امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز میں مدد کیلئے فاٹا کے قبائلیوں کا جرگہ بلائینگے: فضل الرحمن

14 نومبر 2013

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز میں مدد کیلئے فاٹا کے قبائلی باشندوں کا جرگہ بلایا جائے گا۔ فاٹا کے عوام کو شامل کئے بغیر طالبان سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے جرگہ سے حکومت کو مصالحتی کوششوں میں مدد ملے گی۔ کسی تیسرے فریق کو امن اور ہمارے قومی مصالحتی عمل کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قبائلی جرگہ مذاکرات کی بحالی کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے گا۔ جرگہ کو قومی قیادت کا اعتماد حاصل ہے۔ ایک بیان میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ مذاکراتی عمل سے متعلق حکومتی معاونت کے لئے قبائلی جرگہ کو بحال کررہے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے اس نمائندہ جرگہ کو بحال کرنے کا مقصد شمالی وزیرستان ایجنسی میں حالیہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجہ میں مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے تعطل کو دور کرنا ہے تاکہ امن کے اس عمل کو دوبارہ بحال کیا جاسکے۔ امریکہ کے ڈرون طیاروں نے پاکستان میں طالبان سے ہونے والے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ مذاکرات کے لئے نئی شروعات اور کاوشیں کی جائیں اور کوئی راستہ نکال لیا جائے تاکہ امن مذاکرات بحال ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ حکومت کی طالبان سے مذاکرات کے لئے رہنمائی کرے گا۔ طالبان سے مفاہمتی عمل میں جرگہ جو کردار ادا کرسکتا ہے وہ کوئی ادا نہیں کرسکتا۔ پاکستانی قوم کسی بھی صورت میں کسی ’’تھرڈ پارٹی‘‘ کو امن و مفاہمت کے لئے کوششوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں فضل الرحمن نے کہا کہ منور حسن کے بیان پرفوج کے بجائے حکومت کاجواب آناچاہیے تھا۔پی ٹی آئی نے کرپشن میں سابق دور کو پیچھے چھوڑدیا۔ ملک میں اسٹیبلشمنٹ ہی طاقتور ہے چاہے وہ ملازم ہوں یا حکمران، سیاستدان چاہے جتنی بار بھی منتخب ہوکرآئے اسے اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ طاقتور ہے۔ مذاکرات کہاں اور کیسے ہو رہے تھے کون مذاکرات کر رہا تھا مجھے ان ناموںکا علم نہیں ہے، طالبان کی طرف سے بھی کوئی تصدیق نہیں آئی۔ طالبان سے مذاکرات میں تعطل مختلف واقعات کی وجہ سے حکومت کی طرف سے ہوا۔