امریکی شہید نہیں تو اس کے ایجنڈے پر کام کرنے بھی شہید نہیں ۔ منور حسن

14 نومبر 2013

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ثناء نیوز ) امیر جماعت اسلامی  منور حسن نے کہا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور سو ارب ڈالر کے معاشی نقصان کے باوجود حکومت امریکی میزبانی جاری رکھے ہوئے ہے، حکمران ہرحال میں امریکہ کی مدد جبکہ عوام نیٹو سپلائی اور ڈرون حملے بند دیکھنا چاہتے ہیں، عوام حکمرانوں کی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی اب تک صفر جمع صفر سے آگے نہیں بڑھ سکی، لوگ غربت مہنگائی، بے روز گاری اور کرپشن کا رونا روتے ہیں تو حکومت قومی اداروں کی نجکاری کی باتیں شروع کردیتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ آڈیٹوریم میں  شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ منور حسن نے کہا کہ  عالم اسلام کے حکمران امریکہ کے سامنے سجدہ ریز جبکہ عالمی اسلامی تحریکیں امت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ دشمن قوتیںہماری وحدت اور یکجہتی کو ختم کرنے کے درپے ہیں ان حالات میں ضروری ہے کہ امت واحدہ کے تصور کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلا م اور امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر کے درمیان عالمی جنگ جاری ہے۔ عالمی میڈیا پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اس لئے ابھی تک دنیا کو افغانستان  میں امریکہ کی عبرت ناک شکست کا پوری طرح پتہ نہیں چلا۔ سزائے موت کو ختم کرنے کی تحریکیں چلانے والے عالمی سامراج  نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ضعیف رہنمائوں کو دی جانے والی موت کی سزائوں پر چپ سادھ لی ہے۔ سید منور حسن نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ساری پالیسیوں کا مرکز و محور ہی یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو قرضوں کے چکر میں پھنسا کر مسلمانوں کی آزادی اور خود مختاری سلب کرلی جائے۔ ثناء نیوز کے مطابق ایک انٹرویو میں  منور حسن نے کہا ہے کہ اگر امریکی شہید نہیں ہیں تو اس کے ایجنڈے پر کام کرنے اور چلنے والے بھی شہید نہیں ہیں۔ بیت اللہ محسود کی ہلاکت ماورائے عدالت ہے،  ضیاء الحق ڈکٹیٹر تھا ہمارے سب حکمران امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ایجنٹ ہونے میں مشرف 10 قدم آگے تھے۔ منور حسن نے کہا کہ میں کسی اسامہ کو نہیں جانتا میرے نزدیک یہ افسانوی ادب ہے۔ اسے زندہ رکھنا اس کے اور اس کے بیانات کو جاری رکھنا یہ امریکہ کی ضرورت ہے ۔ ایک سوال پر سید منور حسن نے کہا کہ صوفی محمد کا جرم یہ ہے کہ اس نے آئین کے خلاف بات کی اور آج بھی جیل میں ہے ۔ پرویز مشرف نے 2 مرتبہ آئین توڑا تو بڑے آرام سے انہیں آزاد کر دیا گیا اس معیار کے ساتھ آدمی طالبان کو کیسے سپورٹ نہ کرے ۔ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوتے تو موجودہ حالات پیدا نہ ہوتے مذاکرات نتیجہ خیز ہوتے جو لوگ مذاکرات نہیں چاہتے تھے انہوں نے حالات اس نہج پر پہنچائے۔ ہماری ایجنسیاں سارے کام کرتی ہیں لوگوں کو پالتی پوستی بھی ہیں اور ان کی مخالفت بھی کرتی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ثبوت کے بغیر کسی کو مجرم نہیں کہا جا سکتا۔ جب تک اس خطے میں امریکی فوج رہے گی انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی جب تک حکومت اور فوج اپنے ذمے اصل کام  کو سرانجام نہیں دیں گے لوگ ردعمل کا شکار ہوں گے۔