سرتاج عزیز کی بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات

14 نومبر 2013

نئی دہلی (آن لائن+ نیٹ نیوز+ اے این این) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے ترجمان نے بتایا ہے کہ منموہن سنگھ کی رہائشگاہ پر ہونیوالی اس ملاقات میں پاکستانی ہائی کمشنر سلمان بشیر بھی موجود تھے جس میں دہشت گردی، خطے کی مجموعی صورتحال، مسئلہ کشمیر ، جامع مذاکرات کی بحالی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سرتاج عزیز نے منموہن سنگھ کو میاں نوازشریف کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ اچھے پڑوسیوں کی طرح خوشگوار تعلقات اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرکے خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ سرتاج عزیز نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی بحالی کیلئے بھی اقدامات کئے جائینگے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں  ہونیوالے سیز معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان معاہدہ لاہور کو آگے بڑھانے کیلئے جامع مذاکراتی عمل فوری طور پر بحال کرنے کا خواہاں ہے۔ بات چیت میں کنٹرول لائن پر کشیدگی اور دہشت گردی سے متعلق معاملات بھی زیرغور آئے۔ سرتاج عزیز نے منموہن سنگھ کو وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے نیک خواہشات اور بہتر تعلقات کا پیغام پہنچایا جس پر بھارتی وزیراعظم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے نوازشریف کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ ملاقات میں جامع مذاکرات کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کیلئے دونوں فوجوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) ’دو تین ہفتوں کے اندر’ ملاقات کریں گے۔ آئندہ منگل دونوں ڈی جی ایم او یہ طے کریں گے کہ ملاقات کہاں اور کب ہو۔ یہ ملاقات دو تین ہفتوں میں ہوجانی چاہئے۔ دونوں ملکوں کے وزرا اعظم نے نیویارک میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ باہمی مذاکرات میں پیشرفت کیلئے لائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی ضروری ہے جس کے کا طریقہ کار دونوں فوجوں کے ڈی جی ایم او وضع کریں گے لیکن ڈیڑھ مہینہ گزر جانے کے باوجود اس تجویز کو عملی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔ بھارتی قیادت سے ملاقاتوں میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم 2003ء کے سیز فائر معاہدے پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا چاہتے ہیں اور بجلی کی خرید اور تجارت کو فروغ دینے کیلئے جو بات چیت چل رہی تھی، وہ بھی جاری رہے۔ سرتاج عزیز نے اس تاثر کو رد کیا کہ کشمیری رہنماؤں سے انکی ملاقات کا بھارتی وزیر خارجہ سے انکی بات چیت پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں جب بھی کوئی پاکستانی وزیر خارجہ دہلی آیا ہے تو اس نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انکی رائے معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔ حریت پسند رہنماؤں سے سرتاج عزیز کی ملاقات پر بھارت میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ وہ سرحد پار سے آنے والے بزرگ رہنما کو صلاح تو نہیں دینا چاہتے لیکن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت کی سوچ اور احساسات کا احترام کیا جانا چاہئے۔