پنجاب ۔ 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ۔۔ صوبوں کی مشاورت سے نیا شیڈول جاری کیا جائے گا

14 نومبر 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کی بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں میں توسیع کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا شیڈول منظور کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ الیکشن کمشن اس معاملے پر صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرے۔ سپریم کورٹ کوئی آبزرویشن نہیں دے گی‘ آئین کے آرٹیکل 32 اور 140 اے کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے‘ آئین کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیا۔ نئے شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کی اجازت دے دی ہے جس کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 30 جنوری‘ سندھ میں 18 جنوری، بلوچستان میں 7 دسمبر اور خیبر پی کے اور کنٹونمنٹ ایریاز میں فروری میں ہونگے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ آئین کے تحت کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘ بلدیاتی اداروں کی تحلیل کے بعد انتخابات نہیں کرائے گئے‘ عوام کو اختیار دینے سے متعلق آئینی شقوں پر عمل یقینی بنایا جائے‘ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں 18 سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے‘ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے خود تاریخیں نہیں دیں بلکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی درخواست پر تاریخیں مقرر ہوئیں، آئین کا اس کی روح کے مطابق نفاذ ہمارا فرض ہے لیکن بدقسمتی سے ہر کوئی اس میں تاخیر کر رہا ہے، انتخابات کا انعقاد ممکن بنانا الیکشن کمشن کا کام ہے لیکن وہ کبھی بال سپریم کورٹ اور کبھی صوبوں کی کورٹ میں پھینکتا ہے۔ صوبہ سندھ نے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں میں تبدیلی کرنے کیلئے درخواست دی ہے۔ الیکشن کمشن بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں ردوبدل کیلئے سپریم کورٹ کو خط عدالت نے متفرق درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے اسے سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل، سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمشن نے بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول دیا ہے اور اس سلسلے میں صوبے الیکشن کمشن کے ساتھ بیٹھ کر حتمی تاریخ طے کریں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے خود تاریخیں نہیں دیں بلکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی درخواست پر تاریخیں مقرر ہوئیں، ملک میں آئین کا اس کی روح کے مطابق نفاذ ہمارا فرض ہے لیکن بدقسمتی سے ہر کوئی اس میں تاخیر کر رہا ہے، انتخابات کا انعقاد ممکن بنانا الیکشن کمشن کا کام ہے لیکن وہ کبھی بال سپریم کورٹ اور کبھی صوبوں کی کورٹ میں پھینکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اپنے دلائل میں کہا کہ سندھ میں 27 نومبر کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے، اس سلسلے میں وہ کوئی بہانے کے بجائے زمینی حقیقت بتا رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ پہلے ہی بہت زیادہ مشکلات دیکھ چکے ہیں، ہمیں اب آئین پر عمل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے درخواست نمٹاتے ہوئے الیکشن کمشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے دیا گیا نیا شیڈول منظور کر کے درخواست نمٹا دی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ الیکشن کمشن اور صوبائی حکومتیں مل کر بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طے کریں‘ سپریم کورٹ کوئی آبزرویشن نہیں دے گی‘ آئین کے آرٹیکل 32 اور 140 اے کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے‘ آئین کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیا۔ نئے شیڈول کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 30 جنوری‘ سندھ میں 18 جنوری بلوچستان میں 7 دسمبر ا ور خیبر پی کے اور کنٹونمنٹ ایریاز میں بلدیاتی انتخابات فروری میں ہونگے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی جانب سے ڈی جی الیکشن کمشن شیر افگن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فنی مسائل کی وجہ سے سندھ اور پنجاب میں 7 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں تاہم سندھ میں 18 جنوری اور پنجاب میں 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، خیبر پی کے اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں فروری میں انتخابات ممکن ہیں، بلوچستان میں انتخابات 7 دسمبر کو شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ اسلام آباد (خبر نگار + نوائے وقت رپورٹ + اے پی پی) سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمشن نے پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کر دیا ہے، بلوچستان میں انتخابات پہلے سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق ہی ہونگے جبکہ سندھ میں 18 جنوری، پنجاب میں 30 جنوری اور خیبر پی کے، کنٹونمنٹ اور اسلام آباد میں انتخابات فروری 2014ء میں کرائے جائیں گے، تمام امیدواروں کو کاغذات نامزدگی دوبارہ جمع کرانے ہونگے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کو بیلٹ پیپرز اور مقناطیسی سیاہی کے تیاری سمیت صوبوں کی طرف سے قانون اور رولز تیار نہ ہونے کے بارے میں بتایا، پنجاب اور سندھ میں انتخابات کے لئے بالترتیب 30 اور 18 جنوری کی تاریخیں تجویز کیں جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کی طرف سے دی گئی تاریخیں تسلیم کیں اور فیصلے میں لکھا کہ نظر آرہا ہے الیکشن کمشن اور صوبے انتخابات کرانے میں سنجیدہ ہیں اس لئے الیکشن کمشن کی طرف سے دی جانے والی نئی تاریخیں پر الیکشن کرائے جائیں۔ سیکرٹری نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گذشتہ چند دنوں سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جس کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اختتام ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں صوبوں کی طرف سے تجویز دی گئی تاریخوں کے مطابق ہی دی تھیں اور الیکشن کمشن نے اسی کے مطابق شیڈول جاری کیا تھا، الیکشن کمشن پہلے ہی کہتا رہا کہ ان تاریخوں میں الیکشن کرانا ممکن نہیں، سندھ اور پنجاب میں قانون سازی ہونا ہیں انتخابی رولز بننے ہیں جبکہ سندھ میں ابھی تک حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے، جب الیکشن کمشن نے شیڈول جاری کر دیا تو صوبائی حکومتوں سمیت دیگر تیاریوں کے حوالے سے مشکلات شروع ہو گئیں، جس پر الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا اور بتایا کہ بیلٹ پیپرز کی تیاری کے لئے پرنٹنگ کارپوریشن اور مقناطیسی سیاہی کے لئے پی سی ایس آئی آر نے مقرر مدت کے اندر کام سے معذرت کر لی ہے، اسی طرح نادرا نے بھی قلیل مدت کے اندر انتخابی فہرستیں تیار کرنے سے معذوری ظاہر کی، ان حالات میں گذشتہ روز الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کو نئی تاریخیں تجویز کیں جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کی تمام مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات تسلیم کیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے شیڈول کے مطابق انتخابات کرائے جائیں گے، بلوچستان حکومت کی اس حوالے سے تیاری مکمل ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے لئے بہت محنت کی۔ پنجاب اور سندھ میں جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دئیے ہیں انہیں نامزدگی فارم دوبارہ داخل کرانے ہونگے، جن لوگوں نے فیس جمع کرا دی ہے انہیں فیس دوبارہ جمع نہیں کرانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ محرم کی دو چھٹیوں کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہونے تک الیکشن کمشن کے تمام عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، بلدیاتی انتخابات کا آغاز ہو چکا ہے۔ الیکشن کمشن کے ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے التوا اور نئی تاریخوں کے بارے میں الیکشن کمشن کی استدعا منظور ہونے کے بعد الیکشن کمشن نے پنجاب اور سندھ کیلئے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول منسوخ کر دیا ہے۔ نیا شیڈول سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ کی کاپی موصول ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد اسے الیکشن کمشن کے سامنے رکھا جائے گا اور جائزے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا عمل آگے بڑھے گا۔ نئے شیڈول کا اعلان سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں الیکشن کمشن نے بلدیاتی انتخابات کیلئے پنجاب میں 30 جنوری، سندھ میں 18 جنوری تک مہلت طلب کی تھی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد 7 دسمبر کو شیڈول کے مطابق ہونے کی توقع ہے۔ سندھ، پنجاب اور خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول 19 نومبر کو کمشن کے اجلاس میں تینوں صوبوں نادرا، پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان اور پی سی ایس آئی آر کے ساتھ مشاورت کے بعد جاری کیا جائے گا۔ کمشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی۔ یہ غیر یقینی صورتحال دو صوبوں پنجاب اور سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی تاریخوں کے مطابق شیڈول جاری کرنے سے پیدا ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے انہی تاریخوں کے مطابق الیکشن کمشن کو شیڈول جاری کرنے کے احکامات جاری کئے تھے تاہم الیکشن کمشن نے شیڈول جاری کرتے وقت اس خدشے کا اظہار کر دیا تھا کہ شیڈول کے مطابق انتخابات کی تیاریاں اور انتظامات ممکن دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ دونوں صوبوں نے قانون سازی، حلقہ بندیوں کے حوالے سے مذکورہ ٹائم فریم کے اندر انتظامات ناممکن قرار دیئے تھے، پرنٹنگ کارپوریشن نے بیلٹ پیپرز کی چھپوائی اور پی سی ایس آئی آر نے مقناطیسی سیاہی کے پیڈ مقررہ مدت کے اندر فراہم کر نے سے معذرت ظاہر کی تھی۔ بلوچستان کی حکومت نے اپنی طرف سے دی گئی تاریخ کے مطابق تمام انتظامات مکمل کر لئے وہاں خوش اسلوبی سے انتخابی عمل جاری ہے۔ صوبوں اور متعلقہ اداروں کی مشکلات دیکھتے ہوئے الیکشن کمشن نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رابطہ کیا اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمشن نے سپریم کورٹ کو 18 جنوری کو سندھ اور 30 جنوری کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کی مجوزہ تاریخیں بھی جمع کرائیں، سپریم کورٹ نے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد نیا شیڈول جاری کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم سپریم کورٹ کے شکرگزار ہیں کہ معزز ججوں نے ہماری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا مؤقف تسلیم کیا۔ الیکشن کمشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ انتظامات سے لگتا ہے کہ صوبائی حکومتیں اور الیکشن کمشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کمٹڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں جاری کئے گئے کاغذات نامزدگی کے فارم منسوخ ہوں گے نئی تاریخوں کے مطابق ہو نے والے انتخابات کے لئے نئے نامزدگی فارم جاری کئے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 19 نومبر کو الیکشن کمشن کا اہم اجلاس بلا لیا گیا ہے جس میں تینوں صوبائی حکومتوں سمیت وزارت داخلہ، وزارت دفاع، نادرا، پرنٹنگ کارپوریشن، پی سی ایس آئی آر اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کو طلب کر لیا گیا ہے۔ آئین کے تحت تمام وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمشن کی معاونت کریں۔ ان تمام اداروں کے سربراہوں کو کمشن کی طرف سے خطوط جاری کر دیئے گئے بالخصوص پرنٹنگ کارپوریشن اور پی سی ایس آئی آر کو کہا گیا ہے کہ وہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور مقناطیسی پیڈوں کی فراہمی کے حوالے سے واضح ٹائم لائن کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں۔ اسی طرح دیگر اداروں کو بھی اپنے اپنے ایکشن پلان بنا کر لانے کے لئے کہا گیا ہے تا کہ کمشن اسی روز تینوں صوبوں اورکنٹونمنٹس سمیت وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا شیڈول جاری کر سکے۔ 25 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کمشن نے اپنے تمام ملازمین کی چھٹیاں اور ہفتہ وار تعطیلات منسوخ کر دی تھیں الیکشن کے انعقاد تک یہ تعطیلات منسوخ رہیں گی تاہم 9 اور 10 محرم الحرام کو الیکشن کمشن میں محرم کی تعطیلات ہوں گی۔ قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی قراردادیں عوامی رائے کا اظہار ہے، ہم ان کا احترام کرتے ہیں لیکن ان قراردادوں میں مارچ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے الفاظ درج نہیں۔ صوبہ خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخیں نہ دینے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے قانون سازی، حلقہ بندیوں اور دیگر تیاریوں کے حوالے سے وقت مانگا تھا۔ خیبر پی کے حکومت کو بھی 19 نومبر کے اجلاس میں بلا لیا گیا ہے وہ بھی اپنا پلان آف ایکشن تیار کر کے لائیں گے جس کے بعد صوبے میں فروری کی کسی تاریخ کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت بلدیاتی انتخابات کے انتظامات اور نگرانی الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن شیڈول جاری کرنا بھی صوبوں کا نہیں کمشن کا اختیار ہے تاہم اس حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت ضروری ہے اور کمشن نے صوبوں کے ساتھ مشاورت کا عمل پچھلے کئی ماہ سے جاری رکھا ہوا ہے۔ دریں اثناء الیکشن کمشن نے صوبوں سے مشاورت کے لئے 19 نومبر کو اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق صوبوں سے مشاورت کے بعد بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔