کراچی / فائرنگ کے واقعات ۔ کمسن بچی سمیت 5 افراد ہلاک، امام بارگاہ کے قریب دو بم دھماکوں میں 18 افراد زخمی

14 نومبر 2013

کراچی (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) کراچی کے مختلف علاقوں میں بدھ کو فائرنگ کے واقعات میں کمسن بچی سمیت 5 افراد ہلاک، امام بارگاہ کے قریب دو بم دھماکوں میں 18 افراد شدید زخمی جبکہ ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 3 مشتبہ طالبان مارے گئے، رینجرز اہلکار شہید ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق کالاپل کے نزدیک مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص معروف عرف ہارون کو ہلاک اور اس کے ساتھی ذوالفقار کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مقتول معروف عرف ہارون منشیات فروش فاروق لالہ کا بھائی تھا۔ فاروق لالہ کی گرفتاری کے بعد مقتول معروف ہارون منشیات کا اڈہ چلا رہا تھا اور اس کے قتل میں مخالف گروپ کے افراد ملوث ہیں ادھر لیاری میں جونا مسجد کے نزدیک نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کمسن بچی 5 سالہ نادیہ نے دم توڑ دیا جبکہ پی آئی بی  کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار افراد نے 29سالہ عامر کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔ مزید برآں اورنگی ٹائون نمبر پانچ میں بدھ کی شب موٹر سائیکل  سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار عامر ہلاک اور ایک شخص عمیر زخمی ہوگیا۔ دریں اثناء قائد آباد کے علاقے گلشن بونیر میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک سپاہی علی اکبر شہید دوسرا زخمی جبکہ رینجرز کی جوابی فائرنگ سے تین مشتبہ طالبان مارے گئے اور دستی بموں سمیت بھاری اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔  دوسری طرف قائد آباد ہی کے علاقے میں حساس اداروں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کراچی کے امیر شہاب اللہ سمیت چار دہشت گردوں کو گرفتار کرکے بارود  بھری ایمبولینس‘ چار موٹر سائیکلیں اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا۔ گلشن بونیر میں مارے جانے والے تینوں دہشت گردوں عامراللہ محسود‘ فرمان خان اور ضیاء اللہ کا تعلق بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور رینجرز کے مطابق وہ یوم عاشور پر کراچی میں تخریب کاری کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ملزم عامر اللہ محسود قائد آباد میں امام بارگاہ پر بم کے حملے سمیت دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔ ذرائع کے مطابق جس ایمبولینس میں بارودی  مواد نصب کیا گیا تھا وہ چند روز قبل چھینی گئی تھی۔ اسی طرح رات گئے نارتھ ناظم آباد کے علاقے پہاڑ گنج میں دو دھماکوں میں کمسن بچے سمیت 17افراد زخمی ہوگئے اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار ملزمان نے دستی بم پہاڑ گنج میں امام بارگاہ کے نزدیک پھینکا اور اس کے بعد فرار ہوگئے۔ دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس اور کشیدگی پھیل گئی جبکہ پولیس نے سیکورٹی مزید سخت کر دی۔ پہلے دھماکے کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کاعملہ امام بارگاہ کے قریب تلاشی لے رہا تھا کہ اچانک دوسرا دھماکہ ہوگیا جس میں 17افراد زخمی ہوگئے‘ جس میں سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس اور رینجرزکے 5 اہلکار، وقت نیوز ٹی وی کے رپورٹر رضا عابدی، کیمرہ مین دانش، نجی ٹی وی کے دو رپورٹر اور کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔ بھی شامل ہیں‘ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں آدھا کلو وزنی دھماکہ خیزمواد استعمال کیا گیا۔ زخمیوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ دھماکے سے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، علاقہ لرز اٹھا۔ رات گئے نارتھ کراچی سیکٹر 11-B میں امام بارگاہ کے باہر دستی بم حملے میں 2پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ڈی آئی جی کے مطابق دھماکے کے وقت کوئی مجلس نہیں ہورہی تھی۔