لیے ماحول کے سازگار ہونے کا انتظار کرے گی جس میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو  میں  ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان  حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر ابھی غصے میں ہیں لہٰذا جب تک ان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ فوجی کارروائی آخری راستہ ہوگا کیونکہ ہم مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ طالبان کے انکار کے باوجود مذاکرات کی ہی بات کریں گے۔ ملا فضل اللہ کیا ایسے طالبان رہنما ہیں جن سے حکومت بات کرسکتی ہے؟ اس سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ   وہ ایک سخت گیر موقف والی شخصیت ہیں لیکن ہوسکتا ہے اس مرتبہ ان کے ساتھ مذاکرات سودمند ثابت ہوں۔ بعض شدت پسند گروہ حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں آنا چاہتے ہیں۔ مذاکرات کے بارے میں فوجی قیادت کے موقف پر رانا تنویر کا کہنا تھا کہ فوجی اور سیاسی قیادت کا ایک موقف ہے کہ دونوں مکمل طور پر ایک ہی سوچ رکھتے ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ امریکہ کے کردار کے بارے میں رانا تنویر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کا حامی ہے جیسے کہ وہ دوحہ مذاکرات کے حق میں تھا۔ لیکن حکیم اللہ کی ہلاکت کے بارے میں ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ امریکہ انتظار کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی امریکیوں کی جانب سے اس ہلاکت پر پاکستانی احتجاج کے نتیجے میں کوئی ردعمل سرکاری سطح پر نہیں موصول ہوا ہے۔