شرح سود بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ۔۔ سٹیٹ بنک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان

14 نومبر 2013
شرح سود بڑھا کر 10 فیصد کر دی گئی ۔۔ سٹیٹ بنک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان

لاہور (کامرس رپورٹر) کاروبای برادری نے سٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں مارک اپ کی شرح میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک ممالک کو مدنظر رکھتے ہوئے مارک اپ کی شرح کم از کم 8 فیصد تک لائی جائے تاکہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو، کاروباری شعبے میں استحکام آئے اورتجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری، سینئر نائب صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر کاشف انور، پاکستان فلور ملزایسوسی ایشن کے سابق چیرمین ڈاکٹربلال اسلم صوفی، ایگری اینڈ اکنامک فورم پاکستان کے چیرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل، آل پاکستان انجمن تاجران کے صدراشرف بھٹی، پاکستان یوزڈ کلودنگ ایسوسی ایشن کے صدر نعیم بادشاہ، انجمن تاجران آٹوپارٹس مارکیٹ کے صدر وقار اے میاں، انجمن تاجران منٹگمری روڈ کے جنرل سیکرٹری وقار علی اور لوہا مارکیٹ بادامی باغ کے تاجر فاروق عاقل نے کہا کہ صنعت سازی کا عمل تیز اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے صنعتی شعبے کو سستے قرضوں کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ بحرانوں کی وجہ سے صنعتیں بندش یا پھر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ حکومت اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ مارک اپ کی شرح خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے صنعتی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ مارک اپ کی زیادہ شرح کی وجہ سے معیشت کو نقصان ہوا ہے۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو نہ صرف صنعت اور معیشت کے مسائل مزید بڑھیں گے بلکہ مالی خسارہ بھی بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا سٹیٹ بینک آف پاکستان زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مارک اپ کی شرح 8 فیصد تک لائے۔ تاجروں اور صنعتکاروں نے شرح سود میں اضافے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ فائونڈری گروپ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔کراچی (نوائے وقت رپورٹ/ایجنسیاں) سٹیٹ بنک نے شرح سود میں نصف فیصد (0.5 فیصد) اضافہ کر دیا ہے جس سے اب شرح سود 10 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ سٹیٹ بنک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے گورنر سٹیٹ بنک یٰسین انور کی زیرصدارت اجلاس میں کیا۔ مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ افراط زر کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور آئندہ سال 2014ء کے ابتدائی چار ماہ میں افراط زر کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ افراط زر کی شرح میں تیزی سے اضافے کا یہ رجحان فوڈ اور نان فوڈ دونوں گروپس میں ہو گا۔ سٹیٹ بنک نے کہا ہے کہ سٹہ بازی  کے احساسات روپے کی قدر میں کمی  کا باعث  بنے مارکیٹ  میں سٹہ  بازی  جاری رہی  بیرونی  حسابات  میں بگاڑ کا سلسلہ جاری ہے، زرمبادلہ  کے ذخائر  میں ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ جاری کھاتوں  کا خسارہ  ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تھا۔  بیرونی  حسابات میں بگاڑ کی وجہ  رقوم کی کمزور آمد ہے۔  اکتوبر 2013ء میں اتحادی  سپورٹ  فنڈ کی پہلی قسط  مل گئی ہے۔  پہلی قسط  کی مد  میں 32 کروڑ  20 لاکھ ڈالر  کی رقم ملی۔  مہنگائی میں اضافے  کی شرح  ساڑھے  11 فیصد  رہنے کا امکان ہے۔  نجی ٹی وی  کے مطابق موجودہ صورتحال  میں  بنک سے قرضے لینا اور قرض واپس کرنا  مہنگا ہو گیا ہے۔ بنکوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ مرکزی بنک کے فیصلے کے بعد ڈسکائونٹ  ریٹ گیارہ ماہ  کے بعد ایک بار پھر دوہرے اعداد میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ پالیسی اعلان میں بھی بنیادی  شرح سود میں پچاس  بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا شرح سود میں اضافے کی ایک بڑی وجہ  مہنگائی کا بڑھنا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی کی شرح مزید  بڑھنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی شرح جو گزشتہ مالی سال کے اختتام  پر چھ فیصد سے کم ہو گئی تھی اب دس فیصد کے قریب ہے۔ مانیٹری پالیسی میں کہا گیا ہے آئی ایم ایف کو قرض ادائیگی کے باعث زر مبادلہ کے ذخائر میں1.3ارب ڈالر کمی آئی ہے، بجٹ خسارہ6.3فیصد سے کم کرنے کا انحصار امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی پر ہے،سٹاک مارکیٹوں میں سٹے بازی  بھی مسائل کا باعث ہے، مالی صورتحال بہتر بنانے کے لئے براہ راست ٹیکس کی شرح کو درست کرنا ہو گا، ٹیکس نیٹ میں اضافہ مشکل عمل ہے، حکومتی اصلاحات کے مثبت اثرات برآمد ہو رہے ہیں، زیر گردشی قرضوں کا مسئلہ حل ہونے سے بجلی کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور معاشی بحالی کے امکانات حوصلہ افزاء ہیں، برآمدات میں 1.3فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کوسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری مالیاتی پالیسی میں کہا گیا ہے بیرونی شعبے کے حوالے سے معاشی استحکام کی دشواریاں برقرار ہیں تاہم حالیہ پالیسی اور اصلاحی اقدامات  کے پس منظر میں آئندہ  معیشت کی مبادیات مستحکم معلوم ہوتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرانی  سے قطع نظر کامیاب سیاسی تبدیلی اور توانائی سے متعلق گردشی قرضے کے تصفیے کے نتیجے میں معاشی بحالی کے امکانات حوصلہ افزا ہیں۔ معیشت کو استحکام کے راستے  پر گامزن  رکھنے کے لئے مزید ساختی اصلاحات  جاری ہیں۔ اگرچہ ان کے اثرات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات کہنا قبل از وقت ہے تاہم معاشی سرگرمی میں تیزی  کے آثار ہیں۔ بڑے  پیمانے پر اشیا سازی کی نمو تیز ہوگئی ہے اور مالی سال 14ء کی پہلی سہ ماہی  کے دوران  اس میں 8.4 فیصد سال بسال کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح برآمدات کسی قدر بڑھی ہیں اور مالی سال 14ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران  ان میں 1.3 فیصد نمو ہوئی ہے۔ بیرونی حسابات میں بگاڑ کا سلسلہ مالی سال 2014ء میں بھی جاری ہے جس کا بڑا سبب رقوم کی کمزور آمد ہے۔ 2014ء کی پہلی سہ ماہی میں بیرونی  جاری کھاتے کا خسار ہ1.2 ارب ڈالر تھا جیسا کہ پچھلی سہ ماہی  میں دیکھا گیا تھا ۔ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات میں قدرے تیزی اس کا بڑا سبب ہے۔ مزید برآں، مالی کھاتے کے توازن میں رقوم کا خالص  اخراج 68 ملین ڈالر تھا۔آئی ایم ایف کو کی جانے والی بھاری ادائیگیوں کو شامل کرنے پر سٹیٹ بنک کے ذخائر میں پہلی سہ ماہی میں 1.3 ارب ڈالرکی کمی آئی ہے۔ یکم نومبر 2013ء کو سٹیٹ بنک کے ذخائر4.2 ارب ڈالر ہیں۔ ان بنیادوں عوامل کے علاوہ آئی ایم ایف کے آخر ستمبر2013ء کے  اہداف کی بنا پر سٹے بازانہ احساسات شرح مبادلہ کی تغیر پذیری پر منتج ہوئے۔ یہ احساسات زر مبادلہ کی آمدورفت کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا اظہار ہیں جو بیرونی حسابات میں دیر پا بہتری سے کم ہونے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں امکان ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے اصلاحات کے حصے پر پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی۔ مثال کے طورپر توانائی سے متعلق گردشی قرضے کا مسئلہ حل ہونے سے بجلی کی فراہمی بہتر ہوگئی ہے جو برآمدات کی نمو میں مدد گار ہوگی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ساختی بینچ مارکس کی کامیاب تکمیل سے دیگر بین الاقوامی مالی اداروں سے مالی رقوم کی آمد بھی یقینی ہوسکے گی۔ ایسی اصلاحات کی عدم موجودگی میں ردوبدل کا بوجھ  شرح سود اور شرح  مبادلہ پر غیر متناسب طورپر پڑتا ہے جس سے بازار میں سٹے بازانہ احساسات جاری رہ سکتے ہیں۔ معیشت کے لئے اصلاحات پر عملدرآمد  بے حد ضروری  ہے خصوصاً وہ اصلاحات جو مالیاتی استحکام سے متعلق ہیں۔ مثال کے طورپر براہ راست ٹیکسوں  کی بنیاد بڑھانے  اور ان کی شرحوں کو درست کرنے کے اقدامات محاصل کی وصولی  میں دیرپا توسیع کے لئے کلید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ تمام دیگر بالواسطہ ٹیکسوں سے برتر ہیں کیونکہ بالواسطہ ٹیکس نوعیت کے اعتبار سے تشکیلی ہوتے ہیں اور ان کے لئے معیشت میں زیادہ دستاویزات درکار ہوتی ہے۔ مانیٹری  پالیسی میں  کہا گیا ہے کہ  بازار کی شرح سود کو موجودہ سطح پر رکھتے ہوئے گرانی میں اضافے سے قرض گیری کی ترغیب بڑھ جائیگی،  معیشت میں بچت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس سے صرف کے ذریعے طلب کے دبائو میں کافی اضافے کے ساتھ سرمایہ کاری بھی کم ہوسکتی ہے،  اسکے نتیجے میں معیشت کی پیداواری استعداد گھٹ سکتی ہے۔  بیرونی رقوم کی آمد کے متعلق غیریقینی صورتحال کے باعث منفی حقیقی منافع زرمبادلہ کی بیرون ملک منتقلی کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے جس سے شرح مبادلہ پر دبائو بڑھے گا۔  بیرونی شعبے کے حوالے سے معاشی استحکام کی دشواریاں برقرار ہیں تاہم حالیہ پالیسی اور اصلاحی اقدامات کے پس منظر میں آئندہ معیشت کی مبادیات مستحکم معلوم ہوتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرانی سے  قطع نظر کامیاب سیاسی تبدیلی اور توانائی سے متعلق گردش قرضے کے تصیفے کے نتیجے میں معاشی مالی کے امکانات حوصلہ افزائیاں معیشت کو استحکام کے راستے پر گامزن رکھنے کیلئے مزید سالمی اصلاحات جاری ہیں۔ اگرچہ ان کے اثرات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات کہنا قبل از وقت ہے تاہم معاشی سرگرمی میں تیزی کے آثار ہیں۔ بڑے پیمانے پر اشیا سازی کی نمو تیز ہوگئی ہے۔  بجلی کے نرخوں پر نظرثانی سے زراعت گھٹانے میں مدد ملنے اور اس کے نتیجے میں دیگر اخراجات کیلئے مالیاتی گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم اس قسم کے مالیاتی استحکام کے اقدامات گرانی پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مقررہ قیمتوں میں ردو بدل کی عکاسی براہ راست بلند گرانی میں ہوتی ہے اور اس سے گرانی کی توقعات بڑھتی ہیں جیسا کہ گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت کے حالیہ رجحانات سے ظاہر ہے۔ 13ء میں خاصی کمی کے بعد گرانی کا دبائو دوبارہ ابھر رہا ہے جس کی عکاسی سال14کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران گرانی کے تیزی سے بڑھنے سے ہوتی ہے۔ اس رجحان میں غذائی وغیرغذائی دونوں گروپوں کا کردار ہے تاہم غذائی گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت قدرے زیادہ بلند ہے۔ اگر یہ دونوں رجحانات جاری ہے تو گرانی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت بلند سطح پر یعنی 10.5سے11.5فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ بازار کی شرح سود کو موجودہ سطح پر رکھتے ہوئے گرانی میں اضافے سے قرض گیری کی ترغیب بڑھ جائیگی اور معیشت میں بچت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اس سے صرف کے ذریعے طلب کے دبائو میں کافی اضافہ کے ساتھ سرمایہ کاری بھی کم ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں معیشت کی پیداواری استعداد گھٹ سکتی ہے۔  بیرونی رقوم کی آمد کے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث منفی حقیقی منافع زرمبادلہ کی بیرون ملک منتقلی کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے جس سے شرح مبادلہ پر دبائو بڑھے گا۔ اس  بحث کی روشنی میں سٹیٹ بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹر ز نے پالیسی ریٹ کو 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 18 نومبر 2013ء سے موثر ہوگا۔